احادیث
#3620
سنن ترمذی - Merits and Virtues
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف ( تجارت کی غرض سے ) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا الفضل بن سهل ابو العباس الاعرج البغدادي، حدثنا عبد الرحمن بن غزوان ابو نوح، اخبرنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي بكر بن ابي موسى، عن ابيه، قال خرج ابو طالب الى الشام وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في اشياخ من قريش فلما اشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم فخرج اليهم الراهب وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج اليهم ولا يلتفت . قال فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم الراهب حتى جاء فاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هذا سيد العالمين هذا رسول رب العالمين يبعثه الله رحمة للعالمين . فقال له اشياخ من قريش ما علمك فقال انكم حين اشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر الا خر ساجدا ولا يسجدان الا لنبي واني اعرفه بخاتم النبوة اسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة . ثم رجع فصنع لهم طعاما فلما اتاهم به وكان هو في رعية الابل قال ارسلوا اليه فاقبل وعليه غمامة تظله فلما دنا من القوم وجدهم قد سبقوه الى فىء الشجرة فلما جلس مال فىء الشجرة عليه فقال انظروا الى فىء الشجرة مال عليه . قال فبينما هو قايم عليهم وهو يناشدهم ان لا يذهبوا به الى الروم فان الروم اذا راوه عرفوه بالصفة فيقتلونه فالتفت فاذا بسبعة قد اقبلوا من الروم فاستقبلهم فقال ما جاء بكم قالوا جينا ان هذا النبي خارج في هذا الشهر فلم يبق طريق الا بعث اليه باناس وانا قد اخبرنا خبره بعثنا الى طريقك هذا فقال هل خلفكم احد هو خير منكم قالوا انما اخبرنا خبره بطريقك هذا . قال افرايتم امرا اراد الله ان يقضيه هل يستطيع احد من الناس رده قالوا لا . قال فبايعوه واقاموا معه قال انشدكم الله ايكم وليه قالوا ابو طالب فلم يزل يناشده حتى رده ابو طالب وبعث معه ابو بكر بلالا وزوده الراهب من الكعك والزيت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Merits and Virtues
- Hadith Index
- #3620
- Book Index
- 16
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirMunkar
- Al-AlbaniMunkar
- Zubair Ali ZaiDaif
