Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث، اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا: کیا محمد بن منکدر نے عائشہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں: میں نے عائشہ سے سنا۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا يحيى بن اليمان، عن معمر، عن محمد بن المنكدر، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الفطر يوم يفطر الناس والاضحى يوم يضحي الناس " . قال ابو عيسى سالت محمدا قلت له محمد بن المنكدر سمع من عايشة قال نعم يقول في حديثه سمعت عايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ اعتکاف نہیں کر سکے تو جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس بن مالک کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- معتکف جب اپنا اعتکاف اس مدت کے پورا کرنے سے پہلے ختم کر دے جس کی اس نے نیت کی تھی تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے کہا: جب وہ اعتکاف توڑ دے تو اس پر قضاء واجب ہو گی انہوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اعتکاف سے نکل آئے تو آپ نے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا، یہ مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر اس پر اعتکاف کی نذر یا کوئی ایسی چیز نہ ہو جسے اس نے اپنے اوپر واجب کر لی ہو اور وہ نفل کی نیت سے اعتکاف میں رہا ہو پھر اعتکاف سے نکل آیا ہو تو اس پر قضاء واجب نہیں الا یہ کہ وہ اپنی پسند سے اسے چاہے اور یہ اس پر واجب نہیں ہو گا۔ یہی شافعی کا قول ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: ہر وہ عمل جس کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں تمہیں اختیار ہو جب تم اسے کرنا شروع کر دو پھر اس کے پورا ہونے سے پہلے تم اسے چھوڑ دو تو اس کی قضاء تم پر لازم نہیں ہے۔ سوائے حج اور عمرہ کے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، قال انبانا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في العشر الاواخر من رمضان فلم يعتكف عاما فلما كان في العام المقبل اعتكف عشرين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث انس بن مالك . واختلف اهل العلم في المعتكف اذا قطع اعتكافه قبل ان يتمه على ما نوى فقال بعض اهل العلم اذا نقض اعتكافه وجب عليه القضاء . واحتجوا بالحديث ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج من اعتكافه فاعتكف عشرا من شوال . وهو قول مالك . وقال بعضهم ان لم يكن عليه نذر اعتكاف او شيء اوجبه على نفسه وكان متطوعا فخرج فليس عليه ان يقضي الا ان يحب ذلك اختيارا منه ولا يجب ذلك عليه . وهو قول الشافعي . قال الشافعي فكل عمل لك ان لا تدخل فيه فاذا دخلت فيه فخرجت منه فليس عليك ان تقضي الا الحج والعمرة . وفي الباب عن ابي هريرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میرے قریب کر دیتے میں اس میں کنگھی کر دیتی ۱؎ اور آپ گھر میں کسی انسانی ضرورت کے علاوہ ۲؎ داخل نہیں ہوتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسے دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «مالك عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اسے بطریق: «مالك عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ابن شہاب زہری نے اسے عروہ اور عمرہ دونوں سے اور ان دونوں نے عائشہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو مصعب المدني، قراءة عن مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة، عن عايشة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اعتكف ادنى الى راسه فارجله وكان لا يدخل البيت الا لحاجة الانسان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . هكذا رواه غير واحد عن مالك عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عايشة . ورواه بعضهم عن مالك عن ابن شهاب عن عروة عن عمرة عن عايشة . والصحيح عن عروة وعمرة عن عايشة
ہم سے اسے قتیبہ نے بسند «الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب آدمی اعتکاف کرے تو انسانی ضرورت کے بغیر اپنے معتکف سے نہ نکلے، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پاخانہ پیشاب جیسی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نکل سکتا ہے، ۲- پھر معتکف کے لیے مریض کی عیادت کرنے، جمعہ اور جنازہ میں شریک ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مریض کی عیادت کر سکتا ہے، جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے اور جمعہ میں شریک ہو سکتا ہے جب کہ اس نے اس کی شرط لگا لی ہو۔ یہ سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے، ۳- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے ان میں سے کوئی بھی چیز کرنے کی اجازت نہیں، ان کا خیال ہے کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہو تو مسجد جامع میں ہی اعتکاف کرے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے معتکف سے نکلنا اس کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے جمعہ چھوڑنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے، اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد ہی میں اعتکاف کرے تاکہ اسے انسانی حاجتوں کے علاوہ کسی اور حاجت سے باہر نکلنے کی ضرورت نہ باقی رہے، اس لیے کہ بغیر کسی انسانی ضرورت کے مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے۔ ۴- اور احمد کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی رو سے نہ وہ مریض کی عیادت کرے گا، نہ جنازہ کے ساتھ جائے گا۔ ۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر وہ ان چیزوں کی شرط کر لے تو اسے جنازے کے ساتھ جانے اور مریض کی عیادت کرنے کی اجازت ہے۔
حدثنا بذلك، قتيبة حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة، عن عايشة، . والعمل على هذا عند اهل العلم اذا اعتكف الرجل ان لا يخرج من اعتكافه الا لحاجة الانسان واجتمعوا على هذا انه يخرج لقضاء حاجته للغايط والبول . ثم اختلف اهل العلم في عيادة المريض وشهود الجمعة والجنازة للمعتكف فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان يعود المريض ويشيع الجنازة ويشهد الجمعة اذا اشترط ذلك . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك . وقال بعضهم ليس له ان يفعل شييا من هذا وراوا للمعتكف اذا كان في مصر يجمع فيه ان لا يعتكف الا في مسجد الجامع لانهم كرهوا الخروج له من معتكفه الى الجمعة ولم يروا له ان يترك الجمعة فقالوا لا يعتكف الا في مسجد الجامع حتى لا يحتاج الى ان يخرج من معتكفه لغير قضاء حاجة الانسان لان خروجه لغير قضاء حاجة الانسان قطع عندهم للاعتكاف . وهو قول مالك والشافعي . وقال احمد لا يعود المريض ولا يتبع الجنازة على حديث عايشة . وقال اسحاق ان اشترط ذلك فله ان يتبع الجنازة ويعود المريض
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صیام رمضان رکھے تو آپ نے ہمیں نماز ( تراویح ) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا ( یعنی تہجد پڑھی ) یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر جب چھ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، ( یعنی تہجد نہیں پڑھی ) اور جب پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا ( یعنی تہجد پڑھی ) یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔ تو ہم نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس رات کے باقی ماندہ حصہ میں بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے ( تو بہتر ہوتا ) ؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ مہینے کے صرف تین دن باقی رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔ اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ ( راوی کہتے ہیں ) میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نعمان بن بشیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- رمضان کے قیام کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وتر کے ساتھ اکتالیس رکعتیں پڑھے گا، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، ان کے نزدیک مدینے میں اسی پر عمل تھا، ۴- اور اکثر اہل علم ان احادیث کی بنا پر جو عمر، علی اور دوسرے صحابہ کرام رضی الله عنہم سے مروی ہے بیس رکعت کے قائل ہیں۔ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ اور شافعی کہتے ہیں: اسی طرح سے میں نے اپنے شہر مکے میں پایا ہے کہ بیس رکعتیں پڑھتے تھے، ۵- احمد کہتے ہیں: اس سلسلے میں کئی قسم کی باتیں مروی ہیں ۱؎ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہمیں ابی بن کعب کی روایت کے مطابق ۴۱ رکعتیں مرغوب ہیں، ۷- ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے ماہ رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کیا ہے، ۸- شافعی نے اکیلے پڑھنے کو پسند کیا ہے جب وہ قاری ہو۔
حدثنا هناد، حدثنا محمد بن الفضيل، عن داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي، عن جبير بن نفير، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يصل بنا حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل ثم لم يقم بنا في السادسة وقام بنا في الخامسة حتى ذهب شطر الليل فقلنا له يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه فقال " انه من قام مع الامام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة " . ثم لم يصل بنا حتى بقي ثلاث من الشهر وصلى بنا في الثالثة ودعا اهله ونساءه فقام بنا حتى تخوفنا الفلاح . قلت له وما الفلاح قال السحور . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم في قيام رمضان فراى بعضهم ان يصلي احدى واربعين ركعة مع الوتر . وهو قول اهل المدينة والعمل على هذا عندهم بالمدينة . واكثر اهل العلم على ما روي عن عمر وعلي وغيرهما من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عشرين ركعة . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي . وقال الشافعي وهكذا ادركت ببلدنا بمكة يصلون عشرين ركعة . وقال احمد روي في هذا الوان . ولم يقض فيه بشيء . وقال اسحاق بل نختار احدى واربعين ركعة على ما روي عن ابى بن كعب . واختار ابن المبارك واحمد واسحاق الصلاة مع الامام في شهر رمضان . واختار الشافعي ان يصلي الرجل وحده اذا كان قاريا . وفي الباب عن عايشة والنعمان بن بشير وابن عباس
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فطر صايما كان له مثل اجره غير انه لا ينقص من اجر الصايم شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے قیام ( تہجد پڑھنے ) کی ترغیب دلاتے، بغیر اس کے کہ انہیں تاکیدی حکم دیں اور فرماتے: ”جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور معاملہ اسی پر قائم رہا، پھر ابوبکر رضی الله عنہ کے عہد خلافت میں اور عمر رضی الله عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی پر رہا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی سے حدیث آئی ہے، ۳- یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير ان يامرهم بعزيمة ويقول " من قام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه " . فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والامر على ذلك ثم كان الامر كذلك في خلافة ابي بكر وصدرا من خلافة عمر بن الخطاب على ذلك . وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وقد روي هذا الحديث ايضا عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح