احادیث
#3872
سنن ترمذی - Merits and Virtues
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ۱؎ رضی الله عنہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر ( عام ) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرنا اسراييل، عن ميسرة ابن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت ما رايت احدا اشبه سمتا ودلا وهديا برسول الله في قيامها وقعودها من فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت وكانت اذا دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم قام اليها فقبلها واجلسها في مجلسه وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل عليها قامت من مجلسها فقبلته واجلسته في مجلسها فلما مرض النبي صلى الله عليه وسلم دخلت فاطمة فاكبت عليه فقبلته ثم رفعت راسها فبكت ثم اكبت عليه ثم رفعت راسها فضحكت فقلت ان كنت لاظن ان هذه من اعقل نساينا فاذا هي من النساء فلما توفي النبي صلى الله عليه وسلم قلت لها ارايت حين اكببت على النبي صلى الله عليه وسلم فرفعت راسك فبكيت ثم اكببت عليه فرفعت راسك فضحكت ما حملك على ذلك قالت اني اذا لبذرة اخبرني انه ميت من وجعه هذا فبكيت ثم اخبرني اني اسرع اهله لحوقا به فذاك حين ضحكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عايشة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Merits and Virtues
- Hadith Index
- #3872
- Book Index
- 272
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
