Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی الله عنہا سے بیان کیا پھر حفصہ رضی الله عنہا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے“ یا فرمایا: ”عبداللہ مرد صالح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال رايت في المنام كانما بيدي قطعة استبرق ولا اشير بها الى موضع من الجنة الا طارت بي اليه فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان اخاك رجل صالح " . او " ان عبد الله رجل صالح " . هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خواب میں ) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: ”عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الجوهري، قال حدثنا ابو عاصم، عن عبد الله بن المومل، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى في بيت الزبير مصباحا فقال " يا عايشة ما ارى اسماء الا قد نفست فلا تسموه حتى اسميه " . فسماه عبد الله وحنكه بتمرة بيده . هذا حديث حسن غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ۱؎ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا جعفر بن سليمان، عن الجعد ابي عثمان، عن انس بن مالك، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعت امي ام سليم صوته فقالت بابي انت وامي يا رسول الله انيس . قال فدعا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث دعوات قد رايت منهن اثنين في الدنيا وانا ارجو الثالثة في الاخرة . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: ”اے دو کانوں والے“۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو اسامة، عن شريك، عن عاصم الاحول، عن انس، قال ربما قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " يا ذا الاذنين " . قال ابو اسامة يعني يمازحه . هذا حديث حسن غريب صحيح
ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ”اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، عن ام سليم، انها قالت يا رسول الله انس خادمك ادع الله له . قال " اللهم اكثر ماله وولده وبارك له فيما اعطيته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي، قال حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن جابر، عن ابي نصر، عن انس، رضى الله عنه قال كناني رسول الله صلى الله عليه وسلم ببقلة كنت اجتنيها . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث جابر الجعفي عن ابي نصر . وابو نصر هو خيثمة بن ابي خيثمة البصري روى عن انس احاديث
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا زيد بن حباب، قال حدثنا ميمون ابو عبد الله، قال حدثنا ثابت البناني قال قال لي انس بن مالك يا ثابت خذ عني فانك لم تاخذ عن احد اوثق مني اني اخذته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم عن جبريل واخذه جبريل عن الله تعالى . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث زيد بن حباب
اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا زيد بن حباب، عن ميمون ابي عبد الله، عن ثابت، عن انس، نحو حديث ابراهيم بن يعقوب ولم يذكر فيه واخذه النبي صلى الله عليه وسلم عن جبريل
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، عن ابي خلدة، قال قلت لابي العالية سمع انس، من النبي صلى الله عليه وسلم قال خدمه عشر سنين ودعا له النبي صلى الله عليه وسلم وكان له بستان يحمل في السنة الفاكهة مرتين وكان فيها ريحان يجد منه ريح المسك . هذا حديث حسن غريب . وابو خلدة اسمه خالد بن دينار وهو ثقة عند اهل الحديث وقد ادرك انس بن مالك وروى عنه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سماك، عن ابي الربيع، عن ابي هريرة، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبسطت ثوبي عنده ثم اخذه فجمعه على قلبي فما نسيت بعده حديثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى قال حدثنا عثمان بن عمر، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قلت يا رسول الله اسمع منك اشياء فلا احفظها . قال " ابسط رداءك " . فبسطت فحدث حديثا كثيرا فما نسيت شييا حدثني به . هذا حديث حسن صحيح و قد روي من غير وجه عن ابي هريرة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن ابن عمر، انه قال لابي هريرة يا ابا هريرة انت كنت الزمنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم واحفظنا لحديثه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا احمد بن ابي شعيب الحراني، قال حدثني محمد بن سلمة الحراني، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن مالك بن ابي عامر، قال جاء رجل الى طلحة بن عبيد الله فقال يا ابا محمد ارايت هذا اليماني يعني ابا هريرة هو اعلم بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم منكم نسمع منه ما لا نسمع منكم او يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل . قال اما ان يكون سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم نسمع فلا اشك الا انه سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم نسمع وذاك انه كان مسكينا لا شىء له ضيفا لرسول الله صلى الله عليه وسلم يده مع يد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنا نحن اهل بيوتات وغنى وكنا ناتي رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفى النهار فلا نشك الا انه سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم نسمع ولا نجد احدا فيه خير يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن اسحاق . وقد رواه يونس بن بكير وغيره عن محمد بن اسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
حدثنا بشر بن ادم ابن بنت ازهر السمان، قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثنا ابو خلدة، قال حدثنا ابو العالية، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ممن انت " . قال قلت من دوس . قال " ما كنت ارى ان في دوس احدا فيه خير " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابو خلدة اسمه خالد بن دينار وابو العالية اسمه رفيع
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا عمران بن موسى القزاز، قال حدثنا حماد بن زيد، قال حدثنا المهاجر، عن ابي العالية الرياحي، عن ابي هريرة، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بتمرات فقلت يا رسول الله ادع الله فيهن بالبركة . فضمهن ثم دعا لي فيهن بالبركة فقال لي " خذهن واجعلهن في مزودك هذا او في هذا المزود كلما اردت ان تاخذ منه شييا فادخل فيه يدك فخذه ولا تنثره نثرا " . فقد حملت من ذلك التمر كذا وكذا من وسق في سبيل الله فكنا ناكل منه ونطعم وكان لا يفارق حقوي حتى كان يوم قتل عثمان فانه انقطع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي هريرة
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد المرابطي، قال حدثنا روح بن عبادة، قال حدثنا اسامة بن زيد، عن عبد الله بن رافع، قال قلت لابي هريرة لم كنيت ابا هريرة قال اما تفرق مني قلت بلى والله اني لاهابك . قال كنت ارعى غنم اهلي فكانت لي هريرة صغيرة فكنت اضعها بالليل في شجرة فاذا كان النهار ذهبت بها معي فلعبت بها فكنوني ابا هريرة . هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن وهب بن منبه، عن اخيه، همام بن منبه عن ابي هريرة، قال ليس احد اكثر حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مني الا عبد الله بن عمرو فانه كان يكتب وكنت لا اكتب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا ابو مسهر عبد الاعلى بن مسهر، عن سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة بن يزيد، عن عبد الرحمن بن ابي عميرة، وكان، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال لمعاوية " اللهم اجعله هاديا مهديا واهد به " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، قال حدثنا عمرو بن واقد، عن يونس بن حلبس، عن ابي ادريس الخولاني، قال لما عزل عمر بن الخطاب عمير بن سعيد عن حمص، ولى معاوية فقال الناس عزل عميرا وولى معاوية . فقال عمير لا تذكروا معاوية الا بخير فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اهد به " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب , وعمرو بن واقد يضعف
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسلم الناس وامن عمرو بن العاصي " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابن لهيعة عن مشرح بن هاعان وليس اسناده بالقوي