احادیث
#686
سنن ترمذی - Fasting
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو انہوں نے کہا: کھاؤ۔ یہ سن کر ایک صاحب الگ گوشے میں ہو گئے اور کہا: میں روزے سے ہوں، اس پر عمار رضی الله عنہ نے کہا: جس نے کسی ایسے دن روزہ رکھا جس میں لوگوں کو شبہ ہو ۱؎ ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمار رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان لوگوں نے اس دن روزہ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے جس میں شبہ ہو، ( کہ رمضان کا چاند ہوا ہے یا نہیں ) اور ان میں سے اکثر کا خیال ہے کہ اگر وہ اس دن روزہ رکھے اور وہ ماہ رمضان کا دن ہو تو وہ اس کے بدلے ایک دن کی قضاء کرے۔
حدثنا ابو سعيد عبد الله بن سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس الملايي، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، قال كنا عند عمار بن ياسر فاتي بشاة مصلية فقال كلوا . فتنحى بعض القوم فقال اني صايم . فقال عمار من صام اليوم الذي يشك فيه الناس فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم . قال وفي الباب عن ابي هريرة وانس . قال ابو عيسى حديث عمار حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين وبه يقول سفيان الثوري ومالك بن انس وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق كرهوا ان يصوم الرجل اليوم الذي يشك فيه وراى اكثرهم ان صامه فكان من شهر رمضان ان يقضي يوما مكانه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #686
- Book Index
- 5
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiDaif
