Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ۱؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا“، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الله بن عامر، عن النعمان بن بشير، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا عثمان انه لعل الله يقمصك قميصا فان ارادوك على خلعه فلا تخلعه لهم " . وفي الحديث قصة طويلة . هذا حديث حسن غريب
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی الله عنہ احد کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا: ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ۱؎، اس پر ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں: رہا ان ( عثمان ) کا احد کے دن بھاگنا ۲؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کر دیا اور بخش دیا ہے ۳؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: ”تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہو گا“، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان رضی الله عنہ کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو بھیجتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے“، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے“، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے اس سے کہا: اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، قال حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، ان رجلا، من اهل مصر حج البيت فراى قوما جلوسا فقال من هولاء قالوا قريش . قال فمن هذا الشيخ قالوا ابن عمر . فاتاه فقال اني سايلك عن شيء فحدثني انشدك الله بحرمة هذا البيت اتعلم ان عثمان فر يوم احد قال نعم . قال اتعلم انه تغيب عن بيعة الرضوان فلم يشهدها قال نعم . قال اتعلم انه تغيب يوم بدر فلم يشهد قال نعم . قال الله اكبر . فقال له ابن عمر تعال ابين لك ما سالت عنه اما فراره يوم احد فاشهد ان الله قد عفا عنه وغفر له واما تغيبه يوم بدر فانه كانت عنده - او تحته - ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " لك اجر رجل شهد بدرا وسهمه " . وامره ان يخلف عليها وكانت عليلة واما تغيبه عن بيعة الرضوان فلو كان احد اعز ببطن مكة من عثمان لبعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم مكان عثمان بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان الى مكة وكانت بيعة الرضوان بعد ما ذهب عثمان الى مكة قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليمنى " هذه يد عثمان " . وضرب بها على يده فقال " هذه لعثمان "رضى الله عنه . قال له اذهب بهذا الان معك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہتے تھے: ”ابوبکر، عمر، اور عثمان ۱؎۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا العلاء بن عبد الجبار، قال حدثنا الحارث بن عمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا نقول ورسول الله صلى الله عليه وسلم حى ابو بكر وعمر وعثمان . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه يستغرب من حديث عبيد الله بن عمر . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا“ ( یہ بات آپ نے عثمان رضی الله عنہ کے متعلق کہی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا شاذان الاسود بن عامر، عن سنان بن هارون البرجمي، عن كليب بن وايل، عن ابن عمر، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة فقال " يقتل فيها هذا مظلوما " . لعثمان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابن عمر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ۱؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔
حدثنا الفضل بن ابي طالب البغدادي، وغير، واحد، قالوا حدثنا عثمان بن زفر، قال حدثنا محمد بن زياد، عن محمد بن عجلان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بجنازة رجل يصلي عليه فلم يصل عليه فقيل يا رسول الله ما رايناك تركت الصلاة على احد قبل هذا قال " انه كان يبغض عثمان فابغضه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . ومحمد بن زياد صاحب ميمون بن مهران ضعيف في الحديث جدا ومحمد بن زياد صاحب ابي هريرة هو بصري ثقة ويكنى ابا الحارث ومحمد بن زياد الالهاني صاحب ابي امامة ثقة يكنى ابا سفيان شامي
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے“، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو“، چنانچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي موسى الاشعري، قال انطلقت مع النبي صلى الله عليه وسلم فدخل حايطا للانصار فقضى حاجته فقال لي " يا ابا موسى املك على الباب فلا يدخلن على احد الا باذن " . فجاء رجل يضرب الباب فقلت من هذا فقال ابو بكر . فقلت يا رسول الله هذا ابو بكر يستاذن . قال " ايذن له وبشره بالجنة " . فدخل وبشرته بالجنة وجاء رجل اخر فضرب الباب فقلت من هذا فقال عمر . فقلت يا رسول الله هذا عمر يستاذن . قال " افتح له وبشره بالجنة " . ففتحت الباب ودخل وبشرته بالجنة فجاء رجل اخر فضرب الباب فقلت من هذا قال عثمان . فقلت يا رسول الله هذا عثمان يستاذن . قال " افتح له وبشره بالجنة على بلوى تصيبه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابي عثمان النهدي . وفي الباب عن جابر وابن عمر
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان رضی الله عنہ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا ابي ويحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، قال حدثني ابو سهلة، قال قال لي عثمان يوم الدار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد عهد الى عهدا فانا صابر عليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث اسماعيل بن ابي خالد
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( لشکر ) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی رضی الله عنہ کو مقرر کیا، چنانچہ وہ اس سریہ ( لشکر ) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کر لیا ۱؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چنانچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیر لیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیر لیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ۱؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبد الله، عن عمران بن حصين، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا واستعمل عليهم علي بن ابي طالب فمضى في السرية فاصاب جارية فانكروا عليه وتعاقد اربعة من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا اذا لقينا رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبرناه بما صنع علي وكان المسلمون اذا رجعوا من السفر بدءوا برسول الله صلى الله عليه وسلم فسلموا عليه ثم انصرفوا الى رحالهم فلما قدمت السرية سلموا على النبي صلى الله عليه وسلم فقام احد الاربعة فقال يا رسول الله الم تر الى علي بن ابي طالب صنع كذا وكذا . فاعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قام الثاني فقال مثل مقالته فاعرض عنه ثم قام اليه الثالث فقال مثل مقالته فاعرض عنه ثم قام الرابع فقال مثل ما قالوا فاقبل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم والغضب يعرف في وجهه فقال " ما تريدون من علي ما تريدون من علي ما تريدون من علي ان عليا مني وانا منه وهو ولي كل مومن من بعدي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث جعفر بن سليمان
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، قال سمعت ابا الطفيل، يحدث عن ابي سريحة، او زيد بن ارقم شك شعبة - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كنت مولاه فعلي مولاه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روى شعبة هذا الحديث عن ميمون ابي عبد الله عن زيد بن ارقم عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو سريحة هو حذيفة بن اسيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کر دی اور مجھے دارلہجرۃ ( مدینہ ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے ( خرید کر ) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ ( اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
حدثنا ابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري قال حدثنا ابو عتاب، سهل بن حماد قال حدثنا المختار بن نافع، قال حدثنا ابو حيان التيمي، عن ابيه، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله ابا بكر زوجني ابنته وحملني الى دار الهجرة واعتق بلالا من ماله رحم الله عمر يقول الحق وان كان مرا تركه الحق وماله صديق رحم الله عثمان تستحييه الملايكة رحم الله عليا اللهم ادر الحق معه حيث دار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . والمختار بن نافع شيخ بصري كثير الغرايب وابو حيان التيمي اسمه يحيى بن سعيد بن حيان التيمي كوفي وهو ثقة
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب رضی الله عنہ نے «رحبیہ» ( مخصوص بیٹھک ) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ قریش! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: وہ کون شخص ہے؟ اللہ کے رسول! اور آپ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی پوچھا: وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی رضی الله عنہ کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، ( راوی کہتے ہیں ) پھر علی رضی الله عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ۳- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا: منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا ابي، عن شريك، عن منصور، عن ربعي بن حراش، قال حدثنا علي بن ابي طالب، بالرحبة قال لما كان يوم الحديبية خرج الينا ناس من المشركين فيهم سهيل بن عمرو واناس من روساء المشركين فقالوا يا رسول الله خرج اليك ناس من ابناينا واخواننا وارقاينا وليس لهم فقه في الدين وانما خرجوا فرارا من اموالنا وضياعنا فارددهم الينا . " فان لم يكن لهم فقه في الدين سنفقههم " . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا معشر قريش لتنتهن او ليبعثن الله عليكم من يضرب رقابكم بالسيف على الدين قد امتحن الله قلبه على الايمان " . قالوا من هو يا رسول الله فقال له ابو بكر من هو يا رسول الله وقال عمر من هو يا رسول الله قال " هو خاصف النعل " . وكان اعطى عليا نعله يخصفها ثم التفت الينا علي فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث ربعي عن علي . وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لم يكذب ربعي بن حراش في الاسلام كذبة . واخبرني محمد بن اسماعيل عن عبد الله بن ابي الاسود قال سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول منصور بن المعتمر اثبت اهل الكوفة
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اس حدیث میں ایک واقعہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن اسراييل، وحدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي بن ابي طالب " انت مني وانا منك " . وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی رضی الله عنہ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”علی انہیں میں سے ہیں“، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے ”اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري ابن بنت السدي، قال حدثنا شريك، عن ابي ربيعة، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله امرني بحب اربعة واخبرني انه يحبهم " . قيل يا رسول الله سمهم لنا . قال " علي منهم يقول ذلك ثلاثا وابو ذر والمقداد وسلمان امرني بحبهم واخبرني انه يحبهم " .هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث شريك
حبشی بن جنادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، قال حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن حبشي بن جنادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " علي مني وانا من علي ولا يودي عني الا انا او علي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان البغدادي، قال حدثنا علي بن قادم، قال حدثنا علي بن صالح بن حى، عن حكيم بن جبير، عن جميع بن عمير التيمي، عن ابن عمر، قال اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اصحابه فجاء علي تدمع عيناه فقال يا رسول الله اخيت بين اصحابك ولم تواخ بيني وبين احد . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت اخي في الدنيا والاخرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفي الباب عن زيد بن ابي اوفى
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ ”اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ۴- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عيسى بن عمر، عن السدي، عن انس بن مالك، قال كان عند النبي صلى الله عليه وسلم طير فقال " اللهم ايتني باحب خلقك اليك ياكل معي هذا الطير " . فجاء علي فاكل معه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث السدي الا من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن انس . وعيسى بن عمر هو كوفي والسدي اسمه اسماعيل بن عبد الرحمن قد ادرك انس بن مالك وراى الحسين بن علي وثقه شعبة وسفيان الثوري وزايدة ووثقه يحيى بن سعيد القطان
حدثنا خلاد بن اسلم البغدادي، قال حدثنا النضر بن شميل، قال اخبرنا عوف، عن عبد الله بن عمرو بن هند الجملي، قال قال علي كنت اذا سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاني واذا سكت ابتداني .هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، قال حدثنا محمد بن عمر بن الرومي، قال حدثنا شريك، عن سلمة بن كهيل، عن سويد بن غفلة، عن الصنابحي، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا دار الحكمة وعلي بابها " . هذا حديث غريب منكر . وروى بعضهم هذا الحديث عن شريك ولم يذكروا فيه عن الصنابحي ولا نعرف هذا الحديث عن احد من الثقات غير شريك . وفي الباب عن ابن عباس
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب ( علی ) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علی رضی الله عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے ( آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی رضی الله عنہ نے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں“ ۱؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا: ”علی کو بلاؤ“، چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چنانچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» اتری۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن بكير بن مسمار، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال امر معاوية بن ابي سفيان سعدا فقال ما يمنعك ان تسب ابا تراب قال اما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن اسبه لان تكون لي واحدة منهن احب الى من حمر النعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لعلي وخلفه في بعض مغازيه فقال له علي يا رسول الله تخلفني مع النساء والصبيان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ترضى ان تكون مني بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبوة بعدي " . وسمعته يقول يوم خيبر " لاعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله " . قال فتطاولنا لها فقال " ادع لي عليا " . فاتاه وبه رمد فبصق في عينه فدفع الراية اليه ففتح الله عليه . وانزلت هذه الاية : ( فقل تعالوا ندع ابناءنا وابناءكم ) الاية دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسينا فقال " اللهم هولاء اهلي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه