احادیث
#732
سنن ترمذی - Fasting
شعبہ کہتے ہیں کہ میں سماک بن حرب کو کہتے سنا کہ ام ہانی رضی الله عنہا کے دونوں بیٹوں میں سے ایک نے مجھ سے حدیث بیان کی تو میں ان دونوں میں جو سب سے افضل تھا اس سے ملا، اس کا نام جعدہ تھا، ام ہانی اس کی دادی تھیں، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ اس کی دادی کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے تو آپ نے کوئی پینے کی چیز منگائی اور اسے پیا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے بھی پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفل روزہ رکھنے والا اپنے نفس کا امین ہے، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے“۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: کیا آپ نے اسے ام ہانی سے سنا ہے؟ کہا: نہیں، مجھے ابوصالح نے اور ہمارے گھر والوں نے خبر دی ہے اور ان لوگوں نے ام ہانی سے روایت کی۔ حماد بن سلمہ نے بھی یہ حدیث سماک بن حرب سے روایت کی ہے۔ اس میں ہے ام ہانی کی لڑکی کے بیٹے ہارون سے روایت ہے، انہوں نے ام ہانی سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ کی روایت سب سے بہتر ہے، اسی طرح ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ہے اور محمود نے ابوداؤد سے روایت کی ہے، اس میں «أمين نفسه» ہے، البتہ ابوداؤد سے محمود کے علاوہ دوسرے لوگوں نے جو روایت کی تو ان لوگوں نے «أمير نفسه أو أمين نفسه» شک کے ساتھ کہا۔ اور اسی طرح شعبہ سے متعدد سندوں سے بھی «أمين أو أمير نفسه» شک کے ساتھ وارد ہے۔ ام ہانی کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ نفل روزہ رکھنے والا اگر روزہ توڑ دے تو اس پر کوئی قضاء لازم نہیں الا یہ کہ وہ قضاء کرنا چاہے۔ یہی سفیان ثوری، احمد، اسحاق بن راہویہ اور شافعی کا قول ہے ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، قال كنت اسمع سماك بن حرب يقول احد ابنى ام هاني حدثني فلقيت، انا افضلهما، وكان، اسمه جعدة وكانت ام هاني جدته فحدثني عن جدته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها فدعى بشراب فشرب ثم ناولها فشربت فقالت يا رسول الله اما اني كنت صايمة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصايم المتطوع امين نفسه ان شاء صام وان شاء افطر " . قال شعبة فقلت له اانت سمعت هذا من ام هاني قال لا اخبرني ابو صالح واهلنا عن ام هاني . وروى حماد بن سلمة هذا الحديث عن سماك بن حرب فقال عن هارون ابن بنت ام هاني عن ام هاني . ورواية شعبة احسن . هكذا حدثنا محمود بن غيلان عن ابي داود فقال " امين نفسه " . وحدثنا غير محمود عن ابي داود فقال " امير نفسه او امين نفسه " . على الشك وهكذا روي من غير وجه عن شعبة " امين او امير نفسه " على الشك . قال وحديث ام هاني في اسناده مقال . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الصايم المتطوع اذا افطر فلا قضاء عليه الا ان يحب ان يقضيه . وهو قول سفيان الثوري واحمد واسحاق والشافعي
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #732
- Book Index
- 51
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
