Loading...

Loading...
کتب
۱۲۷ احادیث
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گئے، ہم نے عرض کیا: ام المؤمنین! صحابہ میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار جلدی کرتا ہے اور نماز ۱؎ بھی جلدی پڑھتا ہے اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے اور نماز بھی دیر سے پڑھتا ہے ۲؎ انہوں نے کہا: وہ کون ہے جو افطار جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے، ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے اور دوسرے ابوموسیٰ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعطیہ کا نام مالک بن ابی عامر ہمدانی ہے اور انہیں ابن عامر ہمدانی بھی کہا جاتا ہے۔ اور ابن عامر ہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي عطية، قال دخلت انا ومسروق، على عايشة فقلنا يا ام المومنين رجلان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احدهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة والاخر يوخر الافطار ويوخر الصلاة . قالت ايهما يعجل الافطار ويعجل الصلاة قلنا عبد الله بن مسعود . قالت هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم . والاخر ابو موسى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو عطية اسمه مالك بن ابي عامر الهمداني ويقال مالك بن عامر الهمداني وابن عامر اصح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، انس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کی مقدار کتنی تھی؟ ۱؎ انہوں نے کہا: پچاس آیتوں کے ( پڑھنے کے ) بقدر ۲؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا هشام الدستوايي، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن زيد بن ثابت، قال تسحرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم قمنا الى الصلاة . قال قلت كم كان قدر ذلك قال قدر خمسين اية
اس سند سے بھی ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے: پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن هشام، بنحوه الا انه قال قدر قراءة خمسين اية . قال وفي الباب عن حذيفة . قال ابو عيسى حديث زيد بن ثابت حديث حسن صحيح . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق استحبوا تاخير السحور
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ۱؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- طلق بن علی رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عدی بن حاتم، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ صائم پر کھانا پینا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ فجر کی سرخ چوڑی روشنی نمودار نہ ہو جائے، اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ملازم بن عمرو، حدثني عبد الله بن النعمان، عن قيس بن طلق، حدثني ابي طلق بن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كلوا واشربوا ولا يهيدنكم الساطع المصعد وكلوا واشربوا حتى يعترض لكم الاحمر " . قال وفي الباب عن عدي بن حاتم وابي ذر وسمرة . قال ابو عيسى حديث طلق بن علي حديث حسن غريب من هذا الوجه . والعمل على هذا عند اهل العلم انه لا يحرم على الصايم الاكل والشرب حتى يكون الفجر الاحمر المعترض . وبه يقول عامة اهل العلم
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان باز نہ رکھے اور نہ ہی لمبی فجر باز رکھے، ہاں وہ فجر باز رکھے جو کناروں میں پھیلتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا هناد، ويوسف بن عيسى، قالا حدثنا وكيع، عن ابي هلال، عن سوادة بن حنظلة، هو القشيري عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنعنكم من سحوركم اذان بلال ولا الفجر المستطيل ولكن الفجر المستطير في الافق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ( «صائم» ) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة بان يدع طعامه وشرابه " . قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ ۱؎، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، عمرو بن العاص، عرباض بن ساریہ، عتبہ بن عبداللہ اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانے کا ہے“ ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، وعبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " تسحروا فان في السحور بركة " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن مسعود وجابر بن عبد الله وابن عباس وعمرو بن العاص والعرباض بن سارية وعتبة بن عبد وابي الدرداء . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
اس سند سے عمرو بن عاص رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل مصر موسى بن عَلِيّ ( عین کے فتحہ کے ساتھ ) : کہتے ہیں اور اہل عراق موسى بن عُليّ ( عین کے ضمہ کے ساتھ ) کہتے ہیں اور وہ موسیٰ بن عُلَيّ بن رباح اللخمی ہیں۔
وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " فصل ما بين صيامنا وصيام اهل الكتاب اكلة السحر " . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا الليث عن موسى بن علي عن ابيه عن ابي قيس مولى عمرو بن العاص عن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم بذلك . قال وهذا حديث حسن صحيح . واهل مصر يقولون موسى بن علي واهل العراق يقولون موسى بن على وهو موسى بن علي بن رباح اللخمي
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف نکلے تو آپ نے روزہ رکھا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع غمیم ۱؎ پر پہنچے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ رکھنا گراں ہو رہا ہے اور لوگ آپ کے عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ ( یعنی منتظر ہیں کہ آپ کچھ کریں ) تو آپ نے عصر کے بعد ایک پیالہ پانی منگا کر پیا، لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے، تو ان میں سے بعض نے روزہ توڑ دیا اور بعض رکھے رہے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ ( اب بھی ) روزے سے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہی لوگ نافرمان ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں کعب بن عاصم، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“، ۴- سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، یہاں تک بعض لوگوں کی رائے ہے کہ جب وہ سفر میں روزہ رکھ لے تو وہ سفر سے لوٹنے کے بعد پھر دوبارہ رکھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی سفر میں روزہ نہ رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ۵- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وہ طاقت پائے اور روزہ رکھے تو یہی مستحسن اور افضل ہے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک اسی کے قائل ہیں، ۶- شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں“ اور جس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ روزے سے ہیں تو آپ کا یہ فرمانا کہ ”یہی لوگ نافرمان ہیں“ ایسے شخص کے لیے ہے جس کا دل اللہ کی دی ہوئی رخصت اور اجازت کو قبول نہ کرے، لیکن جو لوگ سفر میں روزہ نہ رکھنے کو مباح سمجھتے ہوئے روزہ رکھے اور اس کی قوت بھی رکھتا ہو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى مكة عام الفتح فصام حتى بلغ كراع الغميم وصام الناس معه فقيل له ان الناس قد شق عليهم الصيام وان الناس ينظرون فيما فعلت . فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب والناس ينظرون اليه فافطر بعضهم وصام بعضهم فبلغه ان ناسا صاموا فقال " اوليك العصاة " . قال وفي الباب عن كعب بن عاصم وابن عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ليس من البر الصيام في السفر " . واختلف اهل العلم في الصوم في السفر فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الفطر في السفر افضل حتى راى بعضهم عليه الاعادة اذا صام في السفر . واختار احمد واسحاق الفطر في السفر . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان وجد قوة فصام فحسن وهو افضل وان افطر فحسن . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس وعبد الله بن المبارك . وقال الشافعي وانما معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " ليس من البر الصيام في السفر " . وقوله حين بلغه ان ناسا صاموا فقال " اوليك العصاة " . فوجه هذا اذا لم يحتمل قلبه قبول رخصة الله فاما من راى الفطر مباحا وصام وقوي على ذلك فهو اعجب الى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، وہ خود مسلسل روزہ رکھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث کہ حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک، ابو سعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرو، ابو الدرداء اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان حمزة بن عمرو الاسلمي، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر وكان يسرد الصوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شيت فصم وان شيت فافطر " . قال وفي الباب عن انس بن مالك وابي سعيد وعبد الله بن مسعود وعبد الله بن عمرو وابي الدرداء وحمزة بن عمرو الاسلمي . قال ابو عيسى حديث عايشة ان حمزة بن عمرو سال النبي صلى الله عليه وسلم حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تو نہ آپ روزہ رکھنے والے کے روزہ رکھنے پر نکیر کرتے اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والے کے روزہ نہ رکھنے پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا بشر بن المفضل، عن سعيد بن يزيد ابي مسلمة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فما يعيب على الصايم صومه ولا على المفطر افطاره . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض روزے سے نہ ہوتے۔ تو نہ تو روزہ نہ رکھنے والا رکھنے والے پر غصہ کرتا اور نہ ہی روزہ رکھنے والے نہ رکھنے والے پر، ان کا خیال تھا کہ جسے قوت ہو وہ روزہ رکھے تو بہتر ہے، اور جس نے کمزوری محسوس کی اور روزہ نہ رکھا تو بھی بہتر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا الجريري، ح قال وحدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنا الصايم ومنا المفطر فلا يجد المفطر على الصايم ولا الصايم على المفطر فكانوا يرون انه من وجد قوة فصام فحسن ومن وجد ضعفا فافطر فحسن . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
معمر بن ابی حیّیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن مسیب سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو ابن مسیب نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو غزوے کئے۔ غزوہ بدر اور فتح مکہ، ہم نے ان دونوں میں روزے نہیں رکھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے، ۳- ابو سعید خدری سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے ( لوگوں کو ) ایک غزوے میں افطار کا حکم دیا۔ عمر بن خطاب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ البتہ انہوں نے روزہ رکھنے کی رخصت دشمن سے مڈبھیڑ کی صورت میں دی ہے۔ اور بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن معمر بن ابي حيية، عن ابن المسيب، انه ساله عن الصوم، في السفر فحدث ان عمر بن الخطاب قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان غزوتين يوم بدر والفتح فافطرنا فيهما . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى حديث عمر لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد روي عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه امر بالفطر في غزوة غزاها . وقد روي عن عمر بن الخطاب نحو هذا انه رخص في الافطار عند لقاء العدو وبه يقول بعض اهل العلم
انس بن مالک کعبی رضی الله عنہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں نے ہم پر رات میں حملہ کیا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو پایا کہ آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ کھا لو“، میں نے عرض کیا: ”میں روزے سے ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”قریب آؤ، میں تمہیں روزے کے بارے میں بتاؤں، اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز ۲؎ معاف کر دی ہے، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ کو معاف کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت دونوں لفظ کہے یا ان میں سے کوئی ایک لفظ کہا، تو ہائے افسوس اپنے آپ پر کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیوں نہیں کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس بن مالک کعبی کی حدیث حسن ہے، انس بن مالک کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ہم نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۲- اس باب میں ابوامیہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ نہیں رکھیں گی، بعد میں قضاء کریں گی، اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ سفیان، مالک، شافعی اور احمد اسی کے قائل ہیں، ۵- بعض کہتے ہیں: وہ روزہ نہیں رکھیں گی بلکہ فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں گی۔ اور ان پر کوئی قضاء نہیں اور اگر وہ قضاء کرنا چاہیں تو ان پر کھانا کھلانا واجب نہیں۔ اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۳؎۔
حدثنا ابو كريب، ويوسف بن عيسى، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابو هلال، عن عبد الله بن سوادة، عن انس بن مالك، رجل من بني عبد الله بن كعب قال اغارت علينا خيل رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدته يتغدى فقال " ادن فكل " . فقلت اني صايم . فقال " ادن احدثك عن الصوم او الصيام ان الله تعالى وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل او المرضع الصوم او الصيام " . والله لقد قالهما النبي صلى الله عليه وسلم كلتيهما او احداهما فيا لهف نفسي ان لا اكون طعمت من طعام النبي صلى الله عليه وسلم . قال وفي الباب عن ابي امية . قال ابو عيسى حديث انس بن مالك الكعبي حديث حسن ولا نعرف لانس بن مالك هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث الواحد . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقال بعض اهل العلم الحامل والمرضع تفطران وتقضيان وتطعمان . وبه يقول سفيان ومالك والشافعي واحمد . وقال بعضهم تفطران وتطعمان ولا قضاء عليهما وان شاءتا قضتا ولا اطعام عليهما . وبه يقول اسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میری بہن مر گئی ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ بتائیے میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ذرا بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اس نے کہا: ہاں ( ادا کرتی ) ، آپ نے فرمایا: ”تو اللہ کا حق اس سے بھی بڑا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الاعمش، عن سلمة بن كهيل، ومسلم البطين، عن سعيد بن جبير، وعطاء، ومجاهد، عن ابن عباس، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان اختي ماتت وعليها صوم شهرين متتابعين . قال " ارايت لو كان على اختك دين اكنت تقضينه " . قالت نعم . قال " فحق الله احق " . قال وفي الباب عن بريدة وابن عمر وعايشة
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوخالد احمر نے اعمش سے یہ حدیث بہت عمدہ طریقے سے روایت کی ہے، ۳- ابوخالد الاحمر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی اسے اعمش سے ابوخالد کی روایت کے مثل روایت کیا ہے، ابومعاویہ نے اور دوسرے کئی اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے سلمہ بن کہیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی عطاء اور مجاہد کے واسطے کا، ابوخالد کا نام سلیمان بن حیان ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الاعمش، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . قال وسمعت محمدا، يقول جود ابو خالد الاحمر هذا الحديث عن الاعمش، . قال محمد وقد روى غير ابي خالد، عن الاعمش، مثل رواية ابي خالد . قال ابو عيسى وروى ابو معاوية، وغير، واحد، هذا الحديث عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم . ولم يذكروا فيه سلمة بن كهيل ولا عن عطاء ولا عن مجاهد . واسم ابي خالد سليمان بن حيان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے، ۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ یہ دونوں کہتے ہیں: جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا، مالک، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبثر بن القاسم، عن اشعث، عن محمد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مات وعليه صيام شهر فليطعم عنه مكان كل يوم مسكينا " . قال ابو عيسى حديث ابن عمر لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه والصحيح عن ابن عمر موقوف قوله . واختلف اهل العلم في هذا الباب فقال بعضهم يصام عن الميت . وبه يقول احمد واسحاق قالا اذا كان على الميت نذر صيام يصوم عنه واذا كان عليه قضاء رمضان اطعم عنه . وقال مالك وسفيان والشافعي لا يصوم احد عن احد . قال واشعث هو ابن سوار . ومحمد هو عندي ابن عبد الرحمن بن ابي ليلى
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا: پچھنا لگوانے سے ۱؎، قے آ جانے سے اور احتلام ہو جانے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ۲- عبداللہ بن زید بن اسلم اور عبدالعزیز بن محمد اور دیگر کئی رواۃ نے یہ حدیث زید بن اسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس میں ان لوگوں نے ابو سعید خدری کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں، ۴- میں نے ابوداؤد سجزی کو کہتے سنا کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ بن زید بن اسلم میں کوئی حرج نہیں، ۴- اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا کہ علی بن عبداللہ المدینی نے عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں اور عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں ۲؎ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کچھ روایت نہیں کرتا۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث لا يفطرن الصايم الحجامة والقىء والاحتلام " . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد الخدري حديث غير محفوظ . وقد روى عبد الله بن زيد بن اسلم وعبد العزيز بن محمد وغير واحد هذا الحديث عن زيد بن اسلم مرسلا . ولم يذكروا فيه عن ابي سعيد . وعبد الرحمن بن زيد بن اسلم يضعف في الحديث . قال سمعت ابا داود السجزي يقول سالت احمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن زيد بن اسلم فقال اخوه عبد الله بن زيد لا باس به . قال وسمعت محمدا يذكر عن علي بن عبد الله المديني قال عبد الله بن زيد بن اسلم ثقة وعبد الرحمن بن زيد بن اسلم ضعيف . قال محمد ولا اروي عنه شييا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ۱؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے بسند «هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» عیسیٰ بن یونس ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، ۲- یہ حدیث دوسری اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- اس باب میں ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہم سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے سے تھے۔ قے ہوئی تو آپ نے کچھ کمزوری محسوس کی اس لیے روزہ توڑ دیا، بعض روایات میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے، ۵- اور اہل علم کا عمل ابوہریرہ کی حدیث پر ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ روزہ دار کو جب قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہے۔ اور جب قے جان بوجھ کر کرے تو اسے چاہیئے کہ قضاء کرے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ذرعه القىء فليس عليه قضاء ومن استقاء عمدا فليقض " . قال وفي الباب عن ابي الدرداء وثوبان وفضالة بن عبيد . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث هشام عن ابن سيرين عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من حديث عيسى بن يونس . وقال محمد لا اراه محفوظا . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا يصح اسناده . وقد روي عن ابي الدرداء وثوبان وفضالة بن عبيد ان النبي صلى الله عليه وسلم قاء فافطر . وانما معنى هذا ان النبي صلى الله عليه وسلم كان صايما متطوعا فقاء فضعف فافطر لذلك . هكذا روي في بعض الحديث مفسرا . والعمل عند اهل العلم على حديث ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ان الصايم اذا ذرعه القىء فلا قضاء عليه واذا استقاء عمدا فليقض . وبه يقول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، وہ روزہ نہ توڑے، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے“ ۱؎۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج بن ارطاة، عن قتادة، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل او شرب ناسيا فلا يفطر فانما هو رزق رزقه الله