Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید رضی الله عنہ کو بنایا اور فرمایا: ”جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چنانچہ علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے ( مال غنیمت میں سے ) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علی رضی الله عنہ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا پھر آپ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، قال حدثنا الاحوص بن جواب ابو الجواب، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم جيشين وامر على احدهما علي بن ابي طالب وعلى الاخر خالد بن الوليد وقال " اذا كان القتال فعلي " . قال فافتتح علي حصنا فاخذ منه جارية فكتب معي خالد كتابا الى النبي صلى الله عليه وسلم يشي به . قال فقدمت على النبي صلى الله عليه وسلم فقرا الكتاب فتغير لونه ثم قال " ما ترى في رجل يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله " . قال قلت اعوذ بالله من غضب الله و من غضب رسوله وانما انا رسول فسكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن علی رضی الله عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ۲- آپ کے قول ”بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔
حدثنا علي بن المندر الكوفي، قال حدثنا محمد بن فضيل، عن الاجلح، عن ابي الزبير، عن جابر، قال دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا يوم الطايف فانتجاه فقال الناس لقد طال نجواه مع ابن عمه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انتجيته ولكن الله انتجاه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الاجلح وقد رواه غير ابن فضيل ايضا عن الاجلح . ومعنى قوله " ولكن الله انتجاه " . يقول ان الله امرني ان انتجي معه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ۳- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑ گئے۔
حدثنا علي بن المنذر، قال حدثنا محمد بن فضيل، عن سالم بن ابي حفصة، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي " يا علي لا يحل لاحد ان يجنب في هذا المسجد غيري وغيرك " . قال علي بن المنذر قلت لضرار بن صرد ما معنى هذا الحديث قال لا يحل لاحد يستطرقه جنبا غيري وغيرك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وقد سمع مني محمد بن اسماعيل هذا الحديث واستغربه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۲- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، قال حدثنا علي بن عابس، عن مسلم الملايي، عن انس بن مالك، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين وصلى علي يوم الثلاثاء . وفي الباب عن علي . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث مسلم الاعور . ومسلم الاعور ليس عندهم بذلك القوي . وقد روي هذا عن مسلم عن حبة عن علي نحو هذا
حدثنا خلاد بن اسلم البغدادي، حدثنا النضر بن شميل، اخبرنا عوف، عن عبد الله بن عمرو بن هند الجملي قال: قال علي: كنت اذا سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاني واذا سكت ابتداني. قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ ( اور ہارون علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد ، قال حدثنا شريك، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي " انت مني بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن سعد وزيد بن ارقم وابي هريرة وام سلمة
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، قال حدثنا ابو نعيم، عن عبد السلام بن حرب، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن ابي وقاص، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعلي " انت مني بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدي " .هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم ويستغرب هذا الحديث من حديث يحيى بن سعيد الانصاري
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ کے دروازے کے علاوہ ( مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام ) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، قال حدثنا ابراهيم بن المختار، عن شعبة، عن ابي بلج، عن عمرو بن ميمون، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بسد الابواب الا باب علي . هذا حديث غريب لا نعرفه عن شعبة بهذا الاسناد الا من هذا الوجه
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، قال حدثنا علي بن جعفر بن محمد بن علي، قال اخبرني اخي، موسى بن جعفر بن محمد عن ابيه، جعفر بن محمد عن ابيه، محمد بن علي عن ابيه، علي بن الحسين عن ابيه، عن جده، علي بن ابي طالب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيد حسن وحسين فقال " من احبني واحب هذين واباهما وامهما كان معي في درجتي يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث جعفر بن محمد الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ۲- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی رضی الله عنہ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر رضی الله عنہ ہیں اور علی رضی الله عنہ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ رضی الله عنہا ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن حميد، قال حدثنا ابراهيم بن المختار، عن شعبة، عن ابي بلج، عن عمرو بن ميمون، عن ابن عباس، قال اول من صلى علي . قال هذا حديث غريب من هذا الوجه لا نعرفه من حديث شعبة عن ابي بلج الا من حديث محمد بن حميد . وابو بلج اسمه يحيى بن ابي سليم . وقد اختلف اهل العلم في هذا فقال بعضهم اول من اسلم ابو بكر الصديق . وقال بعضهم اول من اسلم علي . وقال بعض اهل العلم اول من اسلم من الرجال ابو بكر واسلم علي وهو غلام ابن ثمان سنين واول من اسلم من النساء خديجة
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی رضی الله عنہ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي حمزة، رجل من الانصار قال سمعت زيد بن ارقم، يقول اول من اسلم علي . قال عمرو بن مرة فذكرت ذلك لابراهيم النخعي فانكره وقال اول من اسلم ابو بكر الصديق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حمزة اسمه طلحة بن يزيد
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے“ ۱؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عيسى بن عثمان ابن اخي، يحيى بن عيسى الرملي قال حدثنا يحيى بن عيسى الرملي، عن الاعمش، عن عدي بن ثابت، عن زر بن حبيش، عن علي، قال لقد عهد الى النبي الامي صلى الله عليه وسلم " انه لا يحبك الا مومن ولا يبغضك الا منافق " . قال عدي بن ثابت انا من القرن الذين دعا لهم النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی رضی الله عنہ بھی تھے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتى تريني عليا» ”اے اللہ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، ويعقوب بن ابراهيم، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو عاصم، عن ابي الجراح، قال حدثني جابر بن صبح، قال حدثتني ام شراحيل، قالت حدثتني ام عطية، قالت بعث النبي صلى الله عليه وسلم جيشا فيهم علي . قالت فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو رافع يديه يقول " اللهم لا تمتني حتى تريني عليا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے ( جنت ) واجب کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى ابن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن جده عبد الله بن الزبير، عن الزبير، قال كان على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد درعان فنهض الى صخرة فلم يستطع فاقعد تحته طلحة فصعد النبي صلى الله عليه وسلم حتى استوى على الصخرة فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اوجب طلحة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا صالح بن موسى الطلحي، من ولد طلحة بن عبيد الله عن الصلت بن دينار، عن ابي نضرة، قال قال جابر بن عبد الله سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سره ان ينظر الى شهيد يمشي على وجه الارض فلينظر الى طلحة بن عبيد الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الصلت . وقد تكلم بعض اهل العلم في الصلت بن دينار وفي صالح بن موسى من قبل حفظهما
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد العطار البصري، قال حدثنا عمرو بن عاصم، عن اسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمه، موسى بن طلحة قال دخلت على معاوية فقال الا ابشرك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " طلحة ممن قضى نحبه " .هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث معاوية الا من هذا الوجه
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا ابو عبد الرحمن بن منصور العنزي، عن عقبة بن علقمة اليشكري، قال سمعت علي بن ابي طالب، قال سمعت اذني، من في رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول " طلحة والزبير جاراى في الجنة " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ”کتاب الفوائد“ میں رکھا ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء قال حدثنا يونس بن بكير، قال حدثنا طلحة بن يحيى، عن موسى، وعيسى، ابنى طلحة عن ابيهما، طلحة ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لاعرابي جاهل سله عمن قضى نحبه من هو وكانوا لا يجتريون على مسالته يوقرونه ويهابونه فساله الاعرابي فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم ساله فاعرض عنه ثم اني اطلعت من باب المسجد وعلى ثياب خضر فلما راني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اين السايل عمن قضى نحبه " . قال الاعرابي انا يا رسول الله . قال " هذا ممن قضى نحبه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابي كريب عن يونس بن بكير . وقد رواه غير واحد من كبار اهل الحديث عن ابي كريب بهذا الحديث . وسمعت محمد بن اسماعيل يحدث بهذا عن ابي كريب ووضعه في كتاب الفوايد
زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، قال حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، عن الزبير، قال جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه يوم قريظة فقال " بابي وامي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا زايدة، عن عاصم، عن زر، عن علي رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حواريا وان حواري الزبير بن العوام " . هذا حديث حسن صحيح . ويقال الحواري هو الناصر . سمعت ابن ابي عمر يقول قال سفيان بن عيينة الحواري هو الناصر