Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو یہی صیام الدھر ہے“، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ارشاد باری ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ( الأنعام: ۱۶۰ ) ”جس نے ایک نیکی کی تو اسے ( کم سے کم ) اس کا دس گنا اجر ملے گا“ گویا ایک دن ( کم سے کم ) دس دن کے برابر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «أبي شمر وأبي التياح عن أبي عثمان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام من كل شهر ثلاثة ايام فذلك صيام الدهر " . فانزل الله عز وجل تصديق ذلك في كتابه : (من جاء بالحسنة فله عشر امثالها ) . اليوم بعشرة ايام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى شعبة هذا الحديث عن ابي شمر وابي التياح عن ابي عثمان عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں رکھتے تھے، میں نے کہا: کون سی تاریخوں میں رکھتے تھے؟ کہا: آپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سی تاریخ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن يزيد الرشك، قال سمعت معاذة، قالت قلت لعايشة اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ثلاثة ايام من كل شهر قالت نعم . قلت من ايه كان يصوم قالت كان لا يبالي من ايه صام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ويزيد الرشك هو يزيد الضبعي وهو يزيد بن القاسم وهو القسام والرشك هو القسام بلغة اهل البصرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل، سہل بن سعد، کعب بن عجرہ، سلامہ بن قیصر اور بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بشیر کا نام زحم بن معبد ہے اور خصاصیہ ان کی ماں ہیں۔
حدثنا عمران بن موسى القزاز، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ربكم يقول كل حسنة بعشر امثالها الى سبعماية ضعف والصوم لي وانا اجزي به الصوم جنة من النار ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك وان جهل على احدكم جاهل وهو صايم فليقل اني صايم " . وفي الباب عن معاذ بن جبل وسهل بن سعد وكعب بن عجرة وسلامة بن قيصر وبشير ابن الخصاصية . واسم بشير زحم بن معبد والخصاصية هي امه . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة حديث حسن غريب من هذا الوجه
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والوں ۱؎ کو اس کی طرف بلایا جائے گا، تو جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہو گا اس میں داخل ہو جائے گا اور جو اس میں داخل ہو گیا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، عن هشام بن سعد، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة لبابا يدعى الريان يدعى له الصايمون فمن كان من الصايمين دخله ومن دخله لم يظما ابدا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور دوسری اس وقت ہو گی جب وہ اپنے رب سے ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للصايم فرحتان فرحة حين يفطر وفرحة حين يلقى ربه " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی صوم الدھر ( پورے سال روزے ) رکھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن شخیر، عمران بن حصین اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے صوم الدھر کو مکروہ کہا ہے اور بعض دوسرے لوگوں نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صیام الدھر تو اس وقت ہو گا جب عید الفطر، عید الاضحی اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنا نہ چھوڑے، جس نے ان دنوں میں روزہ ترک کر دیا، وہ کراہت کی حد سے نکل گیا، اور وہ پورے سال روزہ رکھنے والا نہیں ہوا مالک بن انس سے اسی طرح مروی ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی طرح کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان پانچ دنوں یوم الفطر، یوم الاضحی اور ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، بقیہ دنوں میں افطار کرنا واجب نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن عبدة الضبي، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن غيلان بن جرير، عن عبد الله بن معبد، عن ابي قتادة، قال قيل يا رسول الله كيف بمن صام الدهر قال " لا صام ولا افطر " . او " لم يصم ولم ي��طر " . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعبد الله بن الشخير وعمران بن حصين وابي موسى . قال ابو عيسى حديث ابي قتادة حديث حسن . وقد كره قوم من اهل العلم صيام الدهر واجازه قوم اخرون وقالوا انما يكون صيام الدهر اذا لم يفطر يوم الفطر ويوم الاضحى وايام التشريق فمن افطر هذه الايام فقد خرج من حد الكراهية ولا يكون قد صام الدهر كله . هكذا روي عن مالك بن انس وهو قول الشافعي . وقال احمد واسحاق نحوا من هذا وقالا لا يجب ان يفطر اياما غير هذه الخمسة الايام التي نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها يوم الفطر ويوم الاضحى وايام التشريق
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے خوب روزے رکھے، پھر آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے بہت دنوں سے روزہ نہیں رکھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے نہیں رکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة عن صيام النبي، صلى الله عليه وسلم قالت كان يصوم حتى نقول قد صام ويفطر حتى نقول قد افطر . قالت وما صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا الا رمضان . وفي الباب عن انس وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے: اب آپ کا ارادہ روزے بند کرنے کا نہیں ہے، اور کبھی بغیر روزے کے رہتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ آپ کوئی روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اور آپ کو رات کے جس حصہ میں بھی تم نماز پڑھنا دیکھنا چاہتے نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جس حصہ میں سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو سوتے ہوئے دیکھ لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس بن مالك، انه سيل عن صوم النبي، صلى الله عليه وسلم قال كان يصوم من الشهر حتى نرى انه لا يريد ان يفطر منه ويفطر حتى نرى انه لا يريد ان يصوم منه شييا وكنت لا تشاء ان تراه من الليل مصليا الا رايته مصليا ولا نايما الا رايته نايما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے، اور جب ( دشمن سے ) مڈبھیڑ ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگتے نہیں تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہو، کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے سخت روزہ ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصوم صوم اخي داود كان يصوم يوما ويفطر يوما ولا يفر اذا لاقى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو العباس هو الشاعر المكي الاعمى واسمه السايب بن فروخ . قال بعض اهل العلم افضل الصيام ان تصوم يوما وتفطر يوما . ويقال هذا هو اشد الصيام
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مولیٰ ابو عبید سعد کہتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب رضی الله عنہ کے پاس دسویں ذی الحجہ کو موجود تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے سنا ہے، عید الفطر کے دن سے، اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن اور مسلمانوں کی عید ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي عبيد، مولى عبد الرحمن بن عوف قال شهدت عمر بن الخطاب في يوم النحر بدا بالصلاة قبل الخطبة ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن صوم هذين اليومين اما يوم الفطر ففطركم من صومكم وعيد للمسلمين واما يوم الاضحى فكلوا من لحوم نسككم . قال هذا حديث صحيح . وابو عبيد مولى عبد الرحمن بن عوف اسمه سعد ويقال له مولى عبد الرحمن بن ازهر ايضا وعبد الرحمن بن ازهر هو ابن عم عبد الرحمن بن عوف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزوں سے منع فرمایا: ”یوم الاضحی ( بقر عید ) کے روزے سے اور یوم الفطر ( عید ) کے روزے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، عائشہ، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- عمرو بن یحییٰ ہی عمارہ بن ابی الحسن مازنی ہیں، وہ مدینے کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔ سفیان ثوری، شعبہ اور مالک بن انس نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامين يوم الاضحى ويوم الفطر . قال وفي الباب عن عمر وعلي وعايشة وابي هريرة وعقبة بن عامر وانس . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم . قال ابو عيسى وعمرو بن يحيى هو ابن عمارة بن ابي الحسن المازني المدني وهو ثقة روى عنه سفيان الثوري وشعبة ومالك بن انس
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ ۱؎، یوم نحر ۲؎ اور ایام تشریق ۳؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، سعد، ابوہریرہ، جابر، نبیشہ، بشر بن سحیم، عبداللہ بن حذافہ، انس، حمزہ بن عمرو اسلمی، کعب بن مالک، عائشہ، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ البتہ صحابہ کرام وغیرہم کی ایک جماعت نے حج تمتع کرنے والے کو اس کی رخصت دی ہے جب وہ ہدی نہ پائے اور اس نے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن میں روزہ نہ رکھے ہوں کہ وہ ایام تشریق میں روزہ رکھے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن موسى بن على، عن ابيه، عن عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم عرفة ويوم النحر وايام التشريق عيدنا اهل الاسلام وهي ايام اكل وشرب " . قال وفي الباب عن علي وسعد وابي هريرة وجابر ونبيشة وبشر بن سحيم وعبد الله بن حذافة وانس وحمزة بن عمرو الاسلمي وكعب بن مالك وعايشة وعمرو بن العاص وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى وحديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم يكرهون الصيام ايام التشريق الا ان قوما من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم رخصوا للمتمتع اذا لم يجد هديا ولم يصم في العشر ان يصوم ايام التشريق . وبه يقول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق . قال ابو عيسى واهل العراق يقولون موسى بن علي بن رباح واهل مصر يقولون موسى بن على . وقال سمعت قتيبة يقول سمعت الليث بن سعد يقول قال موسى بن علي لا اجعل احدا في حل صغر اسم ابي
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی ( پچھنا ) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ نہیں رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح رافع بن خدیج کی روایت ہے، ۳- اور علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح ثوبان اور شداد بن اوسکی حدیثیں ہیں، اس لیے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے ثوبان اور شداد بن اوس دونوں کی حدیثوں کی ایک ساتھ روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی، سعد، شداد بن اوس، ثوبان، اسامہ بن زید، عائشہ، معقل بن سنان ( ابن یسار بھی کہا جاتا ہے ) ، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوموسیٰ، بلال اور سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے رات کو پچھنا لگوایا۔ ان میں موسیٰ اشعری، اور ابن عمر بھی ہیں۔ ابن مبارک بھی یہی کہتے ہیں: ۶- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ جس نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا، اس پر اس کی قضاء ہے، اسحاق بن منصور کہتے ہیں: اسی طرح احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کہا ہے، ۷- شافعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا“، اور میں ان دونوں حدیثوں میں سے ایک بھی صحیح نہیں جانتا، لیکن اگر کوئی روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے سے اجتناب کرے تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، اور اگر کوئی روزہ دار پچھنا لگوا لے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا، ۸- بغداد میں شافعی کا بھی یہی قول تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ مصر میں وہ رخصت کی طرف مائل ہو گئے تھے اور روزہ دار کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن رافع النيسابوري، ومحمود بن غيلان، ويحيى بن موسى، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابراهيم بن عبد الله بن قارظ، عن السايب بن يزيد، عن رافع بن خديج، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " افطر الحاجم والمحجوم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وسعد وشداد بن اوس وثوبان واسامة بن زيد وعايشة ومعقل بن سنان ويقال ابن يسار وابي هريرة وابن عباس وابي موسى وبلال . قال ابو عيسى وحديث رافع بن خديج حديث حسن . وذكر عن احمد بن حنبل انه قال اصح شيء في هذا الباب حديث رافع بن خديج . وذكر عن علي بن عبد الله انه قال اصح شيء في هذا الباب حديث ثوبان وشداد بن اوس لان يحيى بن ابي كثير روى عن ابي قلابة الحديثين جميعا حديث ثوبان وحديث شداد بن اوس . وقد كره قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الحجامة للصايم حتى ان بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احتجم بالليل منهم ابو موسى الاشعري وابن عمر وبهذا يقول ابن المبارك . قال ابو عيسى سمعت اسحاق بن منصور يقول قال عبد الرحمن بن مهدي من احتجم وهو صايم فعليه القضاء . قال اسحاق بن منصور وهكذا قال احمد بن حنبل واسحاق بن ابراهيم . وقال ابو عيسى واخبرني الحسن بن محمد الزعفراني قال قال الشافعي قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه احتجم وهو صايم وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " افطر الحاجم والمحجوم " . ولا اعلم واحدا من هذين الحديثين ثابتا ولو توقى رجل الحجامة وهو صايم كان احب الى ولو احتجم صايم لم ار ذلك ان يفطره . قال ابو عيسى هكذا كان قول الشافعي ببغداد واما بمصر فمال الى الرخصة ولم ير بالحجامة للصايم باسا واحتج بان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم في حجة الوداع وهو محرم صايم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، آپ محرم تھے اور روزے سے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح وہیب نے بھی عبدالوارث کی طرح روایت کی ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے ایوب سے اور ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور، عکرمہ نے اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا بشر بن هلال البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم صايم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وهكذا روى وهيب نحو رواية عبد الوارث . وروى اسماعيل بن ابراهيم عن ايوب عن عكرمة مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، آپ روزے سے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن حبيب بن الشهيد، عن ميمون بن مهران، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو صايم . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت میں پچھنا لگوایا جس میں آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، آپ احرام باندھے ہوئے تھے اور روزے کی حالت میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ صائم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم فيما بين مكة والمدينة وهو محرم صايم . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي سعيد وجابر وانس . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا الحديث ولم يروا بالحجامة للصايم باسا . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس والشافعي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صوم وصال ۱؎ مت رکھو“، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، عائشہ، ابن عمر، جابر، ابو سعید خدری، اور بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ بغیر افطار کیے لگاتار روزے رکھنے کو مکروہ کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ کئی دنوں کو ملا لیتے تھے ( درمیان میں ) افطار نہیں کرتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا بشر بن المفضل، وخالد بن الحارث، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تواصلوا " . قالوا فانك تواصل يا رسول الله . قال " اني لست كاحدكم ان ربي يطعمني ويسقيني " . قال وفي الباب عن علي وابي هريرة وعايشة وابن عمر وجابر وابي سعيد وبشير ابن الخصاصية . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم كرهوا الوصال في الصيام . وروي عن عبد الله بن الزبير انه كان يواصل الايام ولا يفطر
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر پا لیتی اور اپنی بیویوں سے صحبت کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ـ: ۱- عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جب کوئی حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کی قضاء کرے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، قال اخبرتني عايشة، وام سلمة زوجا النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من اهله ثم يغتسل فيصوم . قال ابو عيسى حديث عايشة وام سلمة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان والشافعي واحمد واسحاق . وقد قال قوم من التابعين اذا اصبح جنبا يقضي ذلك اليوم . والقول الاول اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت ملے تو اسے قبول کرے، اور اگر وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ دعا کرے“ ۱؎۔
حدثنا ازهر بن مروان البصري، حدثنا محمد بن سواء، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى طعام فليجب فان كان صايما فليصل " . يعني الدعاء
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم وهو صايم فليقل اني صايم " . قال ابو عيسى وكلا الحديثين في هذا الباب عن ابي هريرة حسن صحيح