Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حزوراء» ( چھوٹا ٹیلہ ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق: «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق: «أبي سلمة عن عبد الله بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عدي بن حمراء الزهري، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا على الحزورة فقال " والله انك لخير ارض الله واحب ارض الله الى الله ولولا اني اخرجت منك ما خرجت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وقد رواه يونس عن الزهري نحوه . ورواه محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث الزهري عن ابي سلمة عن عبد الله بن عدي بن حمراء عندي اصح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، قال حدثنا الفضيل بن سليمان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، قال حدثنا سعيد بن جبير، وابو الطفيل، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمكة " ما اطيبك من بلد واحبك الى ولولا ان قومي اخرجوني منك ما سكنت غيرك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: ”تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي، واحمد بن منيع، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو بدر، شجاع ابن الوليد عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن سلمان، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا سلمان لا تبغضني فتفارق دينك " . قلت يا رسول الله كيف ابغضك وبك هدانا الله قال " تبغض العرب فتبغضني " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابي بدر شجاع بن الوليد . وسمعت محمد بن اسماعيل يقول ابو ظبيان لم يدرك سلمان مات سلمان قبل علي
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا محمد بن بشر العبدي، قال حدثنا عبد الله بن عبد الله بن الاسود، عن حصين بن عمر الاحمسي، عن مخارق بن عبد الله، عن طارق بن شهاب، عن عثمان ابن عفان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غش العرب لم يدخل في شفاعتي ولم تنله مودتي " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حصين بن عمر الاحمسي عن مخارق . وليس حصين عند اهل الحديث بذاك القوي
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا محمد بن ابي رزين، عن امه، قالت كانت ام الحرير اذا مات احد من العرب اشتد عليها فقيل لها انا نراك اذا مات رجل من العرب اشتد عليك . قالت سمعت مولاى يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقتراب الساعة هلاك العرب " . قال محمد بن ابي رزين ومولاها طلحة بن مالك . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث سليمان بن حرب
ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے“، ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ( تعداد میں ) تھوڑے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي، قال حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول حدثتني ام شريك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليفرن الناس من الدجال حتى يلحقوا بالجبال " . قالت ام شريك يا رسول الله فاين العرب يوميذ قال " هم قليل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور «یافث»، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي، - بصري - قال حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سام ابو العرب ويافث ابو الروم وحام ابو الحبش " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ويقال يافث ويافت ويفت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔
اخبرنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، قال حدثنا صالح بن ابي صالح، مولى عمرو بن حريث قال سمعت ابا هريرة، يقول ذكرت الاعاجم عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لانا بهم او ببعضهم اوثق مني بكم او ببعضكم " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابي بكر بن عياش . وصالح بن ابي صالح هذا يقال له صالح بن مهران مولى عمرو بن حريث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت سورۃ الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا عبد الله بن جعفر، قال حدثني ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزلت سورة الجمعة فتلاها فلما بلغ : ( واخرين منهم لما يلحقوا بهم ) قال له رجل يا رسول الله من هولاء الذين لم يلحقوا بنا فلم يكلمه . قال وسلمان الفارسي فينا . قال فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على سلمان فقال " والذي نفسي بيده لو كان الايمان بالثريا لتناوله رجال من هولاء " . هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو الغيث اسمه سالم مولى عبد الله بن مطيع مدني
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد القطواني، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو داود الطيالسي، قال حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن انس، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم نظر قبل اليمن فقال " اللهم اقبل بقلوبهم وبارك لنا في صاعنا ومدنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه من حديث زيد بن ثابت الا من حديث عمران القطان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاكم اهل اليمن هم اضعف قلوبا وارق افيدة الايمان يمان والحكمة يمانية " . وفي الباب عن ابن عباس وابي مسعود . هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلطنت ( حکومت ) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں“۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا زيد بن حباب، قال حدثنا معاوية بن صالح، قال حدثنا ابو مريم الانصاري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الملك في قريش والقضاء في الانصار والاذان في الحبشة والامانة في الازد " . يعني اليمن . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ابي مريم الانصاري، عن ابي هريرة، نحوه ولم يرفعه . وهذا اصح من حديث زيد بن حباب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ازد» ( اہل یمن ) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد العطار، قال حدثني عمي، صالح بن عبد الكبير بن شعيب بن الحبحاب قال حدثني عمي عبد السلام بن شعيب، عن ابيه، عن انس، رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الازد اسد الله في الارض يريد الناس ان يضعوهم ويابى الله الا ان يرفعهم ولياتين على الناس زمان يقول الرجل يا ليت ابي كان ازديا يا ليت امي كانت ازدية " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وروي هذا الحديث عن انس بهذا الاسناد موقوفا وهو عندنا اصح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی ( یعنی قبیلہ ازد کے ) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد العطار البصري، حدثنا محمد بن كثير العبدي البصري، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثني غيلان بن جرير، قال سمعت انس بن مالك، يقول ان لم نكن من الازد فلسنا من الناس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا ( میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا ) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور فرمایا: ”اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن زنجويه، - بغدادي - قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرني ابي، عن ميناء، مولى عبد الرحمن بن عوف قال سمعت ابا هريرة، يقول كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاء رجل احسبه من قيس فقال يا رسول الله العن حميرا . فاعرض عنه ثم جاءه من الشق الاخر فاعرض عنه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " رحم الله حميرا افواههم سلام وايديهم طعام وهم اهل امن وايمان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث عبد الرزاق . ويروى عن ميناء هذا احاديث مناكير
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال حدثنا ابو مالك الاشجعي، عن موسى بن طلحة، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الانصار ومزينة وجهينة وغفار واشجع ومن كان من بني عبد الدار موالي ليس لهم مولى دون الله والله ورسوله مولاهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها وعصية عصت الله ورسوله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کر دیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا: «اللهم اهد ثقيفا» ”اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو سلمة يحيى بن خلف قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قالوا يا رسول الله اخرقتنا نبال ثقيف فادع الله عليهم . قال " اللهم اهد ثقيفا " . هذا حديث حسن صحيح غريب
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي، قال حدثنا عبد القاهر بن شعيب، قال حدثنا هشام، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال مات النبي صلى الله عليه وسلم وهو يكره ثلاثة احياء ثقيفا وبني حنيفة وبني امية . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہو گا“ ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا الفضل بن موسى، عن شريك، عن عبد الله بن عصم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في ثقيف كذاب ومبير " . حدثنا عبد الرحمن بن واقد ابو مسلم، قال حدثنا شريك، بهذا الاسناد نحوه . وعبد الله بن عصم يكنى ابا علوان وهو كوفي . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث شريك . وشريك يقول عبد الله بن عصم واسراييل يروي عن هذا الشيخ ويقول عبد الله بن عصمة . وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر