Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا: ”تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو“، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لجعفر بن ابي طالب " اشبهت خلقي وخلقي " . وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن اسراييل نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم ابو يحيى التيمي، قال حدثنا ابراهيم ابو اسحاق المخزومي، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال ان كنت لاسال الرجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن الايات من القران انا اعلم بها منه ما اساله الا ليطعمني شييا فكنت اذا سالت جعفر بن ابي طالب لم يجبني حتى يذهب بي الى منزله فيقول لامراته يا اسماء اطعمينا شييا . فاذا اطعمتنا اجابني وكان جعفر يحب المساكين ويجلس اليهم ويحدثهم ويحدثونه فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكنيه بابي المساكين . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وابو اسحاق المخزومي هو ابراهيم بن الفضل المدني وقد تكلم فيه بعض اهل الحديث من قبل حفظه وله غرايب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، ( جو ہمیں پیش کرتے ) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو احمد حاتم بن سياه المروزي حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن عجلان، عن يزيد بن قسيط، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كنا ندعو جعفر بن ابي طالب رضى الله عنه ابا المساكين فكنا اذا اتيناه قربنا اليه ما حضر فاتيناه يوما فلم يجد عنده شييا فاخرج جرة من عسل فكسرها فجعلنا نلعق منها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي سلمة عن ابي هريرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة " . حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا جرير، ومحمد بن فضيل، عن يزيد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابن ابي نعم هو عبد الرحمن بن ابي نعم البجلي الكوفي ويكنى ابا الحكم
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، وعبد بن حميد، قالا حدثنا خالد بن مخلد، قال حدثنا موسى بن يعقوب الزمعي، عن عبد الله بن ابي بكر بن زيد بن المهاجر، قال اخبرني مسلم بن ابي سهل النبال، قال اخبرني الحسن بن اسامة بن زيد، قال اخبرني ابي اسامة بن زيد، قال طرقت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو مشتمل على شيء لا ادري ما هو فلما فرغت من حاجتي قلت ما هذا الذي انت مشتمل عليه قال فكشفه فاذا حسن وحسين عليهما السلام على وركيه فقال " هذان ابناى وابنا ابنتي اللهم اني احبهما فاحبهما واحب من يحبهما " . هذا حديث حسن غريب
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ۱؎ تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم البصري العمي، قال حدثنا وهب بن جرير بن حازم، قال حدثنا ابي، عن محمد بن ابي يعقوب، عن عبد الرحمن بن ابي نعم، ان رجلا، من اهل العراق سال ابن عمر عن دم البعوض يصيب الثوب فقال ابن عمر انظروا الى هذا يسال عن دم البعوض وقد قتلوا ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الحسن والحسين هما ريحانتاى من الدنيا " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وقد رواه شعبة ومهدي بن ميمون عن محمد بن ابي يعقوب . وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ”میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا ابو خالد الاحمر، قال حدثنا رزين، قال حدثتني سلمى، قالت دخلت على ام سلمة وهي تبكي فقلت ما يبكيك قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم - تعني في المنام - وعلى راسه ولحيته التراب فقلت ما لك يا رسول الله . قال " شهدت قتل الحسين انفا " . هذا حديث غريب
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، قال حدثنا عقبة بن خالد، قال حدثني يوسف بن ابراهيم، انه سمع انس بن مالك، يقول سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى اهل بيتك احب اليك قال " الحسن والحسين " . وكان يقول لفاطمة " ادعي لي ابنى " . فيشمهما ويضمهما اليه . هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث انس
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثنا الاشعث، هو ابن عبد الملك عن الحسن، عن ابي بكرة، قال صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " ان ابني هذا سيد يصلح الله على يديه فيتين عظيمتين " . هذا حديث حسن صحيح . يعني الحسن بن علي
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثنا علي بن حسين بن واقد، قال حدثني ابي، قال حدثني عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي، : بريدة يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا اذ جاء الحسن والحسين عليهما السلام عليهما قميصان احمران يمشيان ويعثران فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم من المنبر فحملهما ووضعهما بين يديه ثم قال " صدق الله : ( انما اموالكم واولادكم فتنة ) نظرت الى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم اصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث الحسين بن واقد
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، قال حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن راشد، عن يعلى بن مرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حسين مني وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وانما نعرفه من حديث عبد الله بن عثمان ابن خثيم وقد رواه غير واحد عن عبد الله بن عثمان بن خثيم
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال لم يكن احد منهم اشبه برسول الله من الحسن بن علي . هذا حديث حسن صحيح
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن ابي جحيفة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان الحسن بن علي يشبهه . هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وابن عباس وابن الزبير
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا خلاد بن اسلم ابو بكر البغدادي، قال حدثنا النضر بن شميل، قال اخبرنا هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، قالت حدثني انس بن مالك، قال كنت عند ابن زياد فجيء براس الحسين فجعل يقول بقضيب له في انفه ويقول ما رايت مثل هذا حسنا لم يذكر . قال قلت اما انه كان من اشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن هاني بن هاني، عن علي، قال الحسن اشبه برسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين الصدر الى الراس والحسين اشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم ما كان اسفل من ذلك . هذا حديث حسن غريب
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، قال لما جيء براس عبيد الله بن زياد واصحابه نضدت في المسجد في الرحبة فانتهيت اليهم وهم يقولون قد جاءت قد جاءت . فاذا حية قد جاءت تخلل الرءوس حتى دخلت في منخرى عبيد الله بن زياد فمكثت هنيهة ثم خرجت فذهبت حتى تغيبت ثم قالوا قد جاءت قد جاءت . ففعلت ذلك مرتين او ثلاثا . هذا حديث حسن صحيح
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، واسحاق بن منصور، قالا اخبرنا محمد بن يوسف، عن اسراييل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن زر بن حبيش، عن حذيفة، قال سالتني امي متى عهدك - تعني - بالنبي صلى الله عليه وسلم . فقلت ما لي به عهد منذ كذا وكذا . فنالت مني فقلت لها دعيني اتي النبي صلى الله عليه وسلم فاصلي معه المغرب واساله ان يستغفر لي ولك . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فصليت معه المغرب فصلى حتى صلى العشاء ثم انفتل فتبعته فسمع صوتي فقال " من هذا حذيفة " . قلت نعم . قال " ما حاجتك غفر الله لك ولامك " . قال " ان هذا ملك لم ينزل الارض قط قبل هذه الليلة استاذن ربه ان يسلم على ويبشرني بان فاطمة سيدة نساء اهل الجنة وان الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه لا نعرفه الا من حديث اسراييل
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو اسامة، عن فضيل بن مرزوق، عن عدي بن ثابت، عن البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم ابصر حسنا وحسينا فقال " اللهم اني احبهما فاحبهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، قال سمعت البراء بن عازب، يقول رايت النبي صلى الله عليه وسلم واضعا الحسن بن علي على عاتقه وهو يقول " اللهم اني احبه فاحبه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهو اصح من حديث الفضيل بن مرزوق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسین بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا زمعة بن صالح، عن سلمة بن وهرام، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الحسن بن علي على عاتقه فقال رجل نعم المركب ركبت يا غلام . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ونعم الراكب هو " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وزمعة بن صالح قد ضعفه بعض اهل الحديث من قبل حفظه