Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ رضی الله عنہ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا عثمان بن ناجية، عن عبد الله بن مسلم ابي طيبة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من احد من اصحابي يموت بارض الا بعث قايدا ونورا لهم يوم القيامة " . هذا حديث غريب . وروي هذا الحديث عن عبد الله بن مسلم ابي طيبة عن ابن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهو اصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر ( عمری ) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن نافع قال حدثنا النضر بن حماد، قال حدثنا سيف ابن عمر، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الذين يسبون اصحابي فقولوا لعنة الله على شركم " . قال ابو عيسى هذا حديث منكر لا نعرفه من حديث عبيد الله بن عمر الا من هذا الوجه . والنضر مجهول وسيف مجهول
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے: ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کر دیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کر لیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول وهو على المنبر " ان بني هشام بن المغيرة استاذنوني في ان ينكحوا ابنتهم علي بن ابي طالب فلا اذن ثم لا اذن ثم لا اذن الا ان يريد ابن ابي طالب ان يطلق ابنتي وينكح ابنتهم فانها بضعة مني يريبني ما رابها ويوذيني ما اذاها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه عمرو بن دينار عن ابن ابي مليكة عن المسور بن مخرمة نحو حديث الليث
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ رضی الله عنہ تھیں اور مردوں میں علی رضی الله عنہ تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: یعنی اپنے اہل بیت میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا الاسود بن عامر، عن جعفر الاحمر، عن عبد الله بن عطاء، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال كان احب النساء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة ومن الرجال علي . قال ابراهيم بن سعيد يعني من اهل بيته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، آپ نے فرمایا: ”فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ ( جیسا کہ حدیث رقم: ۳۸۸۰ ) ۳- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو ( اور ایسا بہت ہوا ہے ) ۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الله بن الزبير، ان عليا، ذكر بنت ابي جهل فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انما فاطمة بضعة مني يوذيني ما اذاها وينصبني ما انصبها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . هكذا قال ايوب عن ابن ابي مليكة عن ابن الزبير وقال غير واحد عن ابن ابي مليكة عن المسور بن مخرمة ويحتمل ان يكون ابن ابي مليكة روى عنهما جميعا
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی الله عنہم سے فرمایا: ”میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔
حدثنا سليمان بن عبد الجبار البغدادي، قال حدثنا علي بن قادم، قال حدثنا اسباط بن نصر الهمداني، عن السدي، عن صبيح، مولى ام سلمة عن زيد بن ارقم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعلي وفاطمة والحسن والحسين " انا حرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه . وصبيح مولى ام سلمة ليس بمعروف
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے“، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو ( بھی ) خیر پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ۲- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد الزبيري، قال حدثنا سفيان، عن زبيد، عن شهر بن حوشب، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم جلل على الحسن والحسين وعلي وفاطمة كساء ثم قال " اللهم هولاء اهل بيتي وخاصتي اذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا " . فقالت ام سلمة وانا معهم يا رسول الله قال " انك على خير " . هذا حديث حسن صحيح وهو احسن شيء روي في هذا الباب . وفي الباب عن عمر بن ابي سلمة وانس بن مالك وابي الحمراء ومعقل بن يسار وعايشة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ۱؎ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر ( عام ) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرنا اسراييل، عن ميسرة ابن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت ما رايت احدا اشبه سمتا ودلا وهديا برسول الله في قيامها وقعودها من فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت وكانت اذا دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم قام اليها فقبلها واجلسها في مجلسه وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل عليها قامت من مجلسها فقبلته واجلسته في مجلسها فلما مرض النبي صلى الله عليه وسلم دخلت فاطمة فاكبت عليه فقبلته ثم رفعت راسها فبكت ثم اكبت عليه ثم رفعت راسها فضحكت فقلت ان كنت لاظن ان هذه من اعقل نساينا فاذا هي من النساء فلما توفي النبي صلى الله عليه وسلم قلت لها ارايت حين اكببت على النبي صلى الله عليه وسلم فرفعت راسك فبكيت ثم اكببت عليه فرفعت راسك فضحكت ما حملك على ذلك قالت اني اذا لبذرة اخبرني انه ميت من وجعه هذا فبكيت ثم اخبرني اني اسرع اهله لحوقا به فذاك حين ضحكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عايشة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پا جائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، قال حدثني موسى بن يعقوب الزمعي، عن هاشم بن هاشم، ان عبد الله بن وهب، اخبره ان ام سلمة اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا فاطمة يوم الفتح فناجاها فبكت ثم حدثها فضحكت . قالت فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم سالتها عن بكايها وضحكها قالت اخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم انه يموت فبكيت ثم اخبرني اني سيدة نساء اهل الجنة الا مريم ابنت عمران فضحكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے: «حدثنا أبو الجحاف وكان مرضيا» ۔
حدثنا حسين بن يزيد الكوفي، قال حدثنا عبد السلام بن حرب، عن ابي الجحاف، عن جميع بن عمير التيمي، قال دخلت مع عمتي على عايشة فسيلت اى الناس كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت فاطمة . فقيل من الرجال قالت زوجها ان كان ما علمت صواما قواما . هذا حديث حسن غريب . وابو الجحاف اسمه داود بن ابي عوف ويروى عن سفيان الثوري قال حدثنا ابو الجحاف وكان مرضيا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، قال حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما غرت على احد من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ما غرت على خديجة وما بي ان اكون ادركتها وما ذاك الا لكثرة ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم لها وان كان ليذبح الشاة فيتتبع بها صدايق خديجة فيهديها لهن . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کر چکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما حسدت احدا ما حسدت خديجة وما تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم الا بعد ما ماتت وذلك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب . هذا حديث حسن . من قصب قال انما يعني به قصب اللولو
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر ( اپنے زمانہ میں ) مریم بنت عمران تھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، قال حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال سمعت علي بن ابي طالب، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير نسايها خديجة بنت خويلد وخير نسايها مريم بنت عمران " . وفي الباب عن انس وابن عباس وعايشة . وهذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا ابو بكر بن زنجويه، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن قتادة، عن انس، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " حسبك من نساء العالمين مريم ابنة عمران وخديجة بنت خويلد وفاطمة بنت محمد واسية امراة فرعون " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن ( باری کے دن ) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی الله عنہا کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں: ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ رضی الله عنہا کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں ( یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو ) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چنانچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں: میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ رضی الله عنہا سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ۴- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن درست، - المصري - قال حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان الناس يتحرون بهداياهم يوم عايشة قالت فاجتمع صواحباتي الى ام سلمة فقلن يا ام سلمة ان الناس يتحرون بهداياهم يوم عايشة وانا نريد الخير كما تريد عايشة فقولي لرسول الله صلى الله عليه وسلم يامر الناس يهدون اليه اينما كان فذكرت ذلك ام سلمة فاعرض عنها ثم عاد اليها فاعادت الكلام فقالت يا رسول الله ان صواحباتي قد ذكرن ان الناس يتحرون بهداياهم يوم عايشة فامر الناس يهدون اينما كنت . فلما كانت الثالثة قالت ذلك قال " يا ام سلمة لا توذيني في عايشة فانه ما انزل على الوحى وانا في لحاف امراة منكن غيرها " . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن حماد بن زيد عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . هذا حديث حسن غريب وقد روي عن هشام بن عروة هذا الحديث عن عوف بن الحارث عن رميثة عن ام سلمة شييا من هذا .وهذا حديث قد روي عن هشام بن عروة على روايات مختلفة . وقد روى سليمان بن بلال عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة نحو حديث حماد بن زيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۲؎۔
حدثنا عبد بن حميد، قال اخبرنا عبد الرزاق، عن عبد الله بن عمرو بن علقمة المكي، عن ابن ابي حسين، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، ان جبريل، جاء بصورتها في خرقة حرير خضراء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هذه زوجتك في الدنيا والاخرة " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن عمرو بن علقمة . وقد روى عبد الرحمن بن مهدي هذا الحديث عن عبد الله بن عمرو بن علقمة بهذا الاسناد مرسلا ولم يذكر فيه عن عايشة وقد روى ابو اسامة عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا من هذا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے“ ( جیسے جبرائیل کو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عايشة هذا جبريل وهو يقرا عليك السلام " . قالت قلت وعليه السلام ورحمة الله وبركاته ترى ما لا نرى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا: ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا سويد، قال اخبرنا عبد الله بن المبارك، قال اخبرنا زكريا، عن الشعبي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان جبريل يقرا عليك السلام " . فقلت وعليه السلام ورحمة الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا زياد بن الربيع، قال حدثنا خالد بن سلمة المخزومي، عن ابن ابي بردة، عن ابي موسى، قال ما اشكل علينا اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حديث قط فسالنا عايشة الا وجدنا عندها منه علما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، قال حدثنا معاوية بن عمرو، عن زايدة، عن عبد الملك بن عمير، عن موسى بن طلحة، قال ما رايت احدا افصح من عايشة . هذا حديث حسن صحيح غريب