احادیث
#774
سنن ترمذی - Fasting
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی ( پچھنا ) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ نہیں رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح رافع بن خدیج کی روایت ہے، ۳- اور علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح ثوبان اور شداد بن اوسکی حدیثیں ہیں، اس لیے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے ثوبان اور شداد بن اوس دونوں کی حدیثوں کی ایک ساتھ روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی، سعد، شداد بن اوس، ثوبان، اسامہ بن زید، عائشہ، معقل بن سنان ( ابن یسار بھی کہا جاتا ہے ) ، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوموسیٰ، بلال اور سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے رات کو پچھنا لگوایا۔ ان میں موسیٰ اشعری، اور ابن عمر بھی ہیں۔ ابن مبارک بھی یہی کہتے ہیں: ۶- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ جس نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا، اس پر اس کی قضاء ہے، اسحاق بن منصور کہتے ہیں: اسی طرح احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کہا ہے، ۷- شافعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا“، اور میں ان دونوں حدیثوں میں سے ایک بھی صحیح نہیں جانتا، لیکن اگر کوئی روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے سے اجتناب کرے تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، اور اگر کوئی روزہ دار پچھنا لگوا لے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا، ۸- بغداد میں شافعی کا بھی یہی قول تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ مصر میں وہ رخصت کی طرف مائل ہو گئے تھے اور روزہ دار کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، ومحمد بن رافع النيسابوري، ومحمود بن غيلان، ويحيى بن موسى، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابراهيم بن عبد الله بن قارظ، عن السايب بن يزيد، عن رافع بن خديج، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " افطر الحاجم والمحجوم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وسعد وشداد بن اوس وثوبان واسامة بن زيد وعايشة ومعقل بن سنان ويقال ابن يسار وابي هريرة وابن عباس وابي موسى وبلال . قال ابو عيسى وحديث رافع بن خديج حديث حسن . وذكر عن احمد بن حنبل انه قال اصح شيء في هذا الباب حديث رافع بن خديج . وذكر عن علي بن عبد الله انه قال اصح شيء في هذا الباب حديث ثوبان وشداد بن اوس لان يحيى بن ابي كثير روى عن ابي قلابة الحديثين جميعا حديث ثوبان وحديث شداد بن اوس . وقد كره قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الحجامة للصايم حتى ان بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احتجم بالليل منهم ابو موسى الاشعري وابن عمر وبهذا يقول ابن المبارك . قال ابو عيسى سمعت اسحاق بن منصور يقول قال عبد الرحمن بن مهدي من احتجم وهو صايم فعليه القضاء . قال اسحاق بن منصور وهكذا قال احمد بن حنبل واسحاق بن ابراهيم . وقال ابو عيسى واخبرني الحسن بن محمد الزعفراني قال قال الشافعي قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه احتجم وهو صايم وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " افطر الحاجم والمحجوم " . ولا اعلم واحدا من هذين الحديثين ثابتا ولو توقى رجل الحجامة وهو صايم كان احب الى ولو احتجم صايم لم ار ذلك ان يفطره . قال ابو عيسى هكذا كان قول الشافعي ببغداد واما بمصر فمال الى الرخصة ولم ير بالحجامة للصايم باسا واحتج بان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم في حجة الوداع وهو محرم صايم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #774
- Book Index
- 93
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
