Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عباد بن العوام، اخبرنا الحجاج، هو ابن ارطاة عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان في ساقى رسول الله صلى الله عليه وسلم حموشة وكان لا يضحك الا تبسما وكنت اذا نظرت اليه قلت اكحل العينين وليس باكحل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو قطن، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ضليع الفم اشكل العينين منهوس العقب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى قال حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضليع الفم اشكل العينين منهوش العقب . قال شعبة قلت لسماك ما ضليع الفم قال واسع الفم . قلت ما اشكل العين قال طويل شق العين . قال قلت ما منهوش العقب قال قليل اللحم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي يونس، عن ابي هريرة، قال ما رايت شييا احسن من رسول الله صلى الله عليه وسلم كان الشمس تجري في وجهه وما رايت احدا اسرع في مشيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم كانما الارض تطوى له انا لنجهد انفسنا وانه لغير مكترث . قال هذا حديث غريب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عرض على الانبياء فاذا موسى ضرب من الرجال كانه من رجال شنوءة ورايت عيسى ابن مريم فاذا اقرب الناس من رايت به شبها عروة بن مسعود ورايت ابراهيم فاذا اقرب من رايت به شبها صاحبكم نفسه ورايت جبريل فاذا اقرب من رايت به شبها دحية " . هو ابن خليفة الكلبي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، ويعقوب بن ابراهيم الدورقي، قالا حدثنا اسماعيل ابن علية، عن خالد الحذاء، حدثني عمار، مولى بني هاشم قال سمعت ابن عباس، يقول توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن خمس وستين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي،قال حدثنا بشر بن المفضل،قال حدثنا خالد الحذاء،قال حدثنا عمار، مولى بني هاشم قال حدثنا ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم توفي وهو ابن خمس وستين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن الاسناد صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا روح بن عبادة، قال حدثنا زكريا بن اسحاق، قال حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن عباس، قال مكث النبي صلى الله عليه وسلم بمكة ثلاث عشرة - يعني يوحى اليه وتوفي وهو ابن ثلاث وستين . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وانس بن مالك ودغفل بن حنظلة ولا يصح لدغفل سماع من النبي صلى الله عليه وسلم ولا روية . وحديث ابن عباس حديث حسن غريب من حديث عمرو بن دينار
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عامر بن سعد، عن جرير بن عبد الله، عن معاوية بن ابي سفيان، انه قال سمعته يخطب، يقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثلاث وستين وابو بكر وعمر وانا ابن ثلاث وستين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
حدثنا العباس العنبري والحسين بن مهدي البصري، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال اخبرت عن ابن شهاب الزهري، عن عروة، عن عايشة، وقال الحسين بن مهدي، في حديثه ابن جريج عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم مات وهو ابن ثلاث وستين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه ابن اخي الزهري عن الزهري عن عروة عن عايشة مثل هذا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر خلیل کی «خلت» ( دوستی ) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا الثوري، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابرا الى كل خليل من خله ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابن ابي قحافة خليلا وان صاحبكم خليل الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي سعيد وابي هريرة وابن الزبير وابن عباس
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن عمر بن الخطاب، قال ابو بكر سيدنا وخيرنا واحبنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال قلت لعايشة اى اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كان احب الى رسول الله قالت ابو بكر . قلت ثم من قالت عمر . قلت ثم من قالت ثم ابو عبيدة بن الجراح . قلت ثم من قال فسكتت . قال هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند درجات والوں کو ( جنت میں ) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا محمد بن فضيل، عن سالم بن ابي حفصة، والاعمش، وعبد الله بن صهبان، وابن ابي ليلى، وكثير النواء، كلهم عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اهل الدرجات العلى ليراهم من تحتهم كما ترون النجم الطالع في افق السماء وان ابا بكر وعمر منهم وانعما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن عطية عن ابي سعيد
ابومعلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا: ”ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھا لے یا اپنے رب سے ملنے کو ( ترجیح دے ) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر رضی الله عنہ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر رضی الله عنہ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ) ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کر دیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن ( ہمارے اور ان کے درمیان ) ایمان کی دوستی موجود ہے“۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: ”تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ( دوست ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»، «على» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، قال حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن ابن ابي المعلى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوما فقال " ان رجلا خيره ربه بين ان يعيش في الدنيا ما شاء ان يعيش وياكل في الدنيا ما شاء ان ياكل وبين لقاء ربه فاختار لقاء ربه " . قال فبكى ابو بكر فقال اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الا تعجبون من هذا الشيخ اذ ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا صالحا خيره ربه بين الدنيا وبين لقاء ربه فاختار لقاء ربه . قال فكان ابو بكر اعلمهم بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر بل نفديك باباينا واموالنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من الناس احد امن الينا في صحبته وذات يده من ابن ابي قحافة ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابن ابي قحافة خليلا ولكن ود واخاء ايمان ود واخاء ايمان مرتين او ثلاثا وان صاحبكم خليل الله " وقد روي هذا الحديث عن ابي عوانة عن عبد الملك بن عمير باسناد غير هذا . ومعنى قوله امن الينا يعني امن علينا . وفي الباب عن ابي سعيد وهذا حديث حسن غريب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں“، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ۱؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر رضی الله عنہ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ کی بات سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں ( یعنی مسجد کی طرف ) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن الحسن، قال حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك بن انس، عن ابي النضر، عن عبيد بن حنين، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر فقال " ان عبدا خيره الله بين ان يوتيه من زهرة الدنيا ما شاء وبين ما عنده فاختار ما عنده " . فقال ابو بكر فديناك يا رسول الله باباينا وامهاتنا . قال فعجبنا فقال الناس انظروا الى هذا الشيخ يخبر رسول الله عن عبد خيره الله بين ان يوتيه من زهرة الدنيا ما شاء وبين ما عند الله وهو يقول فديناك باباينا وامهاتنا . قال فكان رسول الله هو المخير وكان ابو بكر هو اعلمنا به فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من امن الناس على في صحبته وماله ابو بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا ولكن اخوة الاسلام لا تبقين في المسجد خوخة الا خوخة ابي بكر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل ( گہرا دوست ) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی ( یعنی خود ) اللہ کا خلیل ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن الحسن الكوفي،قال حدثنا محبوب بن محرز القواريري، عن داود بن يزيد الاودي، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لاحد عندنا يد الا وقد كافيناه ما خلا ابا بكر فان له عندنا يدا يكافيه الله بها يوم القيامة وما نفعني مال احد قط ما نفعني مال ابي بكر ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا الا وان صاحبكم خليل الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ۳- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي، وهو ابن حراش عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتدوا باللذين من بعدي ابي بكر وعمر " . حدثنا احمد بن منيع، وغير واحد، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير نحوه وكان سفيان بن عيينة يدلس في هذا الحديث فربما ذكره عن زايدة عن عبد الملك بن عمير وربما لم يذكر فيه عن زايدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وفيه عن ابن مسعود . وروى سفيان الثوري هذا الحديث عن عبد الملك بن عمير عن مولى لربعي عن ربعي عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه ايضا عن ربعي عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه سالم الانعمي كوفي عن ربعي بن حراش عن حذيفة
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، قال حدثنا وكيع، عن سالم ابي العلاء المرادي، عن عمرو بن هرم، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، رضى الله عنه قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اني لا ادري ما بقايي فيكم فاقتدوا باللذين من بعدي " . واشار الى ابي بكر وعمر
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سلسلہ میں فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، ( آپ نے فرمایا: ) ”علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، قال حدثنا محمد بن كثير العبدي، عن الاوزاعي، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابي بكر وعمر " هذان سيدا كهول اهل الجنة من الاولين والاخرين الا النبيين والمرسلين " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه