احادیث
#3703
سنن ترمذی - Merits and Virtues
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، وعباس بن محمد الدوري، وغير، واحد المعنى، واحد، قالوا حدثنا سعيد بن عامر قال عبد الله اخبرنا سعيد بن عامر عن يحيى بن ابي الحجاج المنقري عن ابي مسعود الجريري عن ثمامة بن حزن القشيري قال شهدت الدار حين اشرف عليهم عثمان فقال ايتوني بصاحبيكم اللذين الباكم على . قال فجيء بهما فكانهما جملان او كانهما حماران . قال فاشرف عليهم عثمان فقال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بير رومة فقال رسول الله " من يشتري بير رومة فيجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فانتم اليوم تمنعوني ان اشرب منها حتى اشرب من ماء البحر . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان المسجد ضاق باهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يشتري بقعة ال فلان فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة " . فاشتريتها من صلب مالي فانتم اليوم تمنعوني ان اصلي فيها ركعتين . قالوا اللهم نعم . قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون اني جهزت جيش العسرة من مالي قالوا اللهم نعم . ثم قال انشدكم بالله والاسلام هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه ابو بكر وعمر وانا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض قال فركضه برجله وقال " اسكن ثبير فانما عليك نبي وصديق وشهيدان " . قالوا اللهم نعم . قال الله اكبر شهدوا لي ورب الكعبة اني شهيد ثلاثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي من غير وجه عن عثمان
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Merits and Virtues
- Hadith Index
- #3703
- Book Index
- 99
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiHasan
