Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا الوليد بن محمد الموقري، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن علي بن ابي طالب، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ طلع ابو بكر وعمر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذان سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والاخرين الا النبيين والمرسلين يا علي لا تخبرهما " . هذا حديث غريب من هذا الوجه . والوليد بن محمد الموقري يضعف في الحديث ولم يسمع علي بن الحسين من علي بن ابي طالب . وقد روي هذا الحديث عن علي من غير هذا الوجه . وفي الباب عن انس وابن عباس
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا سفيان بن عيينة، قال ذكر داود عن الشعبي، عن الحارث، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ابو بكر وعمر سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والاخرين ما خلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا عقبة بن خالد، قال حدثنا شعبة، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال ابو بكر الست احق الناس بها الست اول من اسلم الست صاحب كذا الست صاحب كذا . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . قد رواه بعضهم، عن شعبة، عن الجريري، عن ابي نضرة، قال قال ابو بكر وهذا اصح . حدثنا بذلك، محمد بن بشار قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، عن الجريري، عن ابي نضرة، قال قال ابو بكر فذكر نحوه بمعناه ولم يذكر فيه عن ابي سعيد وهذا اصح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا الحكم بن عطية، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج على اصحابه من المهاجرين والانصار وهم جلوس فيهم ابو بكر وعمر فلا يرفع اليه احد منهم بصره الا ابو بكر وعمر فانهما كانا ينظران اليه وينظر اليهما ويتبسمان اليه ويتبسم اليهما . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الحكم بن عطية . وقد تكلم بعضهم في الحكم بن عطية
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حدثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد، قال حدثنا سعيد بن مسلمة، عن اسماعيل بن امية، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ذات يوم ودخل المسجد وابو بكر وعمر احدهما عن يمينه والاخر عن شماله وهو اخذ بايديهما وقال " هكذا نبعث يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وسعيد بن مسلمة ليس عندهم بالقوي . وقد روي هذا الحديث ايضا من غير هذا الوجه عن نافع عن ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان البغدادي، قال حدثنا مالك بن اسماعيل، عن منصور بن ابي الاسود، قال حدثني كثير ابو اسماعيل، عن جميع بن عمير التيمي، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر " انت صاحبي على الحوض وصاحبي في الغار " . هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد العزيز بن المطلب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن حنطب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى ابا بكر وعمر فقال " هذان السمع والبصر " .وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وهذا حديث مرسل وعبد الله بن حنطب لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنااسحاق بن موسى الانصاري قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك بن انس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " مروا ابا بكر فليصل بالناس " . فقالت عايشة يا رسول الله ان ابا بكر اذا قام مقامك لم يسمع الناس من البكاء فامر عمر فليصل بالناس . قالت فقال " مروا ابا بكر فليصل بالناس " . قالت عايشة فقلت لحفصة قولي له ان ابا بكر اذا قام مقامك لم يسمع الناس من البكاء فامر عمر فليصل بالناس ففعلت حفصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكن لانتن صواحب يوسف مروا ابا بكر فليصل بالناس " . فقالت حفصة لعايشة ما كنت لاصيب منك خيرا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وابي موسى وابن عباس وسالم بن عبيد وعبد الله بن زمعة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، قال حدثنا احمد بن بشير، عن عيسى بن ميمون الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينبغي لقوم فيهم ابو بكر ان يومهم غيره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك بن انس، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من انفق زوجين في سبيل الله نودي في الجنة يا عبد الله هذا خير فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان " . فقال ابو بكر بابي انت وامي ما على من دعي من هذه الابواب من ضرورة فهل يدعى احد من تلك الابواب كلها قال " نعم وارجو ان تكون منهم " . هذا حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله البزاز البغدادي، قال حدثنا الفضل بن دكين، قال حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نتصدق فوافق ذلك عندي مالا فقلت اليوم اسبق ابا بكر ان سبقته يوما قال فجيت بنصف مالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ابقيت لاهلك " . قلت مثله واتى ابو بكر بكل ما عنده فقال " يا ابا بكر ما ابقيت لاهلك " . قال ابقيت لهم الله ورسوله قلت والله لا اسبقه الى شيء ابدا . هذا حديث حسن صحيح
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا ابي، عن ابيه، قال اخبرني محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، جبير بن مطعم اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتته امراة فكلمته في شيء وامرها بامر فقالت ارايت يا رسول الله ان لم اجدك قال " فان لم تجديني فات ابا بكر " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے“، واللہ اعلم ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، قال سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن، يحدث عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا رجل راكب بقرة اذ قالت لم اخلق لهذا انما خلقت للحرث " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امنت بذلك انا وابو بكر وعمر " . قال ابو سلمة وما هما في القوم يوميذ والله اعلم . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن حميد، قال حدثنا ابراهيم بن المختار، عن اسحاق بن راشد، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بسد الابواب الا باب ابي بكر . هذا حديث غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن ابي سعيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔
حدثنا الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا اسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمه اسحاق بن طلحة عن عايشة، ان ابا بكر، دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انت عتيق الله من النار " . فيوميذ سمي عتيقا . هذا حديث غريب . وروى بعضهم هذا الحديث عن معن وقال عن موسى بن طلحة عن عايشة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے ) ۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا تليد بن سليمان، عن ابي الجحاف، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من نبي الا له وزيران من اهل السماء ووزيران من اهل الارض فاما وزيراى من اهل السماء فجبريل وميكاييل واما وزيراى من اهل الارض فابو بكر وعمر " . هذا حديث حسن غريب . وابو الجحاف اسمه داود بن ابي عوف . ويروى عن سفيان الثوري . قال حدثنا ابو الجحاف وكان مرضيا وتليد بن سليمان يكنى ابا ادريس وهو شيعي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن رافع، قالا حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا خارجة بن عبد الله الانصاري، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم اعز الاسلام باحب هذين الرجلين اليك بابي جهل او بعمر بن الخطاب " . قال وكان احبهما اليه عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ( راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے ) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا خارجة بن عبد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه " . وقال ابن عمر ما نزل بالناس امر قط فقالوا فيه وقال فيه عمر او قال ابن الخطاب فيه شك خارجة الا نزل فيه القران على نحو ما قال عمر . قال ابو عيسى وفي الباب عن الفضل بن العباس وابي ذر وابي هريرة وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وخارجة بن عبد الله الانصاري هو ابن سليمان بن زيد بن ثابت وهو ثقة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما“، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ ( لیکن حدیث رقم: ( ۳۶۹۰ ) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے ) ۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا يونس بن بكير، عن النضر ابي عمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم اعز الاسلام بابي جهل بن هشام او بعمر " . قال فاصبح فغدا عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وقد تكلم بعضهم في النضر ابي عمر وهو يروي مناكير من قبل حفظه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الله بن داود الواسطي ابو محمد، قال حدثني عبد الرحمن ابن اخي محمد بن المنكدر عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال عمر لابي بكر يا خير الناس بعد رسول الله . فقال ابو بكر اما انك ان قلت ذاك فلقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما طلعت الشمس على رجل خير من عمر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وليس اسناده بذاك . وفي الباب عن ابي الدرداء