Loading...

Loading...
کتب
۳۵۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال اخبرني ايوب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان اعرابيا، اهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم بكرة فعوضه منها ست بكرات فتسخطها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان فلانا اهدى الى ناقة فعوضته منها ست بكرات فظل ساخطا ولقد هممت ان لا اقبل هدية الا من قرشي او انصاري او ثقفي او دوسي " . وفي الحديث كلام اكثر من هذا . هذا حديث قد روي من غير وجه عن ابي هريرة ويزيد بن هارون يروي عن ايوب ابي العلاء وهو ايوب بن مسكين ويقال ابن ابي مسكين ولعل هذا الحديث الذي روي عن ايوب عن سعيد المقبري هو ايوب ابو العلاء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا احمد بن خالد الحمصي، قال حدثنا محمد ابن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال اهدى رجل من بني فزارة الى النبي صلى الله عليه وسلم ناقة من ابله التي كانوا اصابوا بالغابة فعوضه منها بعض العوض فتسخطه فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على هذا المنبر يقول " ان رجالا من العرب يهدي احدهم الهدية فاعوضه منها بقدر ما عندي ثم يتسخطه فيظل يتسخط فيه على وايم الله لا اقبل بعد مقامي هذا من رجل من العرب هدية الا من قرشي او انصاري او ثقفي او دوسي " . هذا حديث حسن وهو اصح من حديث يزيد بن هارون عن ايوب
ابوعامر اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے ہیں قبیلہ اسد اور قبیلہ اشعر کے لوگ، جو لڑائی سے بھاگتے نہیں اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے اسے معاویہ رضی الله عنہ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ ”وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف ہیں“، تو میں نے عرض کیا: میرے باپ نے مجھ سے اس طرح نہیں بیان کیا، بلکہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: تو تم اپنے باپ کی حدیثوں کے زیادہ جانکار ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف وہب بن جریر کی روایت سے جانتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اسد قبیلہ اسد ہی کے لوگ ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، وغير، واحد، قالوا حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت عبد الله بن ملاذ، يحدث عن نمير بن اوس، عن مالك بن مسروح، عن عامر بن ابي عامر الاشعري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الحى الاسد والاشعرون لا يفرون في القتال ولا يغلون هم مني وانا منهم " . قال فحدثت بذلك معاوية فقال ليس هكذا قال رسول الله قال " هم مني والى " . فقلت ليس هكذا حدثني ابي ولكنه حدثني قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " هم مني وانا منهم " . قال فانت اعلم بحديث ابيك . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث وهب بن جرير . ويقال الاسد هم الازد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور بنی غفار کو اللہ کو بخشے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر، ابوبرزہ اسلمی اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے ہی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي ذر وابي برزة الاسلمي وبريدة وابي هريرة
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا مومل، قال حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، نحو حديث شعبة وزاد فيه " وعصية عصت الله ورسوله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! غفار، اسلم، مزنیہ اور جو جہنیہ کے لوگ“ یا آپ نے فرمایا: ”جہنیہ اور جو مزنیہ کے لوگ ہیں اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اسد، طی اور غطفان سے بہتر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفس محمد بيده لغفار واسلم ومزينة ومن كان من جهينة او قال جهينة ومن كان من مزينة خير عند الله يوم القيامة من اسد وطيء وغطفان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تمیم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنی تمیم! خوش ہو جاؤ“، وہ لوگ کہنے لگے: آپ نے ہمیں بشارت دی ہے، تو ( کچھ ) دیجئیے، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، اتنے میں یمن کے کچھ لوگ آ گئے تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں لوگ بشارت قبول کر لو“، جب بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے قبول کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن جامع بن شداد، عن صفوان بن محرز، عن عمران بن حصين، قال جاء نفر من بني تميم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ابشروا يا بني تميم " . قالوا بشرتنا فاعطنا . قال فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم وجاء نفر من اهل اليمن فقال " اقبلوا البشرى فلم يقبلها بنو تميم " . قالوا قد قبلنا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبائل اسلم، غفار اور مزینہ، قبائل تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں“، اور آپ اس کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر رہے تھے، تو لوگ کہنے لگے: نامراد ہوئے اور خسارے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”وہ ان ( قبائل یعنی تمیم، اسد، غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ ) سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد، قال حدثنا سفيان، عن عبد الملك ابن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اسلم وغفار ومزينة خير من تميم واسد وغطفان وبني عامر بن صعصعة " . يمد بها صوته فقال القوم قد خابوا وخسروا . قال " فهم خير منهم " . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما“، لوگوں نے عرض کیا: اور ہمارے نجد میں، آپ نے فرمایا: ”یہاں زلزلے اور فتنے ہیں، اور اسی سے شیطان کی سینگ نکلے گی“، ( یعنی شیطان کا لشکر اور اس کے مددگار نکلیں گے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ابن عون کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث بطریق: «سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی آئی ہے۔
حدثنا بشر بن ادم ابن بنت ازهر السمان، قال حدثني جدي، ازهر السمان عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا " . قالوا وفي نجدنا . فقال " اللهم بارك لنا في شامنا وبارك لنا في يمننا " . قالوا وفي نجدنا . قال " هنالك الزلازل والفتن وبها او قال منها يخرج قرن الشيطان " . هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث ابن عون . وقد روي هذا الحديث ايضا عن سالم بن عبد الله بن عمر عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کاغذ کے پرزوں سے قرآن کو مرتب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”مبارکبادی ہو شام کے لیے“، ہم نے عرض کیا: کس چیز کی اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اس بات کی کہ رحمن کے فرشتے ان کے لیے اپنے بازو بچھاتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن ایوب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت يحيى بن ايوب، يحدث عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الرحمن بن شماسة، عن زيد بن ثابت، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم نولف القران من الرقاع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طوبى للشام " . فقلنا لاى ذلك يا رسول الله قال " لان ملايكة الرحمن باسطة اجنحتها عليها " . هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث يحيى بن ايوب
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا هشام بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لينتهين اقوام يفتخرون بابايهم الذين ماتوا انما هم فحم جهنم او ليكونن اهون على الله من الجعل الذي يدهده الخراء بانفه ان الله قد اذهب عنكم عبية الجاهلية انما هو مومن تقي وفاجر شقي الناس كلهم بنو ادم وادم خلق من تراب " . وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس .وهذا حديث حسن غريب
حدثنا هارون بن موسى بن ابي علقمة الفروي المدني، قال حدثني ابي، عن هشام بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قد اذهب الله عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالاباء مومن تقي وفاجر شقي والناس بنو ادم وادم من تراب " . هذا حديث حسن صحيح . وهذا اصح عندنا من الحديث الاول . وسعيد المقبري قد سمع من ابي هريرة ويروي عن ابيه اشياء كثيرة عن ابي هريرة رضى الله عنه . وقد روى سفيان الثوري وغير واحد هذا الحديث عن هشام ابن سعد عن سعيد المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ابي عامر عن هشام بن سعد