Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“ ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» ( غزوہ احزاب ) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟“ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود الحفري، وابو نعيم عن سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان لكل نبي حواريا وان حواري الزبير بن العوام " . وزاد ابو نعيم فيه يوم الاحزاب قال " من ياتينا بخبر القوم " . قال الزبير انا . قالها ثلاثا قال الزبير انا . هذا حديث حسن صحيح
ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر رضی الله عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ ( رضی الله عنہما ) کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن صخر بن جويرية، عن هشام بن عروة، قال اوصى الزبير الى ابنه عبد الله صبيحة الجمل فقال ما مني عضو الا وقد جرح مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . حتى انتهى ذاك الى فرجه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث حماد بن زيد
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید ( سعید بن زید ) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ۱؎ ( رضی اللہ علیہم اجمعین ) “ ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے، ( اور اسی طرح آئی ہے ) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الرحمن بن حميد، عن ابيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد في الجنة وسعيد في الجنة وابو عبيدة بن الجراح في الجنة " . اخبرنا ابو مصعب، قراءة عن عبد العزيز بن محمد، عن عبد الرحمن بن حميد، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن عبد الرحمن بن عوف . قال وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن حميد عن ابيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا وهذا اصح من الحديث الاول
حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی الله عنہ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص ( جنتی ہیں ) “ وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو ( ۹ ) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے ( اس لیے میں بتا رہا ہوں ) ابوالاعور جنتی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔
حدثنا صالح بن مسمار المروزي، قال حدثنا ابن ابي فديك، عن موسى بن يعقوب، عن عمر بن سعيد، عن عبد الرحمن بن حميد، عن ابيه، ان سعيد بن زيد، حدثه في، نفر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عشرة في الجنة ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان وعلي والزبير وطلحة وعبد الرحمن وابو عبيدة وسعد بن ابي وقاص " . قال فعد هولاء التسعة وسكت عن العاشر فقال القوم ننشدك الله يا ابا الاعور من العاشر قال نشدتموني بالله ابو الاعور في الجنة .ابو الاعور هو سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل . وسمعت محمدا يقول هو اصح من الحديث الاول
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں سے ) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کر سکیں گے۔ پھر عائشہ رضی الله عنہا نے ( ابوسلمہ سے ) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار ( دینار ) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا بكر بن مضر، عن صخر بن عبد الله، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " ان امركن مما يهمني بعدي ولن يصبر عليكن الا الصابرون " . قال ثم تقول عايشة فسقى الله اباك من سلسبيل الجنة . تريد عبد الرحمن بن عوف وقد كان وصل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم بمال يقال بيعت باربعين الفا . هذا حديث حسن غريب
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ ( درہم ) میں بیچا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن عثمان البصري، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب البصري، قالا حدثنا قريش بن انس، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، ان عبد الرحمن بن عوف، اوصى بحديقة لامهات المومنين بيعت باربع مية الف . هذا حديث حسن غريب
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما“ اور یہ زیادہ صحیح ہے ( یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے ) ۔
حدثنا رجاء بن محمد العذري، - بصري - قال حدثنا جعفر بن عون، عن اسماعيل ابن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم استجب لسعد اذا دعاك " . وقد روي هذا الحديث عن اسماعيل عن قيس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم استجب لسعد اذا دعاك " . وهذا اصح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ میرے ماموں ہیں“۔
حدثنا ابو كريب، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا ابو اسامة، عن مجالد، عن عامر الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال اقبل سعد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هذا خالي فليرني امرو خاله " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث مجالد . وكان سعد بن ابي وقاص من بني زهرة وكانت ام النبي صلى الله عليه وسلم من بني زهرة فلذلك قال النبي صلى الله عليه وسلم " هذا خالي
علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ۱؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: ”تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن علي بن زيد، ويحيى بن سعيد، سمعا سعيد بن المسيب، يقول قال علي ما جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم اباه وامه لاحد الا لسعد قال له يوم احد " ارم فداك ابي وامي وقال له ارم ايها الغلام الحزور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روى غير واحد هذا الحديث عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن سعد . وفي الباب عن سعد
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، وعبد العزيز بن محمد، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن ابي وقاص، قال جمع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه يوم احد . هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن عبد الله بن شداد بن الهاد، عن علي بن ابي طالب، عن النبي صلى الله عليه وسلم
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا بذلك، محمود بن غيلان قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن عبد الله بن شداد، عن علي بن ابي طالب، قال ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يفدي احدا بابويه الا لسعد فاني سمعته يقول يوم احد " ارم سعد فداك ابي وامي " . هذا حديث صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، ان عايشة، قالت سهر رسول الله صلى الله عليه وسلم مقدمه المدينة ليلة قال " ليت رجلا صالحا يحرسني الليلة " . قالت فبينا نحن كذلك اذ سمعنا خشخشة السلاح فقال " من هذا " . فقال سعد بن ابي وقاص . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما جاء بك " . فقال سعد وقع في نفسي خوف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجيت احرسه . فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نام . هذا حديث حسن صحيح
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا حصين، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم المازني، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، انه قال اشهد على التسعة انهم في الجنة ولو شهدت على العاشر لم اثم . قيل وكيف ذلك قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحراء فقال " اثبت حراء فانه ليس عليك الا نبي او صديق او شهيد " . قيل ومن هم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد وعبد الرحمن بن عوف . قيل فمن العاشر قال انا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا الحجاج بن محمد، قال حدثني شعبة، عن الحر بن الصباح، عن عبد الرحمن بن الاخنس، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . هذا حديث حسن
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثني ابي قال، سمعت الاعمش، يحدث عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعمر في العباس " ان عم الرجل صنو ابيه " . وكان عمر كلمه في صدقته . هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، قال حدثنا شبابة، قال حدثنا ورقاء، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العباس عم رسول الله وان عم الرجل صنو ابيه او من صنو ابيه " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث ابي الزناد الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، عن ثور بن يزيد، عن مكحول، عن كريب، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس " اذا كان غداة الاثنين فاتني انت وولدك حتى ادعو لهم بدعوة ينفعك الله بها وولدك " . فغدا وغدونا معه والبسنا كساء ثم قال " اللهم اغفر للعباس وولده مغفرة ظاهرة وباطنة لا تغادر ذنبا اللهم احفظه في ولده " .هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا عبد الله بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت جعفرا يطير في الجنة مع الملايكة " . هذا حديث غريب من حديث ابي هريرة لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن جعفر . وقد ضعفه يحيى بن معين وغيره وعبد الله بن جعفر هو والد علي بن المديني . وفي الباب عن ابن عباس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي، قال حدثنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابي هريرة، قال ما احتذى النعال ولا انتعل ولا ركب المطايا ولا ركب الكور بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم افضل من جعفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب والكور الرحل