Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، قال اخبرنا ابو اسامة، عن نافع بن عمر الجمحي، عن ابن ابي مليكة، قال قال طلحة بن عبيد الله سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان عمرو بن العاصي من صالحي قريش " . قال ابو عيسى هذا حديث انما نعرفه من حديث نافع بن عمر الجمحي . ونافع ثقة وليس اسناده بمتصل وابن ابي مليكة لم يدرك طلحة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي هريرة، قال نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا فجعل الناس يمرون فيقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " من هذا يا ابا هريرة " . فاقول فلان . فيقول " نعم عبد الله هذا " . ويقول " من هذا " . فاقول فلان . فيقول " بيس عبد الله هذا " . حتى مر خالد بن الوليد فقال " من هذا " . فقلت هذا خالد بن الوليد . فقال " نعم عبد الله خالد بن الوليد سيف من سيوف الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب ولا نعرف لزيد بن اسلم سماعا من ابي هريرة وهو عندي حديث مرسل . وفي الباب عن ابي بكر الصديق
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثوب حرير فجعلوا يعجبون من لينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعجبون من هذا لمناديل سعد بن معاذ في الجنة احسن من هذا " . وفي الباب عن انس . وهذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اور سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ ( اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا ) : ”ان کے لیے رحمن کا عرش ( بھی خوشی سے ) جھوم اٹھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وجنازة سعد بن معاذ بين ايديهم " اهتز له عرش الرحمن " . وفي الباب عن اسيد بن حضير وابي سعيد ورميثة .هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا: کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال اخبرنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال لما حملت جنازة سعد بن معاذ قال المنافقون ما اخف جنازته . وذلك لحكمه في بني قريظة فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان الملايكة كانت تحمله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر ( کی حفاظت ) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے۔ راوی حدیث ( محمد بن عبداللہ ) انصاری کہتے ہیں: یعنی وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے ) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن مرزوق البصري، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس، قال كان قيس بن سعد من النبي صلى الله عليه وسلم بمنزلة صاحب الشرط من الامير . قال الانصاري يعني مما يلي من اموره . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الانصاري . حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، نحوه ولم يذكر فيه قول الانصاري
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ۱؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال جاءني رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس براكب بغل ولا برذون . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ليلة البعير» ( اونٹ کی رات ) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی الله عنہما احد کے دن شہید کر دیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے، ۳- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا بشر بن السري، عن حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال استغفر لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة البعير خمسا وعشرين مرة . هذا حديث حسن صحيح غريب . ومعنى قوله ليلة البعير ما روي عن جابر من غير وجه انه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فباع بعيره من النبي صلى الله عليه وسلم واشترط ظهره الى المدينة يقول جابر ليلة بعت من النبي صلى الله عليه وسلم البعير استغفر لي خمسا وعشرين مرة وكان جابر قد قتل ابوه عبد الله بن عمرو بن حرام يوم احد وترك بنات فكان جابر يعولهن وينفق عليهن وكان النبي صلى الله عليه وسلم يبر جابرا ويرحمه لسبب ذلك هكذا روي في حديث عن جابر نحو هذا
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۱؎، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہو گیا ۲؎ چنانچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں کھایا ۳؎ اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں، اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن خباب، قال هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتغي وجه الله فوقع اجرنا على الله فمنا من مات ولم ياكل من اجره شييا ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها وان مصعب بن عمير مات ولم يترك الا ثوبا كانوا اذا غطوا به راسه خرجت رجلاه واذا غطي بها رجلاه خرج راسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غطوا راسه واجعلوا على رجليه الاذخر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا هناد، قال حدثنا ابن ادريس، عن الاعمش، عن ابي وايل، شقيق بن سلمة عن خباب بن الارت، نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ۱؎، انہیں میں سے براء بن مالک ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، قال حدثنا سيار، قال حدثنا جعفر بن سليمان، قال حدثنا ثابت، وعلي بن زيد، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كم من اشعث اغبر ذي طمرين لا يوبه له لو اقسم على الله لابره منهم البراء بن مالك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں ( اچھی آوازوں ) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي، قال حدثنا ابو يحيى الحماني، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا ابا موسى لقد اعطيت مزمارا من مزامير ال داود " .هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن بريدة وابي هريرة وانس
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا الفضيل بن سليمان، قال حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحفر الخندق ونحن ننقل التراب فيمر بنا فقال " اللهم لا عيش الا عيش الاخرة فاغفر للانصار والمهاجرة " . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وابو حازم اسمه سلمة بن دينار الاعرج الزاهد .وفي الباب عن انس بن مالك
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال حدثنا انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " اللهم لا عيش الا عيش الاخرة فاكرم الانصار والمهاجرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب وقد روي من غير وجه عن انس رضى الله عنه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے“، طلحہ ( راوی حدیث ) نے کہا: تو میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ ( راوی حدیث ) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا موسى بن ابراهيم بن كثير الانصاري، قال سمعت طلحة بن خراش، يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تمس النار مسلما راني او راى من راني " . قال طلحة فقد رايت جابر بن عبد الله . وقال موسى وقد رايت طلحة . قال يحيى وقال لي موسى وقد رايتني ونحن نرجو الله . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث موسى بن ابراهيم الانصاري . وروى علي بن المديني وغير واحد من اهل الحديث عن موسى هذا الحديث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثني هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة، هو السلماني عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم ياتي قوم من بعد ذلك تسبق ايمانهم شهاداتهم او شهاداتهم ايمانهم " . وفي الباب عن عمر وعمران بن حصين وبريدة . هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے ( حدیبیہ میں ) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے ( اجر کے ) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف ( آدھا ) مد ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال اخبرنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ذكوان ابا صالح، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا اصحابي فوالذي نفسي بيده لو ان احدكم انفق مثل احد ذهبا ما ادرك مد احدهم ولا نصيفه " . هذا حديث حسن صحيح . ومعنى قوله " نصيفه " يعني نصف المد . حدثنا الحسن بن علي الخلال، - وكان حافظا - قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد الخدري ، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عبيدة ابن ابي رايطة، عن عبد الرحمن بن زياد، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الله الله في اصحابي الله الله في اصحابي لا تتخذوهم غرضا بعدي فمن احبهم فبحبي احبهم ومن ابغضهم فببغضي ابغضهم ومن اذاهم فقد اذاني ومن اذاني فقد اذى الله ومن اذى الله فيوشك ان ياخذه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ازهر السمان، عن سليمان التيمي، عن خداش، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليدخلن الجنة من بايع تحت الشجرة الا صاحب الجمل الاحمر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان عبدا، لحاطب بن ابي بلتعة جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يشكو حاطبا فقال يا رسول الله ليدخلن حاطب النار . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذبت لا يدخلها فانه قد شهد بدرا والحديبية " . هذا حديث حسن صحيح