احادیث
#3901
سنن ترمذی - Merits and Virtues
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فتح مکہ کے وقت ) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”قریش اپنی جاہلیت اور ( کفر کی ) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، ( اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے ) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر،قال حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس، رضي الله عنه قال جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسا من الانصار فقال " هلم هل فيكم احد من غيركم " . قالوا لا الا ابن اخت لنا . فقال صلى الله عليه وسلم " ان ابن اخت القوم منهم " . ثم قال " ان قريشا حديث عهدهم بجاهلية ومصيبة واني اردت ان اجبرهم واتالفهم اما ترضون ان يرجع الناس بالدنيا وترجعون برسول الله صلى الله عليه وسلم الى بيوتكم " . قالوا بلى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو سلك الناس واديا او شعبا وسلكت الانصار واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار او شعبهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Merits and Virtues
- Hadith Index
- #3901
- Book Index
- 301
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
