Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، ونصر بن علي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصوم المراة وزوجها شاهد يوما من غير شهر رمضان الا باذنه " . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن ابي الزناد عن موسى بن ابي عثمان عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رمضان کے جو روزے مجھ پر رہ جاتے انہیں میں شعبان ہی میں قضاء کر پاتی تھی۔ جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن اسماعيل السدي، عن عبد الله البهي، عن عايشة، قالت ما كنت اقضي ما يكون على من رمضان الا في شعبان حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وقد روى يحيى بن سعيد الانصاري عن ابي سلمة عن عايشة نحو هذا
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق: «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن حبيب بن زيد، عن ليلى، عن مولاتها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصايم اذا اكل عنده المفاطير صلت عليه الملايكة " . قال ابو عيسى وروى شعبة هذا الحديث عن حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته ام عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم بھی کھاؤ“، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں“۔ بعض روایتوں میں ہے ”جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ شریک کی ( اوپر والی ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن حبيب بن زيد، قال سمعت مولاة، لنا يقال لها ليلى تحدث عن جدته ام عمارة بنت كعب الانصارية، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فقدمت اليه طعاما فقال " كلي " . فقالت اني صايمة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الصايم تصلي عليه الملايكة اذا اكل عنده حتى يفرغوا " . وربما قال " حتى يشبعوا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهو اصح من حديث شريك
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے اس میں «حتى يفرغوا أو يشبعوا» کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ام عمارہ حبیب بن زید انصاری کی دادی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن حبيب بن زيد، عن مولاة، لهم يقال لها ليلى عن جدته ام عمارة بنت كعب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه " حتى يفرغوا او يشبعوا " . قال ابو عيسى وام عمارة هي جدة حبيب بن زيد الانصاري
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہو جاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن عبيدة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنا نحيض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نطهر فيامرنا بقضاء الصيام ولا يامرنا بقضاء الصلاة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي عن معاذة عن عايشة ايضا . والعمل على هذا عند اهل العلم لا نعلم بينهم اختلافا ان الحايض تقضي الصيام ولا تقضي الصلاة . قال ابو عيسى وعبيدة هو ابن معتب الضبي الكوفي يكنى ابا عبد الكريم
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ۳- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔
حدثنا عبد الوهاب بن عبد الحكم البغدادي الوراق، وابو عمار الحسين بن حريث قالا حدثنا يحيى بن سليم، حدثني اسماعيل بن كثير، قال سمعت عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اخبرني عن الوضوء، . قال " اسبغ الوضوء وخلل بين الاصابع وبالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد كره اهل العلم السعوط للصايم وراوا ان ذلك يفطره وفي الحديث ما يقوي قولهم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم ثقات میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے روایت کی ہو، ۳- موسیٰ بن داود نے یہ حدیث بطریق: «أبي بكر المدني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ۴- یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ابوبکر اہل الحدیث کے نزدیک ضعیف ہیں، اور ابوبکر مدنی جو جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، ان کا نام فضل بن مبشر ہے، وہ ان سے زیادہ ثقہ اور ان سے پہلے کے ہیں ۱؎۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي البصري، حدثنا ايوب بن واقد الكوفي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نزل على قوم فلا يصومن تطوعا الا باذنهم " . قال ابو عيسى هذا حديث منكر لا نعرف احدا من الثقات روى هذا الحديث عن هشام بن عروة . وقد روى موسى بن داود عن ابي بكر المديني عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوا من هذا . قال ابو عيسى وهذا حديث ضعيف ايضا . وابو بكر ضعيف عند اهل الحديث وابو بكر المدني الذي روى عن جابر بن عبد الله اسمه الفضل بن مبشر وهو اوثق من هذا واقدم
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ۱؎ کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابولیلیٰ، ابوسعید، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، وعروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان حتى قبضه الله . قال وفي الباب عن ابى بن كعب وابي ليلى وابي سعيد وانس وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة وعايشة حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھتے پھر اپنے معتکف ( جائے اعتکاف ) میں داخل ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے بواسطہ عمرۃ مرسلاً بھی مروی ہے ( اس میں عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ) ، ۲- اور اسے مالک اور دیگر کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے عمرۃ سے مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۳- اور اوزاعی، سفیان ثوری اور دیگر لوگوں نے بطریق: «يحيى بن سعيد عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، ۴- بعض اہل علم کے نزدیک عمل اسی حدیث پر ہے، وہ کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو فجر پڑھے، پھر اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں داخل ہو جائے، احمد اور اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو اگلے دن جس میں وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے کی رات کا سورج ڈوب جائے تو وہ اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں بیٹھا ہو، یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يعتكف صلى الفجر ثم دخل في معتكفه . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . رواه مالك وغير واحد عن يحيى بن سعيد عن عمرة مرسلا . ورواه الاوزاعي وسفيان الثوري وغير واحد عن يحيى بن سعيد عن عمرة عن عايشة . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم يقولون اذا اراد الرجل ان يعتكف صلى الفجر ثم دخل في معتكفه . وهو قول احمد بن حنبل واسحاق بن ابراهيم . وقال بعضهم اذا اراد ان يعتكف فلتغب له الشمس من الليلة التي يريد ان يعتكف فيها من الغد وقد قعد في معتكفه . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے اور فرماتے: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابی، جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابن عمر، فلتان بن عاصم، انس، ابو سعید خدری، عبداللہ بن انیس، ابوبکرہ، ابن عباس، بلال اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «یُجَاوِرُ» کے معنی «یَعْتَکِفُ» ”اعتکاف کرتے تھے“ کے ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اکثر روایات یہی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اسے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں تلاش کرو“، اور شب قدر کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں، اور رمضان کی آخری رات کے اقوال مروی ہیں، شافعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کا مفہوم – «واللہ اعلم» – یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق جواب دیتے تھے۔ آپ سے کہا جاتا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں؟ آپ فرماتے: ہاں فلاں رات میں تلاش کرو، ۵- شافعی کہتے ہیں: میرے نزدیک سب سے قوی روایت اکیسویں رات کی ہے، ۶- ابی بن کعب سے مروی ہے وہ قسم کھا کر کہتے کہ یہ ستائیسویں رات ہے۔ کہتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامتیں بتائیں، ہم نے اسے گن کر یاد رکھا۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ شب قدر آخری عشرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في العشر الاواخر من رمضان ويقول " تحروا ليلة القدر في العشر الاواخر من رمضان " . وفي الباب عن عمر وابى وجابر بن سمرة وجابر بن عبد الله وابن عمر والفلتان بن عاصم وانس وابي سعيد وعبد الله بن انيس وابي بكرة وابن عباس وبلال وعبادة بن الصامت . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقولها يجاور يعني يعتكف . واكثر الروايات عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " التمسوها في العشر الاواخر في كل وتر " . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر انها ليلة احدى وعشرين وليلة ثلاث وعشرين وخمس وعشرين وسبع وعشرين وتسع وعشرين واخر ليلة من رمضان " . قال ابو عيسى قال الشافعي كان هذا عندي والله اعلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يجيب على نحو ما يسال عنه يقال له نلتمسها في ليلة كذا فيقول التمسوها في ليلة كذا . قال الشافعي واقوى الروايات عندي فيها ليلة احدى وعشرين . قال ابو عيسى وقد روي عن ابى بن كعب انه كان يحلف انها ليلة سبع وعشرين . ويقول اخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعلامتها فعددنا وحفظنا . وروي عن ابي قلابة انه قال ليلة القدر تنتقل في العشر الاواخر . حدثنا بذلك عبد بن حميد اخبرنا عبد الرزاق عن معمر عن ايوب عن ابي قلابة بهذا
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ”یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہو گی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، ( زرّ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں ( اسے مسلمانو! ) بتا دیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، قال قلت لابى بن كعب انى علمت ابا المنذر انها ليلة سبع وعشرين قال بلى اخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ليلة صبيحتها تطلع الشمس ليس لها شعاع " . فعددنا وحفظنا والله لقد علم ابن مسعود انها في رمضان وانها ليلة سبع وعشرين ولكن كره ان يخبركم فتتكلوا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عیینہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ابوبکرہ رضی الله عنہ کے پاس شب قدر کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”جس چیز کی وجہ سے میں اسے صرف آخری عشرے ہی میں تلاش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”تلاش کرو جب ( مہینہ پورا ہونے میں ) نو دن باقی رہ جائیں، یا جب سات دن باقی رہ جائیں، یا جب پانچ دن رہ جائیں، یا جب تین دن رہ جائیں“۔ ابوبکرہ رضی الله عنہ رمضان کے بیس دن نماز پڑھتے تھے جیسے پورے سال پڑھتے تھے لیکن جب آخری عشرہ آتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عيينة بن عبد الرحمن، قال حدثني ابي قال، ذكرت ليلة القدر عند ابي بكرة فقال ما انا بملتمسها، لشيء سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم الا في العشر الاواخر فاني سمعته يقول " التمسوها في تسع يبقين او في سبع يبقين او في خمس يبقين او في ثلاث او اخر ليلة " . قال وكان ابو بكرة يصلي في العشرين من رمضان كصلاته في ساير السنة فاذا دخل العشر اجتهد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن هبيرة بن يريم، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوقظ اهله في العشر الاواخر من رمضان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت میں اتنی کوشش کرتے تھے جتنی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الاواخر ما لا يجتهد في غيرها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عامر بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کا مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے۔ عامر بن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا۔ یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں جن سے شعبہ اور ثوری نے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن نمير بن عريب، عن عامر بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الغنيمة الباردة الصوم في الشتاء " . قال ابو عيسى هذا حديث مرسل . عامر بن مسعود لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم وهو والد ابراهيم بن عامر القرشي الذي روى عنه شعبة والثوري
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ۱؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بكر بن مضر، عن عمرو بن الحارث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن يزيد، مولى سلمة بن الاكوع عن سلمة بن الاكوع، قال لما نزلت : (وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين ) كان من اراد منا ان يفطر ويفتدي حتى نزلت الاية التي بعدها فنسختها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ويزيد هو ابن ابي عبيد مولى سلمة بن الاكوع
محمد بن کعب کہتے ہیں کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ کر رہے تھے، ان کی سواری پر کجاوہ کسا جا چکا تھا اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، انہوں نے کھانا منگایا اور کھایا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سنت ہے؟ کہا: ہاں سنت ہے۔ پھر وہ سوار ہوئے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن جعفر، عن زيد بن اسلم، عن محمد بن المنكدر، عن محمد بن كعب، انه قال اتيت انس بن مالك في رمضان وهو يريد سفرا وقد رحلت له راحلته ولبس ثياب السفر فدعا بطعام فاكل فقلت له سنة قال سنة . ثم ركب
اس سند سے بھی محمد بن کعب سے روایت ہے کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثني زيد بن اسلم، قال حدثني محمد بن المنكدر، عن محمد بن كعب، قال اتيت انس بن مالك في رمضان فذكر نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومحمد بن جعفر هو ابن ابي كثير هو مديني ثقة وهو اخو اسماعيل بن جعفر . وعبد الله بن جعفر هو ابن نجيح والد علي بن عبد الله المديني وكان يحيى بن معين يضعفه . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث وقالوا للمسافر ان يفطر في بيته قبل ان يخرج وليس له ان يقصر الصلاة حتى يخرج من جدار المدينة او القرية . وهو قول اسحاق بن ابراهيم الحنظلي
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور ۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن سعد بن طريف، عن عمير بن مامون، عن الحسن بن علي، قال قال رسول الله " تحفة الصايم الدهن والمجمر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب ليس اسناده بذاك لا نعرفه الا من حديث سعد بن طريف . وسعد بن طريف يضعف ويقال عمير بن ماموم ايضا