Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل علیہ السلام کا انتخاب فرمایا ۱؎ اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا خلاد بن اسلم البغدادي، حدثنا محمد بن مصعب، حدثنا الاوزاعي، عن ابي عمار، عن واثلة بن الاسقع، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اصطفى من ولد ابراهيم اسماعيل واصطفى من ولد اسماعيل بني كنانة واصطفى من بني كنانة قريشا واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني شداد ابو عمار، حدثني واثلة بن الاسقع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اصطفى كنانة من ولد اسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى هاشما من قريش واصطفاني من بني هاشم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قریش کے لوگ بیٹھے اور انہوں نے قریش میں اپنے حسب کا ذکر کیا تو آپ کی مثال کھجور کے ایک ایسے درخت سے دی جو کسی کوڑے خانہ پر ( اگا ) ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس نے اس میں سے دو گروہوں کو پسند کیا، اور مجھے ان میں سب سے اچھے گروہ ( یعنی اولاد اسماعیل ) میں پیدا کیا، پھر اس نے قبیلوں کو چنا اور مجھے بہتر قبیلے میں سے کیا، پھر گھروں کو چنا اور مجھے ان گھروں میں سب سے بہتر گھر میں کیا، تو میں ذاتی طور پر بھی ان میں سب سے بہتر ہوں اور گھرانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان البغدادي، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العباس بن عبد المطلب، قال قلت يا رسول الله ان قريشا جلسوا فتذاكروا احسابهم بينهم فجعلوا مثلك كمثل نخلة في كبوة من الارض . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله خلق الخلق فجعلني من خيرهم من خير فرقهم وخير الفريقين ثم تخير القبايل فجعلني من خير قبيلة ثم تخير البيوت فجعلني من خير بيوتهم فانا خيرهم نفسا وخيرهم بيتا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وعبد الله بن الحارث هو ابن نوفل
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، گویا انہوں نے کوئی چیز سنی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے ( وہ یہی روایت ہے ) ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن المطلب بن ابي وداعة، قال جاء العباس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانه سمع شييا فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال " من انا " . قالوا انت رسول الله عليك السلام . قال " انا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب ان الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم قبايل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا وخيرهم نفسا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروي عن سفيان الثوري عن يزيد بن ابي زياد نحو حديث اسماعيل بن ابي خالد عن يزيد بن ابي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العباس بن عبد المطلب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“ ۱؎۔ ( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔
حدثنا ابو همام الوليد بن شجاع بن الوليد البغدادي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قالوا يا رسول الله متى وجبت لك النبوة قال " وادم بين الروح والجسد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابي هريرة لا نعرفه الا من هذا الوجه . وفي الباب عن ميسرة الفجر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لوگ ( قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن ليث، عن الربيع بن انس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اول الناس خروجا اذا بعثوا وانا خطيبهم اذا وفدوا وانا مبشرهم اذا ايسوا لواء الحمد يوميذ بيدي وانا اكرم ولد ادم على ربي ولا فخر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی پھر مجھے جنت کے جوڑوں میں سے ایک جوڑا پہنایا جائے گا، پھر میں عرش کے داہنی جانب کھڑا ہوں گا، میرے علاوہ وہاں مخلوق میں سے کوئی اور کھڑا نہیں ہو سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا الحسين بن يزيد، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يزيد ابي خالد، عن المنهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اول من تنشق عنه الارض فاكسى الحلة من حلل الجنة ثم اقوم عن يمين العرش ليس احد من الخلايق يقوم ذلك المقام غيري " . قال هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وسیلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جسے صرف ایک ہی شخص پا سکتا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۲- کعب غیر معروف شخص ہیں، ہم لیث بن سلیم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے ہیں جس نے ان سے روایت کی ہو۔
حدثنا بندار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا سفيان الثوري، عن ليث، وهو ابن ابي سليم حدثني كعب، حدثني ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سلوا الله لي الوسيلة " . قالوا يا رسول الله وما الوسيلة قال " اعلى درجة في الجنة لا ينالها الا رجل واحد ارجو ان اكون انا هو " . قال هذا حديث غريب اسناده ليس بالقوي . وكعب ليس هو بمعروف ولا نعلم احدا روى عنه غير ليث بن ابي سليم
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں میری مثال ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بہت اچھا بنایا، مکمل اور نہایت خوبصورت بنایا، لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس میں پھرتے تھے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے، کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پوری ہو جاتی، تو میں نبیوں میں ایسے ہی ہوں جیسی خالی جگہ کی یہ اینٹ ہے“۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مثلي في النبيين كمثل رجل بنى دارا فاحسنها واكملها واجملها وترك منها موضع لبنة فجعل الناس يطوفون بالبناء ويعجبون منه ويقولون لو تم موضع تلك اللبنة وانا في النبيين موضع تلك اللبنة " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان يوم القيامة كنت امام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے ۱؎ پھر میرے اوپر صلاۃ ( درود ) بھیجو کیونکہ جس نے میرے اوپر ایک بار درود بھیجا تو اللہ اس پر دس بار اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک ( ایسا بلند ) درجہ ہے جس کے لائق اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں اور جس نے میرے لیے ( اللہ سے ) وسیلہ مانگا تو اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اس سند میں مذکور عبدالرحمٰن بن جبیر قرشی، مصری اور مدنی ہیں اور نفیر کے پوتے عبدالرحمٰن بن جبیر شامی ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا حيوة، اخبرنا كعب بن علقمة، سمع عبد الرحمن بن جبير، انه سمع عبد الله بن عمرو، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سمعتم الموذن فقولوا مثل ما يقول الموذن ثم صلوا على فانه من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا لي الوسيلة فانها منزلة في الجنة لا تنبغي الا لعبد من عباد الله وارجو ان اكون انا هو ومن سال لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال محمد عبد الرحمن بن جبير هذا قرشي مصري مدني وعبد الرحمن بن جبير بن نفير شامي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، اور آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہوں گے سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہو گی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے، ۲- اسے اسی سند سے ابونضرہ سے روایت ہے، وہ اسے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا سيد ولد ادم يوم القيامة ولا فخر وبيدي لواء الحمد ولا فخر وما من نبي يوميذ ادم فمن سواه الا تحت لوايي وانا اول من تنشق عنه الارض ولا فخر " . قال ابو عيسى وفي الحديث قصة وهذا حديث حسن . وقد روي بهذا الاسناد عن ابي نضرة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ بیٹھے آپ کے حجرے سے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، کہتے ہیں: پھر آپ نکلے یہاں تک کہ جب آپ ان کے قریب آئے تو انہیں آپس میں بحث کرتے سنا، آپ نے ان کی باتیں سنیں، کوئی کہہ رہا تھا، تعجب ہے اللہ نے اپنی مخلوق میں سے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا، دوسرے نے کہا: موسیٰ سے اس کا کلام کرنا کتنا زیادہ تعجب خیز معاملہ ہے، اور ایک نے کہا: عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اور ایک دوسرے نے کہا: آدم کو اللہ نے تو چن لیا ہے، تو آپ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کے خلیل اللہ ہونے پر تعجب میں پڑنے کو بھی، واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے اللہ کے نجی اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کے کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں اور آدم کے اللہ کا برگزیدہ ہونے پر، اور وہ بھی واقعی ایسے ہی ہیں، سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھ میں ہو گا اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور قیامت کے دن میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو شفاعت ( سفارش ) کرے گا اور جس کی شفاعت ( سفارش ) سب سے پہلے قبول کی جائے گی اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جو جنت کی کنڈی ہلائے گا تو اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا، پھر وہ مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ فقراء مومنین ہوں گے اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں اور میں اگلوں اور پچھلوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اس پر مجھے گھمنڈ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا علي بن نصر بن علي، حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد، حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جلس ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ينتظرونه قال فخرج حتى اذا دنا منهم سمعهم يتذاكرون فسمع حديثهم فقال بعضهم عجبا ان الله عز وجل اتخذ من خلقه خليلا اتخذ ابراهيم خليلا . وقال اخر ماذا باعجب من كلام موسى كلمه تكليما وقال اخر فعيسى كلمة الله وروحه . وقال اخر ادم اصطفاه الله فخرج عليهم فسلم وقال " قد سمعت كلامكم وعجبكم ان ابراهيم خليل الله وهو كذلك وموسى نجي الله وهو كذلك وعيسى روح الله وكلمته وهو كذلك وادم اصطفاه الله وهو كذلك الا وانا حبيب الله ولا فخر وانا حامل لواء الحمد يوم القيامة ولا فخر وانا اول شافع واول مشفع يوم القيامة ولا فخر وانا اول من يحرك حلق الجنة فيفتح الله لي فيدخلنيها ومعي فقراء المومنين ولا فخر وانا اكرم الاولين والاخرين ولا فخر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ تورات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال لکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہ عیسیٰ بن مریم انہیں کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ابوقتیبہ کہتے ہیں کہ ابومودود نے کہا: حجرہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، سند میں راوی نے عثمان بن ضحاک کہا اور مشہور ضحاک بن عثمان مدنی ہے۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي البصري، حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة حدثني ابو مودود المدني، حدثنا عثمان بن الضحاك، عن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سلام، عن ابيه، عن جده، قال مكتوب في التوراة صفة محمد وعيسى ابن مريم يدفن معه . قال فقال ابو مودود وقد بقي في البيت موضع قبر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . هكذا قال عثمان بن الضحاك والمعروف الضحاك بن عثمان المدني
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے پہل ) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف البصري، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال لما كان اليوم الذي دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة اضاء منها كل شيء فلما كان اليوم الذي مات فيه اظلم منها كل شيء وما نفضنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الايدي وانا لفي دفنه حتى انكرنا قلوبنا . قال ابو عيسى هذا حديث غريب صحيح
قیس بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں واقعہ فیل ۱؎ کے سال پیدا ہوئے، وہ کہتے ہیں: عثمان بن عفان نے قباث بن اشیم ( جو قبیلہ بنی یعمر بن لیث کے ایک فرد ہیں ) سے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور پیدائش میں، میں آپ سے پہلے ہوں ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھی والے سال میں پیدا ہوئے، میری ماں مجھے اس جگہ پر لے گئیں ( جہاں ابرہہ کے ہاتھیوں پر پرندوں نے کنکریاں برسائی تھیں ) تو میں نے دیکھا کہ ہاتھیوں کی لید بدلی ہوئی ہے اور سبز رنگ کی ہو گئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار العبدي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن اسحاق، يحدث عن المطلب بن عبد الله بن قيس بن مخرمة، عن ابيه، عن جده، قال ولدت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم عام الفيل . وسال عثمان بن عفان قباث بن اشيم اخا بني يعمر بن ليث اانت اكبر ام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اكبر مني وانا اقدم منه في الميلاد ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل ورفعت بي امي على الموضع قال ورايت خذق الفيل اخضر محيلا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن اسحاق
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف ( تجارت کی غرض سے ) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو آپ چالیس سال کے تھے، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام بن حسان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال انزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن اربعين فاقام بمكة ثلاث عشرة وبالمدينة عشرا وتوفي وهو ابن ثلاث وستين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قبض النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن خمس وستين وهكذا حدثنا هو يعني ابن بشار وروى عنه محمد بن اسماعيل مثل ذلك
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید، نہ بالکل گندم گوں، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، انه سمع انس بن مالك، يقول لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطويل الباين ولا بالقصير المتردد ولا بالابيض الامهق ولا بالادم وليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على راس اربعين سنة فاقام بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين وتوفاه الله على راس ستين سنة وليس في راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، قالا انبانا ابو داود الطيالسي، حدثنا سليمان بن معاذ الضبي، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان بمكة حجرا كان يسلم على ليالي بعثت اني لاعرفه الان " . قال هذا حديث حسن غريب
حدثنا الفضل بن سهل ابو العباس الاعرج البغدادي، حدثنا عبد الرحمن بن غزوان ابو نوح، اخبرنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي بكر بن ابي موسى، عن ابيه، قال خرج ابو طالب الى الشام وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في اشياخ من قريش فلما اشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم فخرج اليهم الراهب وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج اليهم ولا يلتفت . قال فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم الراهب حتى جاء فاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هذا سيد العالمين هذا رسول رب العالمين يبعثه الله رحمة للعالمين . فقال له اشياخ من قريش ما علمك فقال انكم حين اشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر الا خر ساجدا ولا يسجدان الا لنبي واني اعرفه بخاتم النبوة اسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة . ثم رجع فصنع لهم طعاما فلما اتاهم به وكان هو في رعية الابل قال ارسلوا اليه فاقبل وعليه غمامة تظله فلما دنا من القوم وجدهم قد سبقوه الى فىء الشجرة فلما جلس مال فىء الشجرة عليه فقال انظروا الى فىء الشجرة مال عليه . قال فبينما هو قايم عليهم وهو يناشدهم ان لا يذهبوا به الى الروم فان الروم اذا راوه عرفوه بالصفة فيقتلونه فالتفت فاذا بسبعة قد اقبلوا من الروم فاستقبلهم فقال ما جاء بكم قالوا جينا ان هذا النبي خارج في هذا الشهر فلم يبق طريق الا بعث اليه باناس وانا قد اخبرنا خبره بعثنا الى طريقك هذا فقال هل خلفكم احد هو خير منكم قالوا انما اخبرنا خبره بطريقك هذا . قال افرايتم امرا اراد الله ان يقضيه هل يستطيع احد من الناس رده قالوا لا . قال فبايعوه واقاموا معه قال انشدكم الله ايكم وليه قالوا ابو طالب فلم يزل يناشده حتى رده ابو طالب وبعث معه ابو بكر بلالا وزوده الراهب من الكعك والزيت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه