Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے باپ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، ومحمد بن بشار، واللفظ، لابن يعقوب قالا حدثنا يحيى بن حماد، قال حدثنا عبد العزيز بن المختار، قال حدثنا خالد الحذاء، عن ابي عثمان النهدي، عن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمله على جيش ذات السلاسل . قال فاتيته فقلت يا رسول الله اى الناس احب اليك قال " عايشة " . قلت من الرجال قال " ابوها " . هذا حديث حسن صحيح
عمرو بن العاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن عمرو بن العاص، انه قال يا رسول الله من احب الناس اليك قال " عايشة " . قال من الرجال قال " ابوها " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث اسماعيل عن قيس
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ۳- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر الانصاري، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام " . وفي الباب عن عايشة وابي موسى . وهذا حديث حسن صحيح . وعبد الله بن عبد الرحمن بن معمر هو ابو طوالة الانصاري المدني ثقة وقد روى عنه مالك بن انس
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن غالب، ان رجلا، نال من عايشة عند عمار بن ياسر فقال اغرب مقبوحا منبوحا اتوذي حبيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن زیاد اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ رضی الله عنہا دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن عبد الله بن زياد الاسدي، قال سمعت عمار بن ياسر، يقول هي زوجته في الدنيا والاخرة . يعني عايشة رضى الله عنها . هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن علي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، عن حميد، عن انس قال قيل يا رسول الله من احب الناس اليك قال " عايشة " . قيل من الرجال قال " ابوها " . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث انس
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہو گیا، تو وہ سجدہ میں گر گئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہو سکتی ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عباس العنبري، قال حدثنا يحيى بن كثير العنبري ابو غسان، قال حدثنا سلم ابن جعفر وكان ثقة عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، قال قيل لابن عباس بعد صلاة الصبح ماتت فلانة لبعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فسجد فقيل له اتسجد هذه الساعة فقال اليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم اية فاسجدوا " . فاى اية اعظم من ذهاب ازواج النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما کی طرف سے ایک ( تکلیف دہ ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو سکتی ہو، میرے شوہر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہما نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثنا هاشم، هو ابن سعيد الكوفي قال حدثنا كنانة، قال حدثتنا صفية بنت حيى، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد بلغني عن حفصة وعايشة كلام فذكرت ذلك له فقال " الا قلت فكيف تكونان خيرا مني وزوجي محمد وابي هارون وعمي موسى " . وكان الذي بلغها انهم قالوا نحن اكرم على رسول الله صلى الله عليه وسلم منها . وقالوا نحن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم وبنات عمه . وفي الباب عن انس .هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث صفية الا من حديث هاشم الكوفي وليس اسناده بذلك القوي
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پا جائیں گے، تو ( یہ سن کر ) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ۱؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، قال حدثني موسى بن يعقوب الزمعي، عن هاشم بن هاشم، ان عبد الله بن وهب بن زمعة اخبره ان ام سلمة اخبرته ان رسول الله صلى ا��له عليه وسلم دعا فاطمة عام الفتح فناجاها فبكت ثم حدثها فضحكت قالت فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم سالتها عن بكايها وضحكها . قالت اخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم انه يموت فبكيت ثم اخبرني اني سيدة نساء اهل الجنة الا مريم بنت عمران فضحكت . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی الله عنہا کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ۱؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے ( حفصہ سے ) فرمایا: ”حفصہ! اللہ سے ڈر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، وعبد بن حميد، قالا اخبرنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس، قال بلغ صفية ان حفصة، قالت بنت يهودي . فبكت فدخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم وهي تبكي فقال " ما يبكيك " . فقالت قالت لي حفصة اني بنت يهودي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انك لابنة نبي وان عمك لنبي وانك لتحت نبي ففيم تفخر عليك " . ثم قال " اتقي الله يا حفصة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً بھی آئی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خيركم خيركم لاهله وانا خيركم لاهلي واذا مات صاحبكم فدعوه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح من حديث الثوري ما اقل من رواه عن الثوري . وروي هذا عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو“، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا محمد بن يوسف، عن اسراييل، عن الوليد، عن زيد بن زايدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبلغني احد عن احد من اصحابي شييا فاني احب ان اخرج اليهم وانا سليم الصدر " . قال عبد الله فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بمال فقسمه فانتهيت الى رجلين جالسين وهما يقولان والله ما اراد محمد بقسمته التي قسمها وجه الله ولا الدار الاخرة . فتثبت حين سمعتهما فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واخبرته فاحمر وجهه وقال " دعني عنك فقد اوذي موسى باكثر من هذا فصبر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه وقد زيد في هذا الاسناد رجل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کی کوئی بات مجھے نہ پہنچائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کا کچھ حصہ اس سند کے علاوہ سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مرفوعاً آیا ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، والحسين بن محمد، عن اسراييل، عن السدي، عن الوليد بن ابي هشام، عن زيد بن زايدة، عن عبد الله بن مسعود، رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبلغني احد عن احد شييا " . وقد روي هذا الحديث عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا من هذا من غير هذا الوجه
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سنایا، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے، نہ یہودی، نصرانی اور مجوسی عورت، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“، ۳- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال اخبرنا شعبة، عن عاصم، قال سمعت زر بن حبيش، يحدث عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " ان الله امرني ان اقرا عليك القران " . فقرا عليه : ( لم يكن الذين كفروا ) وفيها " ان ذات الدين عند الله الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية ولا المجوسية من يعمل خيرا فلن يكفره " . وقرا عليه " لو ان لابن ادم واديا من مال لابتغى اليه ثانيا ولو كان له ثانيا لابتغى اليه ثالثا ولا يملا جوف ابن ادم الا التراب ويتوب الله على من تاب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير هذا الوجه رواه عبد الله بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن ابى بن كعب رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " ان الله امرني ان اقرا عليك القران " . وقد رواه قتادة عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابى بن كعب " ان الله امرني ان اقرا عليك القران
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا“ ۱؎۔ اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر، عن زهير بن محمد، عن عبد الله ابن محمد بن عقيل، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا الهجرة لكنت امرا من الانصار " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو سلك الناس واديا او شعبا لكنت مع الانصار " . هذا حديث حسن
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: ”ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا بندار قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم او قال قال النبي صلى الله عليه وسلم في الانصار " لا يحبهم الا مومن ولا يبغضهم الا منافق من احبهم فاحبه الله ومن ابغضهم فابغضه الله " . فقلت له اانت سمعته من البراء فقال اياى حدث . هذا حديث صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فتح مکہ کے وقت ) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”قریش اپنی جاہلیت اور ( کفر کی ) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، ( اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے ) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر،قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس، رضي الله عنه قال جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسا من الانصار فقال " هلم هل فيكم احد من غيركم " . قالوا لا الا ابن اخت لنا . فقال صلى الله عليه وسلم " ان ابن اخت القوم منهم " . ثم قال " ان قريشا حديث عهدهم بجاهلية ومصيبة واني اردت ان اجبرهم واتالفهم اما ترضون ان يرجع الناس بالدنيا وترجعون برسول الله صلى الله عليه وسلم الى بيوتكم " . قالوا بلى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو سلك الناس واديا او شعبا وسلكت الانصار واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار او شعبهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے ( اس خط میں ) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا علي بن زيد بن جدعان، قال حدثنا النضر بن انس، عن زيد بن ارقم، انه كتب الى انس بن مالك يعزيه فيمن اصيب من اهله وبني عمه يوم الحرة فكتب اليه اني ابشرك ببشرى من الله اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اغفر للانصار ولذراري الانصار ولذراري ذراريهم " . هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه قتادة عن النضر بن انس، عن زيد بن ارقم،
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي البصري، قال حدثنا ابو داود، وعبد الصمد، قالا حدثنا محمد بن ثابت البناني، عن ابيه، عن انس بن مالك، عن ابي طلحة، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا قومك السلام فانهم ما علمت اعفة صبر " . هذا حديث حسن غريب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثني الفضل بن موسى، عن زكريا ابن ابي زايدة، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا ان عيبتي التي اوي اليها اهل بيتي وان كرشي الانصار فاعفوا عن مسييهم واقبلوا من محسنهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وفي الباب عن انس