Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ“، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، عن كثير النواء، عن ابي ادريس، عن المسيب بن نجبة، قال قال علي بن ابي طالب قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان كل نبي اعطي سبعة نجباء او نقباء واعطيت انا اربعة عشر " . قلنا من هم قال انا وابناى وجعفر وحمزة وابو بكر وعمر ومصعب بن عمير وبلال وسلمان وعمار والمقداد و حذيفة وعبد الله بن مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث عن علي موقوفا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، قال حدثنا زيد بن الحسن، هو الانماطي عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته يوم عرفة وهو على ناقته القصواء يخطب فسمعته يقول " يا ايها الناس اني قد تركت فيكم ما ان اخذتم به لن تضلوا كتاب الله وعترتي اهل بيتي " .وفي الباب عن ابي ذر وابي سعيد وزيد بن ارقم وحذيفة بن اسيد . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وزيد بن الحسن قد روى عنه سعيد بن سليمان وغير واحد من اهل العلم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اے اہل بیت النبوۃ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ( کفر و شرک ) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی الله عنہ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے“، ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا محمد بن سليمان الاصبهاني، عن يحيى بن عبيد، عن عطاء بن ابي رباح، عن عمر بن ابي سلمة، ربيب النبي صلى الله عليه وسلم قال نزلت هذه الاية على النبي صلى الله عليه وسلم : ( انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيرا ) في بيت ام سلمة فدعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة وحسنا وحسينا فجللهم بكساء وعلي خلف ظهره فجلله بكساء ثم قال " اللهم هولاء اهل بيتي فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا " . قالت ام سلمة وانا معهم يا نبي الله قال " انت على مكانك وانت الي خير " . وفي الباب عن ام سلمة ومعقل بن يسار وابي الحمراء وانس بن مالك . وهذا حديث غريب من هذا الوجه
زید بن ارقم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن المنذر، - الكوفي - قال حدثنا محمد بن فضيل، قال حدثنا الاعمش، عن عطية، عن ابي سعيد، والاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن زيد بن ارقم، رضي الله عنهما قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني تارك فيكم ما ان تمسكتم به لن تضلوا بعدي احدهما اعظم من الاخر كتاب الله حبل ممدود من السماء الى الارض وعترتي اهل بيتي ولن يتفرقا حتى يردا على الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما " . هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو داود، سليمان بن الاشعث قال اخبرنا يحيى بن معين، قال حدثنا هشام بن يوسف، عن عبد الله بن سليمان النوفلي، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احبوا الله لما يغذوكم من نعمه واحبوني بحب الله واحبوا اهل بيتي لحبي " . قال ابو عيسى هذا ��ديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن داود العطار، عن معمر، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارحم امتي بامتي ابو بكر واشدهم في امر الله عمر واصدقهم حياء عثمان واعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل وافرضهم زيد بن ثابت واقروهم ابى بن كعب ولكل امة امين وامين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث قتادة الا من هذا الوجه . وقد رواه ابو قلابة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه والمشهور حديث ابي قلابة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض ( میراث ) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، قال حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارحم امتي بامتي ابو بكر واشدهم في امر الله عمر واصدقهم حياء عثمان واقروهم لكتاب الله ابى بن كعب وافرضهم زيد بن ثابت واعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل الا وان لكل امة امينا وان امين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح " . هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين كفروا» ۱؎ پڑھ کر سناؤں، انہوں نے عرض کیا: کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں ( یہ سن کر ) وہ رو پڑے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی“۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابى بن كعب " ان الله امرني ان اقرا عليك : ( لم يكن الذين كفروا ) " . قال وسماني قال " نعم " . فبكى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابى بن كعب قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں“، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا ۱؎ «إن ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» ”بیشک دین والی ۲؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے“، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا: ۳؎ «ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغى إليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب» ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ۴؎، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“، ۴- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے فرمایا کہ ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن عاصم، قال سمعت زر بن حبيش، يحدث عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " ان الله امرني ان اقرا عليك " . فقرا عليه: ( لم يكن الذين كفروا من اهل الكتاب ) فقرا فيها " ان ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره " . وقرا عليه " ولو ان لابن ادم واديا من مال لابتغى اليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى اليه ثالثا ولا يملا جوف ابن ادم الا التراب ويتوب الله على من تاب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير هذا الوجه . رواه عبد الله بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن ابى بن كعب ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابى بن كعب " ان الله امرني ان اقرا عليك القران " . وقد روى قتادة عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابى " ان الله امرني ان اقرا عليك القران
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال جمع القران على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعة كلهم من الانصار ابى بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وابو زيد . قلت لانس من ابو زيد قال احد عمومتي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح“ ( رضی الله عنہم ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل ابو بكر نعم الرجل عمر نعم الرجل ابو عبيدة بن الجراح نعم الرجل اسيد بن حضير نعم الرجل ثابت بن قيس بن شماس نعم الرجل معاذ بن جبل نعم الرجل معاذ بن عمرو بن الجموح " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث سهيل
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا“، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی الله عنہما کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن صلة بن زفر، عن حذيفة بن اليمان، قال جاء العاقب والسيد الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا ابعث معنا امينا . فقال " فاني سابعث معكم امينا حق امين " . فاشرف لها الناس فبعث ابا عبيدة بن الجراح رضى الله عنه . قال وكان ابو اسحاق اذا حدث بهذا الحديث عن صلة قال سمعته منذ ستين سنة . هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار اخبرنا سلم بن قتيبة وابو داود عن شعبة عن ابي اسحاق قال قال حذيفة قلب صلة بن زفر من ذهب وقد روي عن عمر وانس عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لكل امة امين وامين هذه الامة ابو عبيدة بن الجراح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے: علی، عمار، اور سلمان رضی الله عنہم کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا ابي، عن الحسن بن صالح، عن ابي ربيعة الايادي، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الجنة تشتاق الى ثلاثة علي وعمار وسلمان " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الحسن بن صالح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن هانىء بن هانىء، عن علي، قال جاء عمار يستاذن على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ايذنوا له مرحبا بالطيب المطيب " . هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ رضی الله عنہم احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو مصعب المدني، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابشر عمار تقتلك الفية الباغية " . وفي الباب عن ام سلمة وعبد الله بن عمرو وابي اليسر وحذيفة . وهذا حديث حسن صحيح غريب من حديث العلاء بن عبد الرحمن
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابن نمير، عن الاعمش، عن عثمان بن عمير، هو ابو اليقظان عن ابي حرب بن ابي الاسود الديلي، عن عبد الله بن عمرو، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما اظلت الخضراء ولا اقلت الغبراء اصدق من ابي ذر " . وفي الباب عن ابي الدرداء وابي ذر . وهذا حديث حسن
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے – جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں – زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو“، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، بتا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں“۔
حدثنا العباس العنبري، قال حدثنا النضر بن محمد، قال حدثنا عكرمة بن عمار، قال حدثني ابو زميل، هو سماك بن الوليد الحنفي عن مالك بن مرثد، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اظلت الخضراء ولا اقلت الغبراء من ذي لهجة اصدق ولا اوفى من ابي ذر شبه عيسى ابن مريم عليه السلام " . فقال عمر بن الخطاب كالحاسد يا رسول الله افنعرف ذلك له قال " نعم فاعرفوه له " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روى بعضهم هذا الحديث فقال " ابو ذر يمشي في الارض بزهد عيسى ابن مريم عليه السلام
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان رضی الله عنہ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان رضی الله عنہ کے پاس آئے، عثمان رضی الله عنہ نے ان سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چنانچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چنانچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل على مثله فآمن واستكبرتم إن الله لا يهدي القوم الظالمين» ۱؎ «قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب» ۲؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی! اگر تم نے اسے قتل کر دیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آ سکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے: اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام» کہا ہے۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، قال حدثنا ابو محياة يحيى بن يعلى بن عطاء عن عبد الملك بن عمير، عن ابن اخي عبد الله بن سلام، قال لما اريد قتل عثمان جاء عبد الله بن سلام فقال له عثمان ما جاء بك قال جيت في نصرك . قال اخرج الى الناس فاطردهم عني فانك خارجا خير لي منك داخلا . فخرج عبد الله الى الناس فقال ايها الناس انه كان اسمي في الجاهلية فلان فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله ونزلت في ايات من كتاب الله فنزلت في : ( وشهد شاهد من بني اسراييل على مثله فامن واستكبرتم ان الله لا يهدي القوم الظالمين ) ونزلت في : ( قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الكتاب ) ان لله سيفا مغمودا عنكم وان الملايكة قد جاورتكم في بلدكم هذا الذي نزل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فالله الله في هذا الرجل ان تقتلوه فوالله لين قتلتموه لتطردن جيرانكم الملايكة ولتسلن سيف الله المغمود عنكم فلا يغمد عنكم الى يوم القيامة . قالوا اقتلوا اليهودي واقتلوا عثمان . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث عبد الملك بن عمير . وقد روى شعيب بن صفوان هذا الحديث عن عبد الملك بن عمير فقال عن عمر بن محمد بن عبد الله بن سلام عن جده عبد الله بن سلام
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے مرنے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں کچھ وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر بولے: علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا، انہوں نے اسے تین بار کہا، پھر بولے: علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو: عویمر ابو الدرداء کے پاس، سلمان فارسی کے پاس، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس، ( جو یہودی تھے پھر اسلام لائے ) کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں ۱؎۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن يزيد بن عميرة، قال لما حضر معاذ بن جبل الموت قيل له يا ابا عبد الرحمن اوصنا . قال اجلسوني . فقال ان العلم والايمان مكانهما من ابتغاهما وجدهما يقول ذلك ثلاث مرات والتمسوا العلم عند اربعة رهط عند عويمر ابي الدرداء وعند سلمان الفارسي وعند عبد الله بن مسعود وعند عبد الله بن سلام الذي كان يهوديا فاسلم فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انه عاشر عشرة في الجنة " . وفي الباب عن سعد . وهذا حديث حسن صحيح غريب