احادیث
#739
سنن ترمذی - Fasting
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں ( آپ کی تلاش میں ) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں، ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الحجاج بن ارطاة، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة، عن عايشة، قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فخرجت فاذا هو بالبقيع فقال " اكنت تخافين ان يحيف الله عليك ورسوله " . قلت يا رسول الله اني ظننت انك اتيت بعض نسايك . فقال " ان الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان الى السماء الدنيا فيغفر لاكثر من عدد شعر غنم كلب " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق . قال ابو عيسى حديث عايشة لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث الحجاج . وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث وقال يحيى بن ابي كثير لم يسمع من عروة والحجاج بن ارطاة لم يسمع من يحيى بن ابي كثير
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Fasting
- Hadith Index
- #739
- Book Index
- 58
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Bashar Awad MaaroufDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
