احادیث
#3608
سنن ترمذی - Merits and Virtues
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، گویا انہوں نے کوئی چیز سنی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں سلامتی ہو آپ پر، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے ان کے سب سے بہتر مخلوق میں کیا، پھر ان کے دو گروہ کئے تو مجھے ان کے بہتر گروہ میں کیا، پھر انہیں قبیلوں میں بانٹا تو مجھے ان کے سب سے بہتر قبیلہ میں کیا، پھر ان کے کئی گھر کیے تو مجھے ان کے سب سے بہتر گھر میں کیا اور شخصی طور پر بھی مجھے ان میں سب سے بہتر بنایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- جس طرح اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد سے اور یزید بن ابی زیاد نے عبداللہ بن حارث کے واسطہ سے عباس بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے اسی طرح سفیان ثوری نے بھی یزید بن ابی زیاد سے روایت کی ہے ( وہ یہی روایت ہے ) ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن المطلب بن ابي وداعة، قال جاء العباس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانه سمع شييا فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال " من انا " . قالوا انت رسول الله عليك السلام . قال " انا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب ان الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم قبايل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا وخيرهم نفسا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروي عن سفيان الثوري عن يزيد بن ابي زياد نحو حديث اسماعيل بن ابي خالد عن يزيد بن ابي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العباس بن عبد المطلب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Merits and Virtues
- Hadith Index
- #3608
- Book Index
- 4
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
