احادیث
#750
سنن ترمذی - Fasting
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا، ام فضل رضی الله عنہا نے آپ کے پاس دودھ بھیجا تو آپ نے اسے پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر اور ام الفضل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے اس دن کا ( یعنی یوم عرفہ کا ) روزہ نہیں رکھا اور ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، عمر کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، اور عثمان کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ عرفات میں روزہ نہ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں تاکہ آدمی دعا کی زیادہ سے زیادہ قدرت رکھ سکے، ۵- اور بعض اہل علم نے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم افطر بعرفة وارسلت اليه ام الفضل بلبن فشرب . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عمر وام الفضل . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عمر قال حججت مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يصمه يعني يوم عرفة ومع ابي بكر فلم يصمه ومع عمر فلم يصمه ومع عثمان فلم يصمه . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم يستحبون الافطار بعرفة ليتقوى به الرجل على الدعاء وقد صام بعض اهل العلم يوم عرفة بعرفة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #750
- Book Index
- 69
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
