Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
حدثنا احمد بن الحسن، قال حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، قال حدثنا ابراهيم ابن سعد، قال حدثني صالح بن كيسان، عن الزهري، عن محمد بن ابي سفيان، عن يوسف بن الحكم، عن محمد بن سعد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يرد هوان قريش اهانه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . حدثنا عبد بن حميد، قال اخبرني يعقوب بن ابراهيم بن سعد، قال حدثني ابي، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، بهذا الاسناد نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا بشر بن السري، والمومل، قالا حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبغض الانصار احد يومن بالله واليوم الاخر " . هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الانصار كرشي وعيبتي وان الناس سيكثرون ويقلون فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسييهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے ( قتل، قید اور ذلت کا ) عذاب چکھایا ہے ۱؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا ابو يحيى الحماني، عن الاعمش، عن طارق بن عبد الرحمن، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اذقت اول قريش نكالا فاذق اخرهم نوالا " . هذا حديث حسن صحيح غريب . حدثنا عبد الوهاب الوراق، قال حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، عن الاعمش، نحوه
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ”اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، قال حدثنا اسحاق بن منصور، عن جعفر الاحمر، عن عطاء بن السايب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم اغفر للانصار ولابناء الانصار ولابناء ابناء الانصار ولنساء الانصار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں ۱؎، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو“ اور فرمایا: ”انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ۲؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد الانصاري، انه سمع انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بخير دور الانصار او بخير الانصار " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " بنو النجار ثم الذين يلونهم بنو عبد الاشهل ثم الذين يلونهم بنو الحارث بن الخزرج ثم الذين يلونهم بنو ساعدة " . ثم قال بيده فقبض اصابعه ثم بسطهن كالرامي بيديه قال " وفي دور الانصار كلها خير " . هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا ايضا عن انس عن ابي اسيد الساعدي عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابواسید ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ۱؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے“، تو سعد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ۲؎ تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ۳- اسی جیسی روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۴- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس بن مالك، عن ابي اسيد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير دور الانصار دور بني النجار ثم دور بني عبد الاشهل ثم بني الحارث بن الخزرج ثم بني ساعدة وفي كل دور الانصار خير " . فقال سعد ما ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم الا قد فضل علينا . فقيل قد فضلكم على كثير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو اسيد الساعدي اسمه مالك بن ربيعة . وقد روي نحو هذا عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه معمر عن الزهري عن ابي سلمة وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو السايب سلم بن جنادة قال حدثنا احمد بن بشير، عن مجالد، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير ديار الانصار بنو النجار " . هذا حديث غريب من هذا الوجه
جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة قال حدثنا احمد بن بشير، عن مجالد، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الانصار بنو عبد الاشهل " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ۱؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا محلہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إن إبراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لأهل مكة بالبركة وأنا عبدك ورسولك أدعوك لأهل المدينة أن تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما باركت لأهل مكة مع البركة بركتين» ”مجھے وضو کا پانی دو“، چنانچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں ( یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ۲؎ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعد قال حدثنا الليث عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن عاصم بن عمر، عن علي بن ابي طالب، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كنا بحرة السقيا التي كانت لسعد بن ابي وقاص فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايتوني بوضوء " . فتوضا ثم قام فاستقبل القبلة ثم قال " اللهم ان ابراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لاهل مكة بالبركة وانا عبدك ورسولك ادعوك لاهل المدينة ان تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلى ما باركت لاهل مكة مع البركة بركتين " . هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عايشة وعبد الله بن زيد وابي هريرة
علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، قال حدثنا ابو نباتة، يونس بن يحيى بن نباتة قال حدثنا سلمة بن وردان، عن ابي سعيد بن ابي المعلى، عن علي بن ابي طالب، وابي هريرة قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة " . هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث علي وقد روي من غير هذا الوجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔
حدثنا محمد بن كامل المروزي، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم الزاهد، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام " .هذا حديث حسن صحيح وقد روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استطاع ان يموت بالمدينة فليمت بها فاني اشفع لمن يموت بها " . وفي الباب عن سبيعة بنت الحارث الاسلمية . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث ايوب السختياني
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت عبيد الله ابن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، رضى الله عنهما ان مولاة، له اتته فقالت اشتد على الزمان واني اريد ان اخرج الى العراق . قال فهلا الى الشام ارض المنشر اصبري لكاع فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من صبر على شدتها ولاوايها كنت له شهيدا او شفيعا يوم القيامة " . وفي الباب عن ابي سعيد وسفيان بن ابي زهير وسبيعة الاسلمية .هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث عبيد الله
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ رضی الله عنہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے ( یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے ) ۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة قال اخبرنا ابي جنادة بن سلم، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخر قرية من قرى الاسلام خرابا المدينة " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث جنادة عن هشام بن عروة . قال تعجب محمد بن اسماعيل من حديث ابي هريرة هذا
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کر دیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کر دیتا ہے پاک کو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك بن انس، وحدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان اعرابيا، بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام فاصابه وعك بالمدينة فجاء الاعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اقلني بيعتي . فابى رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج الاعرابي ثم جاءه فقال اقلني بيعتي . فابى فخرج الاعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها " . وفي الباب عن ابي هريرة .هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، انه كان يقول لو رايت الظباء ترتع بالمدينة ما ذعرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما بين لابتيها حرام " . وفي الباب عن سعد وعبد الله بن زيد وانس وابي ايوب وزيد بن ثابت ورافع بن خديج وسهل بن حنيف وجابر . حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس ( مدینہ ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، وحدثنا الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن عمرو بن ابي عمرو، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلع له احد فقال " هذا جبل يحبنا ونحبه اللهم ان ابراهيم حرم مكة واني احرم ما بين لابتيها " . هذا حديث حسن صحيح
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن عيسى بن عبيد، عن غيلان بن عبد الله العامري، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله اوحى الى اى هولاء الثلاثة نزلت فهي دار هجرتك المدينة او البحرين او قنسرين " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الفضل بن موسى تفرد به ابو عامر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا الفضل بن موسى، قال حدثنا هشام بن عروة، عن صالح بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يصبر على لاواء المدينة وشدتها احد الا كنت له شفيعا او شهيدا يوم القيامة " . وفي الباب عن ابي سعيد وسفيان بن ابي زهير وسبيعة الاسلمية . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وصالح بن ابي صالح اخو سهيل بن ابي صالح