Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن ۱؎ جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا ۲؎ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں ( تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو ) اور ایسا ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن مسعود اور سلمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء بن كريب حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان اول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت ابواب النار فلم يفتح منها باب. وفتحت ابواب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد يا باغي الخير اقبل ويا باغي الشر اقصر ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة " . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وابن مسعود وسلمان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قیام کیا تو اس کے سابقہ گناہ ۱؎ بخش دئیے جائیں گے۔ اور جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے بھی سابقہ گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی ( پچھلی ) حدیث، جسے ابوبکر بن عیاش نے روایت کی ہے غریب ہے، اسے ہم ابوبکر بن عیاش کی روایت کی طرح جسے انہوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة» روایت کی ہے۔ ابوبکر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بسند «حسن بن ربیع عن أبی الأحوص عن الأعمش» مجاہد کا قول نقل کیا کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے … پھر آگے انہوں نے پوری حدیث بیان کی، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، والمحاربي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صام رمضان وقامه ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه " . هذا حديث صحيح . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة الذي رواه ابو بكر بن عياش حديث غريب لا نعرفه من رواية ابي بكر بن عياش عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة الا من حديث ابي بكر . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث، فقال حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن مجاهد، قوله " اذا كان اول ليلة من شهر رمضان " . فذكر الحديث . قال محمد وهذا اصح عندي من حديث ابي بكر بن عياش
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ماہ ( رمضان ) سے ایک یا دو دن پہلے ( رمضان کے استقبال کی نیت سے ) روزے نہ رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ اس دن ایسا روزہ آ پڑے جسے تم پہلے سے رکھتے آ رہے ہو ۲؎ اور ( رمضان کا ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور ( شوال کا ) چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔ اگر آسمان ابر آلود ہو جائے تو مہینے کے تیس دن شمار کر لو، پھر روزہ رکھنا بند کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بعض صحابہ کرام سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ آدمی ماہ رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کے استقبال میں روزے رکھے، اور اگر کسی آدمی کا ( کسی خاص دن میں ) روزہ رکھنے کا معمول ہو اور وہ دن رمضان سے پہلے آ پڑے تو ان کے نزدیک اس دن روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا الشهر بيوم ولا بيومين الا ان يوافق ذلك صوما كان يصومه احدكم صوموا لرويته وافطروا لرويته فان غم عليكم فعدوا ثلاثين ثم افطروا " . روى منصور بن المعتمر عن ربعي بن حراش عن بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بنحو هذا . قال وفي الباب عن بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا ان يتعجل الرجل بصيام قبل دخول شهر رمضان لمعنى رمضان وان كان رجل يصوم صوما فوافق صيامه ذلك فلا باس به عندهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے ( رمضان کے استقبال میں ) روزہ نہ رکھو سوائے اس کے کہ آدمی اس دن روزہ رکھتا آ رہا ہو تو اسے رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقدموا شهر رمضان بصيام قبله بيوم او يومين الا ان يكون رجل كان يصوم صوما فليصمه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ۔ یہ سن کر ایک صاحب الگ گوشے میں ہو گئے اور کہا: میں روزے سے ہوں، اس پر عمار رضی الله عنہ نے کہا: جس نے کسی ایسے دن روزہ رکھا جس میں لوگوں کو شبہ ہو ۱؎ ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان لوگوں نے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس میں شبہ ہو، ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اور ان میں سے اکثر کا خیال ہے کہ اگر وہ اس دن روزہ رکھے اور وہ ماہ رمضان کا دن ہو تو وہ اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے۔
حدثنا ابو سعيد عبد الله بن سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس الملايي، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، قال كنا عند عمار بن ياسر فاتي بشاة مصلية فقال كلوا . فتنحى بعض القوم فقال اني صايم . فقال عمار من صام اليوم الذي يشك فيه الناس فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم . قال وفي الباب عن ابي هريرة وانس . قال ابو عيسى حديث عمار حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين وبه يقول سفيان الثوري ومالك بن انس وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق كرهوا ان يصوم الرجل اليوم الذي يشك فيه وراى اكثرهم ان صامه فكان من شهر رمضان ان يقضي يوما مكانه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طرح ابومعاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور صحیح وہ روایت ہے جو ( عبدہ بن سلیمان نے ) بطریق «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ شروع نہ کر دو، اسی طرح بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
حدثنا مسلم بن حجاج، حدثنا يحيى بن يحيى، حدثنا ابو معاوية، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احصوا هلال شعبان لرمضان " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة لا نعرفه مثل هذا الا من حديث ابي معاوية . والصحيح ما روي عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقدموا شهر رمضان بيوم ولا يومين " . وهكذا روي عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث محمد بن عمرو الليثي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے ۱؎ روزہ نہ رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور دیکھ کر ہی بند کرو، اور اگر بادل آڑے آ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔ ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصوموا قبل رمضان صوموا لرويته وافطروا لرويته فان حالت دونه غياية فاكملوا ثلاثين يوما " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي بكرة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے رکھنے سے زیادہ ۲۹ دن کے روزے رکھے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عمر، ابوہریرہ، عائشہ، سعد بن ابی وقاص، ابن عباس، ابن عمر، انس، جابر، ام سلمہ اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ دن کا ( بھی ) ہوتا ہے“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، اخبرني عيسى بن دينار، عن ابيه، عن عمرو بن الحارث بن ابي ضرار، عن ابن مسعود، قال ما صمت مع النبي صلى الله عليه وسلم تسعا وعشرين اكثر مما صمنا ثلاثين . قال وفي الباب عن عمر وابي هريرة وعايشة وسعد بن ابي وقاص وابن عباس وابن عمر وانس وجابر وام سلمة وابي بكرة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشهر يكون تسعا وعشرين
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا ( یعنی اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی ) پھر آپ نے اپنے بالاخانے میں ۲۹ دن قیام کیا ( پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے ) تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے کا ایلاء کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ دن کا ( بھی ) ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، انه قال الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه شهرا فاقام في مشربة تسعا وعشرين يوما قالوا يا رسول الله انك اليت شهرا فقال " الشهر تسع وعشرون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے چاند دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور کیا گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث میں اختلاف ہے۔ سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور سماک کے اکثر شاگردوں نے بھی بطریق: «سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلے میں ایک آدمی کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اور ابن مبارک، شافعی، احمد اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ روزہ بغیر دو آدمیوں کی گواہی کے نہ رکھا جائے گا۔ لیکن روزہ بند کرنے کے سلسلے میں اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس میں دو آدمی کی گواہی قبول ہو گی۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا الوليد بن ابي ثور، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني رايت الهلال . قال " اتشهد ان لا اله الا الله اتشهد ان محمدا رسول الله " . قال نعم . قال " يا بلال اذن في الناس ان يصوموا غدا " . حدثنا ابو كريب، حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن سماك، نحوه بهذا الاسناد . قال ابو عيسى حديث ابن عباس فيه اختلاف . وروى سفيان الثوري، وغيره، عن سماك، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا واكثر اصحاب سماك رووا عن سماك عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم قالوا تقبل شهادة رجل واحد في الصيام . وبه يقول ابن المبارك والشافعي واحمد واهل الكوفة . قال اسحاق لا يصام الا بشهادة رجلين . ولم يختلف اهل العلم في الافطار انه لا يقبل فيه الا شهادة رجلين
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دونوں مہینے رمضان ۱؎ اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے ( یعنی دونوں ۲۹ دن کے نہیں ہوتے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبکرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس حدیث ”عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے“ کا مطلب یہ ہے کہ رمضان اور ذی الحجہ دونوں ایک ہی سال کے اندر کم نہیں ہوتے ۲؎ اگر ان دونوں میں کوئی کم ہو گا یعنی ایک ۲۹ دن کا ہو گا تو دوسرا پورا یعنی تیس دن کا ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ۲۹ دن کے ہوں تو بھی ثواب کے اعتبار سے کم نہ ہوں گے، اسحاق بن راہویہ کے مذہب کی رو سے دونوں مہینے ایک سال میں کم ہو سکتے ہیں یعنی دونوں ۲۹ دن کے ہو سکتے ہیں ۳؎۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف البصري حدثنا بشر بن المفضل، عن خالد الحذاء، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شهرا عيد لا ينقصان رمضان وذو الحجة " . قال ابو عيسى حديث ابي بكرة حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال احمد معنى هذا الحديث " شهرا عيد لا ينقصان " . يقول لا ينقصان معا في سنة واحدة شهر رمضان وذو الحجة ان نقص احدهما تم الاخر . وقال اسحاق معناه " لا ينقصان " يقول وان كان تسعا وعشرين فهو تمام غير نقصان . وعلى مذهب اسحاق يكون ينقص الشهران معا في سنة واحدة
کریب بیان کرتے ہیں کہ ام فضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور ( اسی درمیان ) رمضان کا چاند نکل آیا، اور میں شام ہی میں تھا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ۱؎، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ آیا تو ابن عباس رضی الله عنہما نے مجھ سے وہاں کے حالات پوچھے پھر انہوں نے چاند کا ذکر کیا اور کہا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے بھی جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ تو میں نے کہا: لوگوں نے اسے دیکھا اور انہوں نے روزے رکھے اور معاویہ رضی الله عنہ نے بھی روزہ رکھا، اس پر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: لیکن ہم نے اسے ہفتہ ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا، تو ہم برابر روزے سے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ۲۹ کا چاند دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا آپ معاویہ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے پر اکتفا نہیں کریں گے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لیے ان کے خود چاند دیکھنے کا اعتبار ہو گا۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، حدثنا محمد بن ابي حرملة، اخبرني كريب، ان ام الفضل بنت الحارث، بعثته الى معاوية بالشام . قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل على هلال رمضان وانا بالشام فراينا الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة في اخر الشهر فسالني ابن عباس ثم ذكر الهلال فقال متى رايتم الهلال فقلت رايناه ليلة الجمعة . فقال اانت رايته ليلة الجمعة فقلت راه الناس وصاموا وصام معاوية . قال لكن رايناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين يوما او نراه . فقلت الا تكتفي بروية معاوية وصيامه قال لا هكذا امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح غريب . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم ان لكل اهل بلد رويتهم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ہم نہیں جانتے کہ انس کی حدیث سعید بن عامر کے علاوہ کسی اور نے بھی شعبہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث غیر محفوظ ہے ۱؎، ہم اس کی کوئی اصل عبدالعزیز کی روایت سے جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہو نہیں جانتے، اور شعبہ کے شاگردوں نے یہ حدیث بطریق: «شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور یہ سعید بن عامر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کچھ اور لوگوں نے اس کی بطریق: «شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان» روایت کی ہے اور اس میں شعبہ کی رباب سے روایت کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور صحیح وہ ہے جسے سفیان ثوری، ابن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، اور ابن عون کہتے ہیں: «عن أم الرائح بنت صليع عن سلمان بن عامر» اور رباب ہی دراصل ام الرائح ہیں ۲؎۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجد تمرا فليفطر عليه ومن لا فليفطر على ماء فان الماء طهور " . قال وفي الباب عن سلمان بن عامر . قال ابو عيسى حديث انس لا نعلم احدا رواه عن شعبة مثل هذا غير سعيد بن عامر وهو حديث غير محفوظ ولا نعلم له اصلا من حديث عبد العزيز بن صهيب عن انس . وقد روى اصحاب شعبة هذا الحديث عن شعبة عن عاصم الاحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو اصح من حديث سعيد بن عامر . وهكذا رووا عن شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان ولم يذكر فيه شعبة عن الرباب . والصحيح ما رواه سفيان الثوري وابن عيينة وغير واحد عن عاصم الاحول عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر . وابن عون يقول عن ام الرايح بنت صليع عن سلمان بن عامر . والرباب هي ام الرايح
سلمان بن عامر ضبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو چاہیئے کہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اور جسے ( کھجور ) میسر نہ ہو تو وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ یہ پاکیزہ چیز ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عاصم الاحول، ح وحدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، . وحدثنا قتيبة، قال انبانا سفيان بن عيينة، عن عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر الضبي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا افطر احدكم فليفطر على تمر " . زاد ابن عيينة " فانه بركة فمن لم يجد فليفطر على ماء فانه طهور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مغرب ) پڑھنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار کرتے تھے، اور اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں چند کھجوروں سے افطار کرتے اور گرمیوں میں پانی سے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال " كان النبي صلى الله عليه وسلم يفطر قبل ان يصلي على رطبات فان لم تكن رطبات فتميرات فان لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . قال ابو عيسى وروي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفطر في الشتاء على تمرات وفي الصيف على الماء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
اخبرني محمد بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا اسحاق بن جعفر بن محمد، حدثني عبد الله بن جعفر، عن عثمان بن محمد الاخنسي، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والاضحى يوم تضحون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفسر بعض اهل العلم هذا الحديث فقال انما معنى هذا ان الصوم والفطر مع الجماعة وعظم الناس
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات آ جائے، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عاصم بن عمر، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقبل الليل وادبر النهار وغابت الشمس فقد افطرت " . قال وفي الباب عن ابن ابي اوفى وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ برابر خیر میں رہیں گے ۱؎ جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سہل بن سعد رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، عائشہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی قول ہے جسے صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم نے اختیار کیا ہے، ان لوگوں نے افطار میں جلدی کرنے کو مستحب جانا ہے اور اسی کے شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی قائل ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن ابي حازم، ح قال واخبرنا ابو مصعب، قراءة عن مالك بن انس، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس وعايشة وانس بن مالك . قال ابو عيسى حديث سهل بن سعد حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم استحبوا تعجيل الفطر . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: مجھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں“ ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن قرة بن عبد الرحمن، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله عز وجل احب عبادي الى اعجلهم فطرا
اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا ابو عاصم، وابو المغيرة، عن الاوزاعي، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب