Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی تنقیص کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الله بن داود، عن حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، قال ما اظن رجلا ينتقص ابا بكر وعمر يحب النبي صلى الله عليه وسلم . قال هذا حديث حسن غريب
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، قال حدثنا المقري، عن حيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كان بعدي نبي لكان عمر بن الخطاب " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث مشرح بن هاعان
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت كاني اتيت بقدح من لبن فشربت منه فاعطيت فضلي عمر بن الخطاب " . قالوا فما اولته يا رسول الله قال " العلم " .هذا حديث حسن صحيح غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " دخلت الجنة فاذا انا بقصر من ذهب فقلت لمن هذا القصر قالوا لشاب من قريش فظننت اني انا هو فقلت ومن هو فقالوا عمر بن الخطاب " . هذا حديث حسن صحيح
بریدہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) صبح کی تو بلال رضی الله عنہ کو بلایا اور پوچھا: ”بلال! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو ( آج بھی ) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا: میں ( بھی ) عرب ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا: میں ( بھی ) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا ہے“، بلال رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کر لیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں ( واجب ) ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں دونوں رکعتوں ( یا خصلتوں ) کی سے ( یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے“ ۱؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے“، ۳- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: انبیاء کے خواب وحی ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث ابو عمار المروزي، قال حدثنا علي بن الحسين بن واقد، قال حدثني ابي، قال حدثني عبد الله بن بريدة، قال حدثني ابي بريدة، قال اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعا بلالا فقال " يا بلال بم سبقتني الى الجنة ما دخلت الجنة قط الا سمعت خشخشتك امامي دخلت البارحة الجنة فسمعت خشخشتك امامي فاتيت على قصر مربع مشرف من ذهب فقلت لمن هذا القصر فقالوا لرجل من العرب فقلت انا عربي لمن هذا القصر قالوا لرجل من قريش قلت انا قرشي لمن هذا القصر قالوا لرجل من امة محمد قلت انا محمد لمن هذا القصر قالوا لعمر بن الخطاب " . فقال بلال يا رسول الله ما اذنت قط الا صليت ركعتين وما اصابني حدث قط الا توضات عندها ورايت ان لله على ركعتين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بهما " . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر ومعاذ وانس وابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت في الجنة قصرا من ذهب فقلت لمن هذا فقيل لعمر بن الخطاب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ومعنى هذا الحديث اني دخلت البارحة الجنة يعني رايت في المنام كاني دخلت الجنة هكذا روي في بعض الحديث . ويروى عن ابن عباس انه قال رويا الانبياء وحى
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی ( حبشی ) لونڈی نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں“ ۱؎، چنانچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران ابوبکر رضی الله عنہ اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر علی رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان رضی الله عنہ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عمر رضی الله عنہ داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ۲؎، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر! تو اس نے دف پھینک ڈالی“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثنا علي بن الحسين بن واقد، حدثني ابي، قال حدثني عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي بريدة، يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض مغازيه فلما انصرف جاءت جارية سوداء فقالت يا رسول الله اني كنت نذرت ان ردك الله سالما ان اضرب بين يديك بالدف واتغنى . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان كنت نذرت فاضربي والا فلا " . فجعلت تضرب فدخل ابو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب ثم دخل عمر فالقت الدف تحت استها ثم قعدت عليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشيطان ليخاف منك يا عمر اني كنت جالسا وهي تضرب فدخل ابو بكر وهي تضرب ثم دخل علي وهي تضرب ثم دخل عثمان وهي تضرب فلما دخلت انت يا عمر القت الدف " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث بريدة وفي الباب عن عمر وسعد بن ابي وقاص وعايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! آؤ، تم بھی دیکھ لو“، تو میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟“ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے؟ اتنے میں عمر رضی الله عنہ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن صباح البزار، قال حدثنا زيد بن حباب، عن خارجة بن عبد الله ابن سليمان بن زيد بن ثابت، قال اخبرنا يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا فسمعنا لغطا وصوت صبيان فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا حبشية تزفن والصبيان حولها فقال " يا عايشة تعالى فانظري " . فجيت فوضعت لحيى على منكب رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلت انظر اليها ما بين المنكب الى راسه فقال لي " اما شبعت اما شبعت " . قالت فجعلت اقول لا لانظر منزلتي عنده اذ طلع عمر قال فارفض الناس عنها قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لانظر الى شياطين الانس والجن قد فروا من عمر " . قالت فرجعت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی، پھر ابوبکر، پھر عمر رضی الله عنہما، ( سے زمین شق ہو گی ) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، قال حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ، قال حدثنا عاصم بن عمر العمري، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اول من تنشق عنه الارض ثم ابو بكر ثم عمر ثم اتي اهل البقيع فيحشرون معي ثم انتظر اهل مكة حتى احشر بين الحرمين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وعاصم بن عمر العمري ليس بالحافظ عند اهل الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ۱؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد كان يكون في الامم محدثون فان يك في امتي احد فعمر بن الخطاب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح .و اخبرني بعض اصحاب سفيان بن عيينة قال قال سفيان بن عيينة محدثون يعني مفهمون
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“ تو ابوبکر رضی الله عنہ آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے“، تو عمر رضی الله عنہ آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن حميد، قال حدثنا عبد الله بن عبد القدوس، قال حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن عبيدة السلماني، عن عبد الله بن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يطلع عليكم رجل من اهل الجنة " . فاطلع ابو بكر ثم قال " يطلع عليكم رجل من اهل الجنة " . فاطلع عمر . وفي الباب عن ابي موسى وجابر . هذا حديث غريب من حديث ابن مسعود
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود الطيالسي، عن شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يرعى غنما له اذ جاء ذيب فاخذ شاة فجاء صاحبها فانتزعها منه فقال الذيب كيف تصنع بها يوم السبع يوم لا راعي لها غيري " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فامنت بذلك انا وابو بكر وعمر " . قال ابو سلمة وما هما في القوم يوميذ . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على حراء هو وابو بكر وعمر وعلي وعثمان وطلحة والزبير رضى الله عنهم فتحركت الصخرة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اهدا انما عليك نبي او صديق او شهيد " .وفي الباب عن عثمان وسعيد بن زيد وابن عباس وسهل بن سعد وانس بن مالك وبريدة هذا حديث صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے احد! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صعد احدا وابو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اثبت احد فانما عليك نبي وصديق وشهيدان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، قال حدثنا يحيى بن اليمان، عن شيخ، من بني زهرة عن الحارث بن عبد الرحمن بن ابي ذباب، عن طلحة بن عبيد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لكل نبي رفيق ورفيقي - يعني في الجنة عثمان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب و ليس اسناده بالقوي وهو منقطع
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی الله عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟“، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سلسلے میں فرمایا تھا: ”کون ( اس غزوہ کا ) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو گا ( اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے ) “ تو میں نے ( خرچ دے کر ) اس لشکر کو تیار کیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان رضی الله عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کر دیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا عبد الله بن جعفر الرقي، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد، هو ابن ابي انيسة عن ابي اسحاق، عن ابي عبد الرحمن السلمي، قال لما حصر عثمان اشرف عليهم فوق داره ثم قال اذكركم بالله هل تعلمون ان حراء حين انتفض قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اثبت حراء فليس عليك الا نبي او صديق او شهيد " . قالوا نعم . قال اذكركم بالله هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في جيش العسرة " من ينفق نفقة متقبلة " . والناس مجهدون معسرون فجهزت ذلك الجيش قالوا نعم . ثم قال اذكركم بالله هل تعلمون ان بير رومة لم يكن يشرب منها احد الا بثمن فابتعتها فجعلتها للغني والفقير وابن السبيل قالوا اللهم نعم واشياء عددها . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث ابي عبد الرحمن السلمي عن عثمان
عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ”اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا السكن بن المغيرة، ويكنى ابا محمد، مولى لال عثمان قال حدثنا الوليد بن ابي هشام، عن فرقد ابي طلحة، عن عبد الرحمن بن خباب، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله على ماية بعير باحلاسها واقتابها في سبيل الله . ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله على مايتا بعير باحلاسها واقتابها في سبيل الله . ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله لله على ثلاثماية بعير باحلاسها واقتابها في سبيل الله . فانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول " ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه لا نعرفه الا من حديث السكن بن المغيرة . وفي الباب عن عبد الرحمن بن سمرة
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، ( حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے ) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا“، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا الحسن بن واقع الرملي، قال حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن عبد الله بن شوذب، عن عبد الله بن القاسم، عن كثير، مولى عبد الرحمن بن سمرة عن عبد الرحمن ابن سمرة، قال جاء عثمان الى النبي صلى الله عليه وسلم بالف دينار - قال الحسن بن واقع وكان في موضع اخر من كتابي في كمه حين جهز جيش العسرة فنثرها في حجره . قال عبد الرحمن فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يقلبها في حجره ويقول " ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم " . مرتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو زرعة، قال حدثنا الحسن بن بشر، قال حدثنا الحكم بن عبد الملك، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال لما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببيعة الرضوان كان عثمان بن عفان رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اهل مكة قال فبايع الناس قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان عثمان في حاجة الله وحاجة رسوله " . فضرب باحدى يديه على الاخرى فكانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان خيرا من ايديهم لانفسهم . هذا حديث حسن صحيح غريب
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، وعباس بن محمد الدوري، وغير، واحد المعنى، واحد، قالوا حدثنا سعيد بن عامر قال عبد الله اخبرنا سعيد بن عامر عن يحيى بن ابي الحجاج المنقري عن ابي مسعود الجريري عن ثمامة بن حزن القشيري قال شهدت الدار حين اشرف عليهم عثمان فقال ايتوني بصاحبيكم اللذين الباكم على . قال فجيء بهما فكانهما جملان او كانهما حماران . قال فاشرف عليهم عثمان فقال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بير رومة فقال رسول الله " من يشتري بير رومة فيجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فانتم اليوم تمنعوني ان اشرب منها حتى اشرب من ماء البحر . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان المسجد ضاق باهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يشتري بقعة ال فلان فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فانتم اليوم تمنعوني ان اصلي فيها ركعتين . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون اني جهزت جيش العسرة من مالي قالوا اللهم نعم . ثم قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه ابو بكر وعمر وانا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض قال فركضه برجله وقال " اسكن ثبير فانما عليك نبي وصديق وشهيدان " . قالوا اللهم نعم . قال الله اكبر شهدوا لي ورب الكعبة اني شهيد ثلاثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي من غير وجه عن عثمان
ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب رضی الله عنہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کیا: ”یہ اس دن ہدایت پر ہو گا“، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان رضی الله عنہ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي، قال حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الصنعاني، ان خطباء، قامت بالشام وفيهم رجال من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام اخرهم رجل يقال له مرة بن كعب فقال لولا حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت . وذكر الفتن فقربها فمر رجل مقنع في ثوب فقال هذا يوميذ على الهدى فقمت اليه فاذا هو عثمان بن عفان . قال فاقبلت عليه بوجهه فقلت هذا قال نعم .هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عمر وعبد الله بن حوالة وكعب بن عجرة