Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن اسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل، قال حدثني ابي، عن ابيه، عن سلمة بن كهيل، عن ابي الزعراء، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتدوا باللذين من بعدي من اصحابي ابي بكر وعمر واهتدوا بهدى عمار وتمسكوا بعهد ابن مسعود " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابن مسعود لا نعرفه الا من حديث يحيى بن سلمة بن كهيل . ويحيى بن سلمة يضعف في الحديث وابو الزعراء اسمه عبد الله بن هاني وابو الزعراء الذي روى عنه شعبة والثوري وابن عيينة اسمه عمرو بن عمرو وهو ابن اخي ابي الاحوص صاحب عبد الله بن مسعود
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا ابراهيم بن يوسف بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، انه سمع ابا موسى، يقول لقد قدمت انا واخي، من اليمن وما نرى حينا الا ان عبد الله بن مسعود رجل من اهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم لما نرى من دخوله ودخول امه على النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد رواه سفيان الثوري عن ابي اسحاق
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال اتينا على حذيفة فقلنا حدثنا من، باقرب الناس من رسول الله صلى الله عليه وسلم هديا ودلا فناخذ عنه ونسمع منه قال كان اقرب الناس هديا ودلا وسمتا برسول الله صلى الله عليه وسلم ابن مسعود حتى يتوارى منا في بيته ولقد علم المحفوظون من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ابن ام عبد هو من اقربهم الى الله زلفى . هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا صاعد الحراني، قال حدثنا زهير، قال حدثنا منصور، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت مومرا احدا من غير مشورة منهم لامرت عليهم ابن ام عبد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث الحارث عن علي
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا ابي، عن سفيان الثوري، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت مومرا احدا من غير مشورة لامرت ابن ام عبد
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا القران من اربعة من ابن مسعود وابى بن كعب ومعاذ بن جبل وسالم مولى ابي حذيفة " . هذا حديث حسن صحيح
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
حدثنا الجراح بن مخلد البصري، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن خيثمة بن ابي سبرة، قال اتيت المدينة فسالت الله ان ييسر لي جليسا صالحا فيسر لي ابا هريرة فجلست اليه فقلت له اني سالت الله ان ييسر لي جليسا صالحا فوفقت لي . فقال لي من اين انت قلت من اهل الكوفة جيت التمس الخير واطلبه . قال اليس فيكم سعد بن مالك مجاب الدعوة وابن مسعود صاحب طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم ونعليه وحذيفة صاحب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمار الذي اجاره الله من الشيطان على لسان نبيه وسلمان صاحب الكتابين . قال قتادة والكتابان الانجيل والقران . هذا حديث حسن صحيح غريب . وخيثمة هو ابن عبد الرحمن بن ابي سبرة نسب الى جده
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا: ”اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو“، اور جو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) ۱؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا اسحاق بن عيسى، عن شريك، عن ابي اليقظان، عن زاذان، عن حذيفة، قال قالوا يا رسول الله لو استخلفت . قال " ان استخلفت عليكم فعصيتموه عذبتم ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه وما اقراكم عبد الله فاقرءوه " . قال عبد الله فقلت لاسحاق بن عيسى يقولون هذا عن ابي وايل . قال لا عن زاذان ان شاء الله . هذا حديث حسن وهو حديث شريك
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا محمد بن بكر، عن ابن جريج، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر، انه فرض لاسامة بن زيد في ثلاثة الاف وخمسماية وفرض لعبد الله بن عمر في ثلاثة الاف قال عبد الله بن عمر لابيه لم فضلت اسامة على فوالله ما سبقني الى مشهد . قال لان زيدا كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من ابيك وكان اسامة احب الى رسول الله منك فاثرت حب رسول الله صلى الله عليه وسلم على حبي . هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”تم متبنی ( لے پالک ) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال ما كنا ندعو زيد بن حارثة الا زيد بن محمد حتى نزلت : ( ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله ) . هذا حديث حسن صحيح
زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا الجراح بن مخلد البصري، وغير، واحد، قالوا حدثنا محمد بن عمر بن الرومي، قال حدثنا علي بن مسهر، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن ابي عمرو الشيباني، قال اخبرني جبلة بن حارثة، اخو زيد قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ابعث معي اخي زيدا . قال " هو ذا " . قال " فان انطلق معك لم امنعه " . قال زيد يا رسول الله والله لا اختار عليك احدا . قال فرايت راى اخي افضل من رايي . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن الرومي عن علي بن مسهر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو ۱؎، قسم اللہ کی! وہ ( زید ) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی ( اسامہ ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن الحسن، قال حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا وامر عليهم اسامة بن زيد فطعن الناس في امارته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان تطعنوا في امارته فقد كنتم تطعنون في امرة ابيه من قبل وايم الله ان كان لخليقا للامارة وان كان من احب الناس الى وان هذا من احب الناس الى بعده " . هذا حديث حسن صحيح . حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث مالك بن انس
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے ) اتر کر مدینہ آیا اور ( میرے ساتھ ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہو چکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن عبيد بن السباق، عن محمد بن اسامة بن زيد، عن ابيه، قال لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم هبطت وهبط الناس المدينة فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اصمت فلم يتكلم فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع يديه على ويرفعهما فاعرف انه يدعو لي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ۱؎ تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان ينحي مخاط اسامة قالت عايشة دعني دعني حتى اكون انا الذي افعل . قال " يا عايشة احبيه فاني احبه " . هذا حديث حسن غريب
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو معلوم ہے“، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد“، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں“، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر علی بن ابی طالب ہیں“، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا، آپ نے فرمایا: ”علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
حدثنا احمد بن الحسن، قال حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا ابو عوانة، قال حدثنا عمر بن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابيه، قال اخبرني اسامة بن زيد، قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاء علي والعباس يستاذنان فقالا يا اسامة استاذن لنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت يا رسول الله علي والعباس يستاذنان . فقال " اتدري ما جاء بهما " . قلت لا ادري . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لكني ادري " . فاذن لهما فدخلا فقالا يا رسول الله جيناك نسالك اى اهلك احب اليك قال " فاطمة بنت محمد " . فقالا ما جيناك نسالك عن اهلك . قال " احب اهلي الى من قد انعم الله عليه وانعمت عليه اسامة بن زيد " . قالا ثم من قال " ثم علي بن ابي طالب " . قال العباس يا رسول الله جعلت عمك اخرهم قال " لان عليا قد سبقك بالهجرة " . هذا حديث حسن صحيح . وكان شعبة يضعف عمر بن ابي سلمة
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے ) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا معاوية بن عمرو الازدي، قال حدثنا زايدة، عن بيان، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال ما حجبني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت ولا راني الا ضحك . هذا حديث حسن صحيح
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے ( اندر جانے سے ) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا زايدة، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس، عن جرير، قال ما حجبني رسول الله صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت ولا راني الا تبسم . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ۲- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو احمد، عن سفيان، عن ليث، عن ابي جهضم، عن ابن عباس، انه راى جبريل عليه السلام مرتين ودعا له النبي صلى الله عليه وسلم مرتين . قال ابو عيسى هذا حديث مرسل . ولا نعرف لابي جهضم سماعا من ابن عباس . وقد روي عن عبيد الله بن عبد الله ابن عباس عن ابن عباس . وابو جهضم اسمه موسى بن سالم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المكتب المودب، قال حدثنا القاسم بن مالك المزني، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن ابن عباس، قال دعا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يوتيني الله الحكمة مرتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث عطاء . وقد رواه عكرمة عن ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا: «اللهم علمه الحكمة» ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي، قال اخبرنا خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ضمني اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " اللهم علمه الحكمة " . هذا حديث حسن صحيح