Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن ابن سيرين، وخلاس، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله او نحوه . قال وفي الباب عن ابي سعيد وام اسحاق الغنوية . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق . وقال مالك بن انس اذا اكل في رمضان ناسيا فعليه القضاء . والقول الاول اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر کسی شرعی رخصت اور بغیر کسی بیماری کے رمضان کا کوئی روزہ نہیں رکھا تو پورے سال کا روزہ بھی اس کو پورا نہیں کر پائے گا چاہے وہ پورے سال روزے سے رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوالمطوس کا نام یزید بن مطوس ہے اور اس کے علاوہ مجھے ان کی کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، حدثنا ابو المطوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افطر يوما من رمضان من غير رخصة ولا مرض لم يقض عنه صوم الدهر كله وان صامه " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة لا نعرفه الا من هذا الوجه . وسمعت محمدا يقول ابو المطوس اسمه يزيد بن المطوس ولا اعرف له غير هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟“ اس نے عرض کیا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم ایک غلام یا لونڈی آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے پوچھا: ”کیا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ تو وہ بیٹھ گیا۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا ٹوکرہ لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: ”اسے لے جا کر صدقہ کر دو“، اس نے عرض کیا: ان دونوں ملے ہوئے علاقوں کے درمیان کی بستی ( یعنی مدینہ میں ) مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے ساتھ والے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، عائشہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں جو رمضان میں جان بوجھ کر بیوی سے جماع کر کے روزہ توڑ دے، اسی حدیث پر عمل ہے، ۴- اور جو جان بوجھ کر کھا پی کر روزہ توڑے، تو اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: اس پر روزے کی قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہے، ان لوگوں نے کھانے پینے کو جماع کے مشابہ قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں: اس پر صرف روزے کی قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کفارہ مذکور ہے وہ جماع سے متعلق ہے، کھانے پینے کے بارے میں آپ سے کفارہ مذکور نہیں ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ہے۔ یہ شافعی اور احمد کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص سے جس نے روزہ توڑ دیا، اور آپ نے اس پر صدقہ کیا یہ کہنا کہ ”اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“، کئی باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک احتمال یہ بھی ہے کہ کفارہ اس شخص پر ہو گا جو اس پر قادر ہو، اور یہ ایسا شخص تھا جسے کفارہ دینے کی قدرت نہیں تھی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دیا اور وہ اس کا مالک ہو گیا تو اس آدمی نے عرض کیا: ہم سے زیادہ اس کا کوئی محتاج نہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“، اس لیے کہ روزانہ کی خوراک سے بچنے کے بعد ہی کفارہ لازم آتا ہے، تو جو اس طرح کی صورت حال سے گزر رہا ہو اس کے لیے شافعی نے اسی بات کو پسند کیا ہے کہ وہی اسے کھا لے اور کفارہ اس پر فرض رہے گا، جب کبھی وہ مالدار ہو گا تو کفارہ ادا کرے گا۔
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔ ۳- اسی حدیث پر اہل علم کا عمل ہے۔ یہ لوگ روزہ دار کے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ۱؎ سمجھتے، البتہ بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے تازی لکڑی کی مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے، اور دن کے آخری حصہ میں بھی مسواک کو مکروہ کہا ہے۔ لیکن شافعی دن کے شروع یا آخری کسی بھی حصہ میں مسواک کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ نے دن کے آخری حصہ میں مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ما لا احصي يتسوك وهو صايم . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث عامر بن ربيعة حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون بالسواك للصايم باسا الا ان بعض اهل العلم كرهوا السواك للصايم بالعود الرطب وكرهوا له السواك اخر النهار ولم ير الشافعي بالسواك باسا اول النهار ولا اخره وكره احمد واسحاق السواك اخر النهار
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: میری آنکھ آ گئی ہے، کیا میں سرمہ لگا لوں، میں روزے سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ ( لگا لو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی چیز صحیح نہیں، ۳- ابوعاتکہ ضعیف قرار دیے جاتے ہیں، ۴- اس باب میں ابورافع سے بھی روایت ہے، ۵- صائم کے سرمہ لگانے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ قرار دیا ہے ۱؎ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے اور بعض اہل علم نے روزہ دار کو سرمہ لگانے کی رخصت دی ہے اور یہ شافعی کا قول ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن واصل الكوفي، حدثنا الحسن بن عطية، حدثنا ابو عاتكة، عن انس بن مالك، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اشتكت عيني افاكتحل وانا صايم قال " نعم " . قال وفي الباب عن ابي رافع . قال ابو عيسى حديث انس حديث ليس اسناده بالقوي ولا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب شيء . وابو عاتكة يضعف . واختلف اهل العلم في الكحل للصايم فكرهه بعضهم وهو قول سفيان وابن المبارك واحمد واسحاق . ورخص بعض اهل العلم في الكحل للصايم وهو قول الشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ صیام ( رمضان ) میں بوسہ لیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، حفصہ، ابو سعید خدری، ام سلمہ، ابن عباس، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صائم کے بوسہ لینے کے سلسلے میں صحابہ کرام وغیرہم کا اختلاف ہے۔ بعض صحابہ نے بوڑھے کے لیے بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ اور نوجوانوں کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر رخصت نہیں دی کہ اس کا صوم محفوظ و مامون نہیں رہ سکے گا۔ جماع ان کے نزدیک زیادہ سخت چیز ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے: بوسہ اجر کم کر دیتا ہے لیکن اس سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا، ان کا خیال ہے کہ روزہ دار کو اگر اپنے نفس پر قابو ( کنٹرول ) ہو تو وہ بوسہ لے سکتا ہے اور جب وہ اپنے آپ پر کنٹرول نہ رکھ سکے تو بوسہ نہ لے تاکہ اس کا روزہ محفوظ و مامون رہے۔ یہ سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
حدثنا هناد، وقتيبة، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن زياد بن علاقة، عن عمرو بن ميمون، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل في شهر الصوم . قال وفي الباب عن عمر بن الخطاب وحفصة وابي سعيد وام سلمة وابن عباس وانس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في القبلة للصايم فرخص بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في القبلة للشيخ ولم يرخصوا للشاب مخافة ان لا يسلم له صومه والمباشرة عندهم اشد . وقد قال بعض اهل العلم القبلة تنقص الاجر ولا تفطر الصايم . وراوا ان للصايم اذا ملك نفسه ان يقبل واذا لم يامن على نفسه ترك القبلة ليسلم له صومه . وهو قول سفيان الثوري والشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مجھ سے بوس و کنار کرتے تھے، آپ اپنی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي ميسرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يباشرني وهو صايم وكان املككم لاربه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور اپنی بیویوں کے ساتھ لپٹ کر لیٹتے تھے، آپ اپنی جنسی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «لإربه» کے معنی «لنفسه» ”اپنے نفس پر“ کے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر وهو صايم وكان املككم لاربه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو ميسرة اسمه عمرو بن شرحبيل . ومعنى لاربه لنفسه
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے کی نیت فجر سے پہلے نہیں کر لی، اس کا روزہ نہیں ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، نیز اسے نافع سے بھی روایت کیا گیا ہے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور اسے ابن عمر ہی کا قول قرار دیا ہے، اس کا موقوف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اور اسی طرح یہ حدیث زہری سے بھی موقوفاً مروی ہے، ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع کیا ہے یحییٰ بن ایوب کے سوا، ۲- اس کا معنی اہل علم کے نزدیک صرف یہ ہے کہ اس کا روزہ نہیں ہوتا، جو رمضان میں یا رمضان کی قضاء میں یا نذر کے روزے میں روزے کی نیت طلوع فجر سے پہلے نہیں کرتا۔ اگر اس نے رات میں نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہوا، البتہ نفل روزے میں اس کے لیے صبح ہو جانے کے بعد بھی روزے کی نیت کرنا مباح ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا ابن ابي مريم، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن حفصة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له " . قال ابو عيسى حديث حفصة حديث لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . وقد روي عن نافع عن ابن عمر قوله وهو اصح وهكذا ايضا روي هذا الحديث عن الزهري موقوفا ولا نعلم احدا رفعه الا يحيى بن ايوب . وانما معنى هذا عند اهل العلم لا صيام لمن لم يجمع الصيام قبل طلوع الفجر في رمضان او في قضاء رمضان او في صيام نذر اذا لم ينوه من الليل لم يجزه واما صيام التطوع فمباح له ان ينويه بعد ما اصبح وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا۔ پھر میں نے عرض کیا: میں نے گناہ کا کام کر لیا ہے۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی؟“ عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابو سعید خدری اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن ابن ام هاني، عن ام هاني، قالت كنت قاعدة عند النبي صلى الله عليه وسلم فاتي بشراب فشرب منه ثم ناولني فشربت منه فقلت اني اذنبت فاستغفر لي . فقال " وما ذاك " . قالت كنت صايمة فافطرت . فقال " امن قضاء كنت تقضينه " . قالت لا . قال " فلا يضرك " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وعايشة
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے“۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، قال كنت اسمع سماك بن حرب يقول احد ابنى ام هاني حدثني فلقيت، انا افضلهما، وكان، اسمه جعدة وكانت ام هاني جدته فحدثني عن جدته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها فدعى بشراب فشرب ثم ناولها فشربت فقالت يا رسول الله اما اني كنت صايمة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصايم المتطوع امين نفسه ان شاء صام وان شاء افطر " . قال شعبة فقلت له اانت سمعت هذا من ام هاني قال لا اخبرني ابو صالح واهلنا عن ام هاني . وروى حماد بن سلمة هذا الحديث عن سماك بن حرب فقال عن هارون ابن بنت ام هاني عن ام هاني . ورواية شعبة احسن . هكذا حدثنا محمود بن غيلان عن ابي داود فقال " امين نفسه " . وحدثنا غير محمود عن ابي داود فقال " امير نفسه او امين نفسه " . على الشك وهكذا روي من غير وجه عن شعبة " امين او امير نفسه " على الشك . قال وحديث ام هاني في اسناده مقال . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الصايم المتطوع اذا افطر فلا قضاء عليه الا ان يحب ان يقضيه . وهو قول سفيان الثوري واحمد واسحاق والشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”تو میں روزے سے ہوں“۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن طلحة بن يحيى، عن عمته، عايشة بنت طلحة عن عايشة ام المومنين، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " هل عندكم شيء " . قالت قلت لا . قال " فاني صايم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے تو پوچھتے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی: نہیں۔ تو آپ فرماتے: ”تو میں روزے سے ہوں“، ایک دن آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہے۔ آپ نے پوچھا: ”کیا چیز ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”حیس“، آپ نے فرمایا: ”میں صبح سے روزے سے ہوں“، پھر آپ نے کھا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، عن سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتيني فيقول " اعندك غداء " . فاقول لا . فيقول " اني صايم " . قالت فاتاني يوما فقلت يا رسول الله انه قد اهديت لنا هدية . قال " وما هي " . قالت قلت حيس . قال " اما اني قد اصبحت صايما " . قالت ثم اكل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اور حفصہ دونوں روزے سے تھیں، ہمارے پاس کھانے کی ایک چیز آئی جس کی ہمیں رغبت ہوئی، تو ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، تو حفصہ مجھ سے سبقت کر گئیں – وہ اپنے باپ ہی کی بیٹی تو تھیں – انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم لوگ روزے سے تھے۔ ہمارے سامنے کھانا آ گیا، تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اسے کھا لیا، آپ نے فرمایا: ”تم دونوں کسی اور دن اس کی قضاء کر لینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صالح بن ابی اخضر اور محمد بن ابی حفصہ نے یہ حدیث بسند «زہری عن عروہ عن عائشہ» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اسے مالک بن انس، معمر، عبیداللہ بن عمر، زیاد بن سعد اور دوسرے کئی حفاظ نے بسند «الزہری عن عائشہ» مرسلاً روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عروہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ ابن جریج سے مروی ہے کہ میں نے زہری سے پوچھا: کیا آپ سے اسے عروہ نے بیان کیا اور عروہ سے عائشہ نے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اس سلسلے میں عروہ سے کوئی چیز نہیں سنی ہے۔ میں نے سلیمان بن عبدالملک کے عہد خلافت میں بعض ایسے لوگوں سے سنا ہے جنہوں نے ایسے شخص سے روایت کی ہے جس نے اس حدیث کے بارے میں عائشہ سے پوچھا، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی نفل روزہ توڑ دے تو اس پر قضاء لازم ہے ۱؎ مالک بن انس کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن برقان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كنت انا وحفصة، صايمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فاكلنا منه فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فبدرتني اليه حفصة وكانت ابنة ابيها فقالت يا رسول الله انا كنا صايمتين فعرض لنا طعام اشتهيناه فاكلنا منه . قال " اقضيا يوما اخر مكانه " . قال ابو عيسى وروى صالح بن ابي الاخضر ومحمد بن ابي حفصة هذا الحديث عن الزهري عن عروة عن عايشة مثل هذا . ورواه مالك بن انس ومعمر وعبيد الله بن عمر وزياد بن سعد وغير واحد من الحفاظ عن الزهري عن عايشة مرسلا . ولم يذكروا فيه عن عروة وهذا اصح . لانه روي عن ابن جريج، قال سالت الزهري قلت له احدثك عروة عن عايشة قال لم اسمع من عروة في هذا شييا ولكني سمعت في خلافة سليمان بن عبد الملك من ناس عن بعض من سال عايشة عن هذا الحديث . حدثنا بذلك علي بن عيسى بن يزيد البغدادي حدثنا روح بن عبادة عن ابن جريج فذكر الحديث . وقد ذهب قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا الحديث فراوا عليه القضاء اذا افطر وهو قول مالك بن انس
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لگاتار دو مہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان ۱؎ اور رمضان کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اور یہ حدیث ابوسلمہ سے بروایت عائشہ بھی مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا، آپ شعبان کے سارے روزے رکھتے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے ہی شعبان روزے رکھتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهرين متتابعين الا شعبان ورمضان . وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث ام سلمة حديث حسن . وقد روي هذا الحديث، ايضا عن ابي سلمة، عن عايشة، انها قالت ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم في شهر اكثر صياما منه في شعبان كان يصومه الا قليلا بل كان يصومه كله
اس سند سے بھی اسے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ جب کوئی مہینے کے اکثر ایام روزہ رکھے تو کہا جائے کہ اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے، اور کہا جائے کہ اس نے پوری رات نماز پڑھی حالانکہ اس نے شام کا کھانا بھی کھایا اور بعض دوسرے کاموں میں بھی مشغول رہا۔ گویا ابن مبارک دونوں حدیثوں کو ایک دوسرے کے موافق سمجھتے ہیں۔ اس طرح اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ اس مہینے کے اکثر ایام میں روزہ رکھتے تھے، ۲- سالم ابوالنضر اور دوسرے کئی لوگوں نے بھی بطریق ابوسلمہ عن عائشہ محمد بن عمرو کی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا هناد حدثنا عبدة عن محمد بن عمرو حدثنا ابو سلمة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم بذلك . وروي عن ابن المبارك انه قال في هذا الحديث هو جايز في كلام العرب اذا صام اكثر الشهر ان يقال صام الشهر كله ويقال قام فلان ليله اجمع . ولعله تعشى واشتغل ببعض امره . كان ابن المبارك قد راى كلا الحديثين متفقين يقول انما معنى هذا الحديث انه كان يصوم اكثر الشهر . قال ابو عيسى وقد روى سالم ابو النضر وغير واحد هذا الحديث عن ابي سلمة عن عايشة نحو رواية محمد بن عمرو
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدھا شعبان رہ جائے تو روزہ نہ رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اور اس حدیث کا مفہوم بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی پہلے سے روزہ نہ رکھ رہا ہو، پھر جب شعبان ختم ہونے کے کچھ دن باقی رہ جائیں تو ماہ رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھنا شروع کر دے۔ نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیزیں روایت کی ہے جو ان لوگوں کے قول سے ملتا جلتا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے استقبال میں پہلے سے روزہ نہ رکھو“ اس کے کہ ان ایام میں کوئی ایسا روزہ پڑ جائے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کراہت اس شخص کے لیے ہے جو عمداً رمضان کی تعظیم میں روزہ رکھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا بقي نصف من شعبان فلا تصوموا " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من هذا الوجه على هذا اللفظ . ومعنى هذا الحديث عند بعض اهل العلم ان يكون الرجل مفطرا فاذا بقي من شعبان شيء اخذ في الصوم لحال شهر رمضان . وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يشبه قولهم حيث قال صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا شهر رمضان بصيام الا ان يوافق ذلك صوما كان يصومه احدكم " . وقد دل في هذا الحديث انما الكراهية على من يتعمد الصيام لحال رمضان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں ( آپ کی تلاش میں ) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں، ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الحجاج بن ارطاة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عن عايشة، قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فخرجت فاذا هو بالبقيع فقال " اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله " . قلت يا رسول الله اني ظننت انك اتيت بعض نسايك . فقال " ان الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان الى السماء الدنيا فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق . قال ابو عيسى حديث عايشة لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث الحجاج . وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث وقال يحيى بن ابي كثير لم يسمع من عروة والحجاج بن ارطاة لم يسمع من يحيى بن ابي كثير
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے ۱؎ محرم کا روزہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصيام بعد صيام شهر رمضان شهر الله المحرم " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: ماہ رمضان کے بعد کس مہینے میں روزہ رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ تو انہوں نے اس سے کہا: میں نے اس سلسلے میں سوائے ایک شخص کے کسی کو پوچھتے نہیں سنا، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا، اور میں آپ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ماہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر ماہ رمضان کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہی ہو تو محرم کا روزہ رکھو، وہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے کچھ لوگوں پر رحمت کی ۱؎ اور اس میں دوسرے لوگوں پر بھی رحمت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا علي بن مسهر، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي، قال ساله رجل فقال اى شهر تامرني ان اصوم بعد شهر رمضان قال له ما سمعت احدا يسال عن هذا الا رجلا سمعته يسال رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا قاعد فقال يا رسول الله اى شهر تامرني ان اصوم بعد شهر رمضان قال " ان كنت صايما بعد شهر رمضان فصم المحرم فانه شهر الله فيه يوم تاب الله فيه على قوم ويتوب فيه على قوم اخرين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، وابو عمار والمعنى واحد واللفظ لفظ ابي عمار قالا اخبرنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال اتاه رجل فقال يا رسول الله هلكت . قال " وما اهلكك " . قال وقعت على امراتي في رمضان . قال " هل تستطيع ان تعتق رقبة " . قال لا . قال " فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين " . قال لا . قال " فهل تستطيع ان تطعم ستين مسكينا " . قال لا . قال " اجلس " . فجلس فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر - والعرق المكتل الضخم قال " تصدق به " . فقال ما بين لابتيها احد افقر منا . قال فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه . قال " فخذه فاطعمه اهلك " . قال وفي الباب عن ابن عمر وعايشة وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم في من افطر في رمضان متعمدا من جماع واما من افطر متعمدا من اكل او شرب فان اهل العلم قد اختلفوا في ذلك فقال بعضهم عليه القضاء والكفارة . وشبهوا الاكل والشرب بالجماع . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واسحاق . وقال بعضهم عليه القضاء ولا كفارة عليه لانه انما ذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم الكفارة في الجماع ولم تذكر عنه في الاكل والشرب . وقالوا لا يشبه الاكل والشرب الجماع . وهو قول الشافعي واحمد . وقال الشافعي وقول النبي صلى الله عليه وسلم للرجل الذي افطر فتصدق عليه " خذه فاطعمه اهلك " . يحتمل هذا معاني يحتمل ان تكون الكفارة على من قدر عليها وهذا رجل لم يقدر على الكفارة فلما اعطاه النبي صلى الله عليه وسلم شييا وملكه فقال الرجل ما احد افقر اليه منا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خذه فاطعمه اهلك " . لان الكفارة انما تكون بعد الفضل عن قوته . واختار الشافعي لمن كان على مثل هذا الحال ان ياكله وتكون الكفارة عليه دينا فمتى ما ملك يوما ما كفر