Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا سليمان التيمي، عن ابي العلاء، عن سمرة بن جندب، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نتداول من قصعة من غدوة حتى الليل يقوم عشرة ويقعد عشرة . قلنا فما كانت تمد قال من اى شيء تعجب ما كانت تمد الا من ها هنا واشار بيده الى السماء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو العلاء اسمه يزيد بن عبد الله بن الشخير
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ”السلام علیک یا رسول اللہ“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎۔
حدثنا عباد بن يعقوب الكوفي، حدثنا الوليد بن ابي ثور، عن السدي، عن عباد بن ابي يزيد، عن علي بن ابي طالب، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكة فخرجنا في بعض نواحيها فما استقبله جبل ولا شجر الا وهو يقول السلام عليك يا رسول الله . قال هذا حديث غريب . وروى غير واحد عن الوليد بن ابي ثور وقالوا عن عباد ابي يزيد منهم فروة بن ابي المغراء
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عمر بن يونس، عن عكرمة بن عمار، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الى لزق جذع واتخذوا له منبرا فخطب عليه فحن الجذع حنين الناقة فنزل النبي صلى الله عليه وسلم فمسه فسكن . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابى وجابر وابن عمر وسهل بن سعد وابن عباس وام سلمة وحديث انس حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: ”لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا محمد بن سعيد، حدثنا شريك، عن سماك، عن ابي ظبيان، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بم اعرف انك نبي قال " ان دعوت هذا العذق من هذه النخلة اتشهد اني رسول الله " . فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل ينزل من النخلة حتى سقط الى النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " ارجع " . فعاد فاسلم الاعرابي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا ابو عاصم، حدثنا عزرة بن ثابت، حدثنا علباء بن احمر، حدثنا ابو زيد بن اخطب، قال مسح رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على وجهي ودعا لي قال عزرة انه عاش ماية وعشرين سنة وليس في راسه الا شعرات بيض . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو زيد اسمه عمرو بن اخطب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، قال عرضت على مالك بن انس عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك، يقول قال ابو طلحة لام سليم لقد سمعت صوت، رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني ضعيفا - اعرف فيه الجوع فهل عندك من شيء فقالت نعم . فاخرجت اقراصا من شعير ثم اخرجت خمارا لها فلفت الخبز ببعضه ثم دسته في يدي وردتني ببعضه ثم ارسلتني الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذهبت به اليه فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في المسجد ومعه الناس قال فقمت عليهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارسلك ابو طلحة " . فقلت نعم . قال " بطعام " . فقلت نعم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن معه " قوموا " . قال فانطلقوا فانطلقت بين ايديهم حتى جيت ابا طلحة فاخبرته فقال ابو طلحة يا ام سليم قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس معه وليس عندنا ما نطعمهم . قالت ام سليم الله ورسوله اعلم . قال فانطلق ابو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو طلحة معه حتى دخلا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هلمي يا ام سليم ما عندك " . فاتت بذلك الخبز فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ففت وعصرت ام سليم عكة لها فادمته ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله ان يقول ثم قال " ايذن لعشرة " . فاذن لهم فاكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال " ايذن لعشرة " . فاذن لهم فاكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا فاكل القوم كلهم وشبعوا والقوم سبعون او ثمانون رجلا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت صلاة العصر والتمس الناس الوضوء فلم يجدوه فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده في ذلك الاناء وامر الناس ان يتوضيوا منه . قال فرايت الماء ينبع من تحت اصابعه فتوضا الناس حتى توضيوا من عند اخرهم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمران بن حصين وابن مسعود وجابر وزياد بن الحارث الصدايي وحديث انس حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الانصاري، اسحاق بن موسى حدثنا يونس بن بكير، اخبرنا محمد بن اسحاق، حدثني الزهري، عن عروة، عن عايشة، انها قالت اول ما ابتدي به رسول الله صلى الله عليه وسلم من النبوة حين اراد الله كرامته ورحمة العباد به ان لا يرى شييا الا جاءت مثل فلق الصبح فمكث على ذلك ما شاء الله ان يمكث وحبب اليه الخلوة فلم يكن شيء احب اليه من ان يخلو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال انكم تعدون الايات عذابا وانا كنا نعدها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بركة لقد كنا ناكل الطعام مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نسمع تسبيح الطعام . قال واتي النبي صلى الله عليه وسلم باناء فوضع يده فيه فجعل الماء ينبع من بين اصابعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حى على الوضوء المبارك والبركة من السماء " . حتى توضانا كلنا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان الحارث بن هشام، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف ياتيك الوحى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احيانا ياتيني في مثل صلصلة الجرس وهو اشد على واحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فاعي ما يقول " . قالت عايشة فلقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عليه الوحى في اليوم الشديد البرد فيفصم عنه وان جبينه ليتفصد عرقا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال ما رايت من ذي لمة في حلة حمراء احسن من رسول الله صلى الله عليه وسلم له شعر يضرب منكبيه بعيد ما بين المنكبين لم يكن بالقصير ولا بالطويل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، قال سال رجل البراء اكان وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل السيف قال لا مثل القمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے، ( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں، میں نے نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ابو نعيم، حدثنا المسعودي، عن عثمان بن مسلم بن هرمز، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن علي، قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطويل ولا بالقصير شثن الكفين والقدمين ضخم الراس ضخم الكراديس طويل المسربة اذا مشى تكفا تكفوا كانما انحط من صبب لم ار قبله ولا بعده مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن المسعودي، بهذا الاسناد نحوه
ابراہیم بن محمد جو علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی اولاد میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے: نہ آپ بہت لمبے تھے نہ بہت پستہ قد، بلکہ لوگوں میں درمیانی قد کے تھے، آپ کے بال نہ بہت گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تھے، نہ آپ بہت موٹے تھے اور نہ چہرہ بالکل گول تھا، ہاں اس میں کچھ گولائی ضرور تھی، آپ گورے سفید سرخی مائل، سیاہ چشم، لمبی پلکوں والے، بڑے جوڑوں والے اور بڑے شانہ والے تھے، آپ کے جسم پر زیادہ بال نہیں تھے، صرف بالوں کا ایک خط سینہ سے ناف تک کھنچا ہوا تھا، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت سے پُر تھے جب چلتے زمین پر پیر جما کر چلتے، پلٹتے تو پورے بدن کے ساتھ پلٹتے، آپ کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت تھی، آپ خاتم النبیین تھے، لوگوں میں آپ سب سے زیادہ سخی تھے، آپ کھلے دل کے تھے، یعنی آپ کا سینہ بغض و حسد سے آئینہ کے مانند پاک و صاف ہوتا تھا، اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے، نرم مزاج اور سب سے بہتر رہن سہن والے تھے، جو آپ کو یکایک دیکھتا ڈر جاتا اور جو آپ کو جان اور سمجھ کر آپ سے گھل مل جاتا وہ آپ سے محبت کرنے لگتا، آپ کی توصیف کرنے والا کہتا: نہ آپ سے پہلے میں نے کسی کو آپ جیسا دیکھا ہے اور نہ آپ کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- ( نسائی کے شیخ ) ابو جعفر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفسیر میں اصمعی کو کہتے ہوئے سنا کہ «الممغط» کے معنی لمبائی میں جانے والے کے ہیں، میں نے ایک اعرابی کو سنا وہ کہہ رہا تھا «تمغط فی نشابة» یعنی اس نے اپنا تیر بہت زیادہ کھینچا اور «متردد» ایسا شخص ہے جس کا بدن ٹھنگنے پن کی وجہ سے بعض بعض میں گھسا ہوا ہو اور «قطط» سخت گھونگھریالے بال کو کہتے ہیں، اور «رَجِل» اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے بالوں میں تھوڑی خمید گی ہو اور «مطہم» ایسے جسم والے کو کہتے ہیں جو موٹا اور زیادہ گوشت والا ہو اور «مکلثم» جس کا چہرہ گول ہو اور «مشدب» وہ شخص ہے جس کی پیشانی میں سرخی ہو اور «ادعج» وہ شخص ہے جس کے آنکھوں کی سیاہی خوب کالی ہو اور «اہدب» وہ ہے جس کی پلکیں لمبی ہوں اور «کتد» دونوں شانوں کے ملنے کی جگہ کو کہتے ہیں اور «مسربة» وہ باریک بال ہیں جو ایک خط کی طرح سینہ سے ناف تک چلے گئے ہوں اور «شثن» وہ شخص ہے جس کے ہتھیلیوں اور پیروں کی انگلیاں موٹی ہوں، اور «تقلع» سے مراد پیر جما جما کر طاقت سے چلنا ہے اور «صبب» اترنے کے معنی میں ہے، عرب کہتے ہیں «انحدر نافی صبوب وصبب» یعنی ہم بلندی سے اترے «جلیل المشاش» سے مراد شانوں کے سرے ہیں، یعنی آپ بلند شانہ والے تھے، اور «عشرة» سے مراد رہن سہن ہے اور «عشیرہ» کے معنیٰ رہن سہن والے کے ہیں اور «بدیھة» کے معنی یکایک اور یکبارگی کے ہیں، عرب کہتے ہیں «بَدَهْتُهُ بِأَمْرٍ» میں ایک معاملہ کو لے کر اس کے پاس اچانک آیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی نہیں بولتے تھے بلکہ آپ ایسی گفتگو کرتے جس میں ٹھہراؤ ہوتا تھا، جو آپ کے پاس بیٹھا ہوتا وہ اسے یاد کر لیتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن یزید نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا حميد بن الاسود، عن اسامة بن زيد، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسرد سردكم هذا ولكنه كان يتكلم بكلام بينه فصل يحفظه من جلس اليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث الزهري وقد رواه يونس بن يزيد عن الزهري
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة عن عبد الله بن المثنى، عن ثمامة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعيد الكلمة ثلاثا لتعقل عنه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب انما نعرفه من حديث عبد الله بن المثنى
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عبيد الله بن المغيرة، عن عبد الله بن الحارث بن جزء، قال ما رايت احدا اكثر تبسما من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
وقد روي عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الله بن الحارث بن جزء، مثل هذا . حدثنا بذلك، احمد بن خالد الخلال حدثنا يحيى بن اسحاق السيلحاني، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الله بن الحارث بن جزء، قال ما كان ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم الا تبسما . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب لا نعرفه من حديث ليث بن سعد الا من هذا الوجه
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن الجعد بن عبد الرحمن، قال سمعت السايب بن يزيد، يقول ذهبت بي خالتي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابن اختي وجع فمسح براسي ودعا لي بالبركة وتوضا فشربت من وضويه فقمت خلف ظهره فنظرت الى الخاتم بين كتفيه فاذا هو مثل زر الحجلة . قال ابو عيسى الزر يقال بيض لها . قال ابو عيسى وفي الباب عن سلمان وقرة بن اياس المزني وجابر بن سمرة وابي رمثة وبريدة الاسلمي وعبد الله بن سرجس وعمرو بن اخطب وابي سعيد . وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا ايوب بن جابر، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان خاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني الذي بين كتفيه غدة حمراء مثل بيضة الحمامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا ابو جعفر، محمد بن الحسين بن ابي حليمة من قصر الاحنف واحمد بن عبدة الضبي وعلي بن حجر المعنى واحد قالوا حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عمر بن عبد الله، مولى غفرة حدثني ابراهيم بن محمد، من ولد علي بن ابي طالب قال كان علي رضى الله عنه اذا وصف النبي صلى الله عليه وسلم قال لم يكن بالطويل الممغط ولا بالقصير المتردد وكان ربعة من القوم ولم يكن بالجعد القطط ولا بالسبط كان جعدا رجلا ولم يكن بالمطهم ولا بالمكلثم وكان في الوجه تدوير ابيض مشرب ادعج العينين اهدب الاشفار جليل المشاش والكتد اجرد ذو مسربة شثن الكفين والقدمين اذا مشى تقلع كانما يمشي في صبب واذا التفت التفت معا بين كتفيه خاتم النبوة وهو خاتم النبيين اجود الناس كفا واشرحهم صدرا واصدق الناس لهجة والينهم عريكة واكرمهم عشرة من راه بديهة هابه ومن خالطه معرفة احبه يقول ناعته لم ار قبله ولا بعده مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ليس اسناده بمتصل . قال ابو جعفر سمعت الاصمعي يقول في تفسيره صفة النبي صلى الله عليه وسلم الممغط الذاهب طولا . وسمعت اعرابيا يقول تمغط في نشابة اى مدها مدا شديدا . واما المتردد فالداخل بعضه في بعض قصرا واما القطط فالشديد الجعودة والرجل الذي في شعره حجونة قليلا واما المطهم فالبادن الكثير اللحم واما المكلثم فالمدور الوجه . واما المشرب فهو الذي في بياضه حمرة والادعج الشديد سواد العين والاهدب الطويل الاشفار والكتد مجتمع الكتفين وهو الكاهل والمسربة هو الشعر الدقيق الذي هو كانه قضيب من الصدر الى السرة . والشثن الغليظ الاصابع من الكفين والقدمين والتقلع ان يمشي بقوة والصبب الحدور يقول انحدرنا في صبوب وصبب وقوله جليل المشاش يريد رءوس المناكب والعشيرة الصحبة والعشير الصاحب والبديهة المفاجاة يقال بدهته بامر اى فجاته