Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کے شروع کے تین دن روزے رکھتے۔ اور ایسا کم ہوتا تھا کہ جمعہ کے دن آپ روزے سے نہ ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث عاصم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا، ۳- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ مکروہ یہ ہے کہ آدمی صرف جمعہ کو روزہ رکھے نہ اس سے پہلے رکھے اور نہ اس کے بعد۔
حدثنا القاسم بن دينار، حدثنا عبيد الله بن موسى، وطلق بن غنام، عن شيبان، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من غرة كل شهر ثلاثة ايام وقلما كان يفطر يوم الجمعة . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عبد الله حديث حسن غريب . وقد استحب قوم من اهل العلم صيام يوم الجمعة وانما يكره ان يصوم يوم الجمعة لا يصوم قبله ولا بعده . قال وروى شعبة عن عاصم هذا الحديث ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، إلا یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، جنادہ ازدی، جویریہ، انس اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدمی کے لیے مکروہ سمجھتے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص کر لے، نہ اس سے پہلے روزہ رکھے اور نہ اس کے بعد۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصوم احدكم يوم الجمعة الا ان يصوم قبله او يصوم بعده " . قال وفي الباب عن علي وجابر وجنادة الازدي وجويرية وانس وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم يكرهون للرجل ان يختص يوم الجمعة بصيام لا يصوم قبله ولا بعده . وبه يقول احمد واسحاق
عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتہ کے دن روزہ مت رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہو، اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبا لے ( اور روزہ نہ رکھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور اس کے مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ کے لیے ہفتے ( سنیچر ) کا دن مخصوص کر لے، اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا سفيان بن حبيب، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن بسر، عن اخته، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تصوموا يوم السبت الا فيما افترض الله عليكم فان لم يجد احدكم الا لحاء عنبة او عود شجرة فليمضغه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومعنى كراهته في هذا ان يخص الرجل يوم السبت بصيام لان اليهود تعظم يوم السبت
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس حدثنا عبد الله بن داود، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ربيعة الجرشي، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى صوم الاثنين والخميس . قال وفي الباب عن حفصة وابي قتادة وابي هريرة واسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن غريب من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ ( سنیچر ) ، اتوار اور سوموار ( دوشنبہ ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، ومعاوية بن هشام، قالا حدثنا سفيان، عن منصور، عن خيثمة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من الشهر السبت والاحد والاثنين ومن الشهر الاخر الثلاثاء والاربعاء والخميس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروى عبد الرحمن بن مهدي هذا الحديث عن سفيان ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال سوموار ( دوشنبہ ) اور جمعرات کو اعمال ( اللہ کے حضور ) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو عاصم، عن محمد بن رفاعة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تعرض الاعمال يوم الاثنين والخميس فاحب ان يعرض عملي وانا صايم " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة في هذا الباب حديث حسن غريب
مسلم قرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صیام الدھر ( سال بھر کے روزوں ) کے بارے میں پوچھا، یا آپ سے صیام الدھر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم پر تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے، رمضان کے روزے رکھو، اور اس مہینے کے رکھو جو اس سے متصل ہے، اور ہر بدھ اور جمعرات کے روزے رکھو، جب تم نے یہ روزے رکھ لیے، تو اب گویا تم نے سال بھر روزہ رکھا اور افطار کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مسلم قرشی رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے بطریق «ہارون بن سلمان عن مسلم بن عبیداللہ عن عبیداللہ بن مسلم» روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الحسين بن محمد الحريري، ومحمد بن مدويه، قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا هارون بن سلمان، عن عبيد الله بن مسلم القرشي، عن ابيه، قال سالت او سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيام الدهر فقال " ان لاهلك عليك حقا صم رمضان والذي يليه وكل اربعاء وخميس فاذا انت قد صمت الدهر وافطرت " . وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث مسلم القرشي حديث غريب . وروى بعضهم عن هارون بن سلمان عن مسلم بن عبيد الله عن ابيه
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن ۱؎ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب قرار دیا ہے، مگر جو لوگ عرفات میں ہوں ان کے لیے مستحب نہیں۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن عبدة الضبي، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صيام يوم عرفة اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده " . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابي قتادة حديث حسن . وقد استحب اهل العلم صيام يوم عرفة الا بعرفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا، ام فضل رضی الله عنہا نے آپ کے پاس دودھ بھیجا تو آپ نے اسے پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر اور ام الفضل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے اس دن کا ( یعنی یوم عرفہ کا ) روزہ نہیں رکھا اور ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، عمر کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، اور عثمان کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ عرفات میں روزہ نہ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں تاکہ آدمی دعا کی زیادہ سے زیادہ قدرت رکھ سکے، ۵- اور بعض اہل علم نے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم افطر بعرفة وارسلت اليه ام الفضل بلبن فشرب . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عمر وام الفضل . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عمر قال حججت مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يصمه يعني يوم عرفة ومع ابي بكر فلم يصمه ومع عمر فلم يصمه ومع عثمان فلم يصمه . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم يستحبون الافطار بعرفة ليتقوى به الرجل على الدعاء وقد صام بعض اهل العلم يوم عرفة بعرفة
ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا ( رضی الله عنہم ) ، میں بھی اس دن ( وہاں عرفات میں ) روزہ نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن ابی نجیح سے بطریق: «عن أبيه عن رجل عن ابن عمر» بھی مروی ہے۔ ابونجیح کا نام یسار ہے اور انہوں نے ابن عمر سے سنا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وعلي بن حجر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، واسماعيل بن ابراهيم، عن ابن ابي نجيح، عن ابيه، قال سيل ابن عمر عن صوم، يوم عرفة بعرفة فقال حججت مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يصمه ومع ابي بكر فلم يصمه ومع عمر فلم يصمه ومع عثمان فلم يصمه . وانا لا اصومه ولا امر به ولا انهى عنه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن ابن ابي نجيح عن ابيه عن رجل عن ابن عمر . وابو نجيح اسمه يسار وقد سمع من ابن عمر
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء ۱؎ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، محمد بن صیفی، سلمہ بن الاکوع، ہند بن اسماء، ابن عباس، ربیع بنت معوذ بن عفراء، عبدالرحمٰن بن سلمہ خزاعی، جنہوں نے اپنے چچا سے روایت کی ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کے روزہ رکھنے پر ابھارا، ۲- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی اور روایت میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ عاشوراء کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ احمد اور اسحاق کا قول بھی ابوقتادہ کی حدیث کے مطابق ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن عبدة الضبي، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد الزماني، عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صيام يوم عاشوراء اني احتسب على الله ان يكفر السنة التي قبله " . وفي الباب عن علي ومحمد بن صيفي وسلمة بن الاكوع وهند بن اسماء وابن عباس والربيع بنت معوذ بن عفراء وعبد الرحمن بن سلمة الخزاعي عن عمه وعبد الله بن الزبير ذكروا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه حث على صيام يوم عاشوراء . قال ابو عيسى لا نعلم في شيء من الروايات انه قال " صيام يوم عاشوراء كفارة سنة " . الا في حديث ابي قتادة . وبحديث ابي قتادة يقول احمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ عاشوراء ایک ایسا دن تھا کہ جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، جب آپ مدینہ آئے تو اس دن آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو صرف رمضان ہی کے روزے فرض رہے اور آپ نے عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا، تو جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں ابن مسعود، قیس بن سعد، جابر بن سمرہ، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث پر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، یہ لوگ یوم عاشوراء کے روزے کو واجب نہیں سمجھتے، الا یہ کہ جو اس کی اس فضیلت کی وجہ سے جو ذکر کی گئی اس کی رغبت رکھے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان عاشوراء يوما تصومه قريش في الجاهلية وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه فلما قدم المدينة صامه وامر الناس بصيامه فلما افترض رمضان كان رمضان هو الفريضة وترك عاشوراء فمن شاء صامه ومن شاء تركه . وفي الباب عن ابن مسعود وقيس بن سعد وجابر بن سمرة وابن عمر ومعاوية . قال ابو عيسى والعمل عند اهل العلم على حديث عايشة وهو حديث صحيح لا يرون صيام يوم عاشوراء واجبا الا من رغب في صيامه لما ذكر فيه من الفضل
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس پہنچا، وہ زمزم پر اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے پوچھا: مجھے یوم عاشوراء کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون سا دن ہے جس میں میں روزہ رکھوں؟ انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو دن گنو، اور نویں تاریخ کو روزہ رکھ کر صبح کرو۔ میں نے پوچھا: کیا اسی طرح سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟ کہا: ہاں ( اسی طرح رکھتے تھے)
حدثنا هناد، وابو كريب قالا حدثنا وكيع، عن حاجب بن عمر، عن الحكم بن الاعرج، قال انتهيت الى ابن عباس وهو متوسد رداءه في زمزم فقلت اخبرني عن يوم عاشوراء اى يوم هو اصومه فقال اذا رايت هلال المحرم فاعدد ثم اصبح من التاسع صايما . قال فقلت اهكذا كان يصومه محمد صلى الله عليه وسلم قال نعم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں تاریخ کو عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا عاشوراء کے دن کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عاشوراء نواں دن ہے اور بعض کہتے ہیں: دسواں دن ۱؎ ابن عباس سے مروی ہے کہ نویں اور دسویں دن کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوارث، عن يونس، عن الحسن، عن ابن عباس، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصوم عاشوراء يوم العاشر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في يوم عاشوراء فقال بعضهم يوم التاسع . وقال بعضهم يوم العاشر . وروي عن ابن عباس انه قال صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود . وبهذا الحديث يقول الشافعي واحمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی بطریق «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے، ۲- اور ثوری وغیرہ نے یہ حدیث بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی» یوں روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا، ۳- اور ابوالا ٔحوص نے بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی عن عائشہ» روایت کی اس میں انہوں نے اسود کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اور لوگوں نے اس حدیث میں منصور پر اختلاف کیا ہے۔ اور اعمش کی روایت زیادہ صحیح ہے اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ متصل ہے، ۵- اعمش ابراہیم نخعی کی سند کے منصور سے زیادہ یاد رکھنے والے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم صايما في العشر قط . قال ابو عيسى هكذا روى غير واحد عن الاعمش عن ابراهيم عن الاسود عن عايشة . وروى الثوري وغيره هذا الحديث عن منصور عن ابراهيم ان النبي صلى الله عليه وسلم لم ير صايما في العشر . وروى ابو الاحوص عن منصور عن ابراهيم عن عايشة . ولم يذكر فيه عن الاسود . وقد اختلفوا على منصور في هذا الحديث ورواية الاعمش اصح واوصل اسنادا . قال وسمعت ابا بكر محمد بن ابان يقول سمعت وكيعا يقول الاعمش احفظ لاسناد ابراهيم من منصور
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، هو البطين وهو ابن عمران عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ايام العمل الصالح فيهن احب الى الله من هذه الايام العشر " . فقالوا يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء " . وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة وعبد الله بن عمرو وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کو زیادہ محبوب ہو، ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور ان کی ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف مسعود بن واصل کی حدیث سے اس طریق کے علاوہ جانتے ہیں اور مسعود نے نہّاس سے روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے کسی اور طریق سے نہیں جان سکے، ۴- اس میں سے کچھ جسے قتادہ نے بسند «قتادة عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلا روایت کی ہے، ۴- یحییٰ بن سعید نے نہاس بن قہم پر ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن نافع البصري، حدثنا مسعود بن واصل، عن نهاس بن قهم، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من ايام احب الى الله ان يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث مسعود بن واصل عن النهاس . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فلم يعرفه من غير هذا الوجه مثل هذا . وقال قد روي عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا شيء من هذا . وقد تكلم يحيى بن سعيد في نهاس بن قهم من قبل حفظه
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ ( نفلی ) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوایوب رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالعزیز بن محمد نے اس حدیث کو بطریق: «صفوان بن سليم بن سعيد عن عمر بن ثابت عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۳- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «ورقاء بن عمر عن سعد بن سعيد» روایت کی ہے، سعد بن سعید، یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، ۴- بعض محدثین نے سعد بن سعید پر حافظے کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ ۵- حسن بصری سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس شوال کے چھ دن کے روزوں کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس ماہ کے روزوں سے پورے سال راضی ہے، ۶- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- ایک جماعت نے اس حدیث کی رو سے شوال کے چھ دن کے روزوں کو مستحب کہا ہے، ۸- ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اچھا ہے، یہ ہر ماہ تین دن کے روزوں کے مثل ہیں، ۹- ابن مبارک کہتے ہیں: بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان سے ملا دیئے جائیں، ۱۰- اور ابن مبارک نے پسند کیا ہے کہ یہ روزے مہینے کے ابتدائی چھ دنوں میں ہوں، ۱۱- ابن مبارک سے نے یہ بھی کہا: اگر کوئی شوال کے چھ دن کے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا سعد بن سعيد، عن عمر بن ثابت، عن ابي ايوب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر " . وفي الباب عن جابر وابي هريرة وثوبان . قال ابو عيسى حديث ابي ايوب حديث حسن صحيح . وقد استحب قوم صيام ستة ايام من شوال بهذا الحديث . قال ابن المبارك هو حسن هو مثل صيام ثلاثة ايام من كل شهر . قال ابن المبارك ويروى في بعض الحديث " ويلحق هذا الصيام برمضان " . واختار ابن المبارك ان تكون ستة ايام في اول الشهر . وقد روي عن ابن المبارك انه قال ان صام ستة ايام من شوال متفرقا فهو جايز . قال وقد روى عبد العزيز بن محمد عن صفوان بن سليم وسعد بن سعيد عن عمر بن ثابت عن ابي ايوب عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا . وروى شعبة عن ورقاء بن عمر عن سعد بن سعيد هذا الحديث . وسعد بن سعيد هو اخو يحيى بن سعيد الانصاري وقد تكلم بعض اهل الحديث في سعد بن سعيد من قبل حفظه . حدثنا هناد قال اخبرنا الحسين بن علي الجعفي عن اسراييل ابي موسى عن الحسن البصري قال كان اذا ذكر عنده صيام ستة ايام من شوال فيقول والله لقد رضي الله بصيام هذا الشهر عن السنة كلها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین باتوں کا عہد لیا: ۱- میں وتر پڑھے بغیر نہ سووں، ۲- ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں، ۳- اور چاشت کی نماز ( صلاۃ الضحیٰ ) پڑھا کروں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن ابي الربيع، عن ابي هريرة، قال عهد الى النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة ان لا انام الا على وتر وصوم ثلاثة ايام من كل شهر وان اصلي الضحى
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! جب تم ہر ماہ کے تین دن کے روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ، عبداللہ بن عمرو، قرہ بن ایاس مزنی، عبداللہ بن مسعود، ابوعقرب، ابن عباس، عائشہ، قتادہ بن ملحان، عثمان بن ابی العاص اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ ”جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت يحيى بن سام، يحدث عن موسى بن طلحة، قال سمعت ابا ذر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر اذا صمت من الشهر ثلاثة ايام فصم ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة " . وفي الباب عن ابي قتادة وعبد الله بن عمرو وقرة بن اياس المزني وعبد الله بن مسعود وابي عقرب وابن عباس وعايشة وقتادة بن ملحان وعثمان بن ابي العاصي وجرير . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن . وقد روي في بعض الحديث ان " من صام ثلاثة ايام من كل شهر كان كمن صام الدهر