Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے ( سبحان اللہ کہے ) دس بار حمد بیان کرے ( الحمدللہ کہے ) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے ( اللہ اکبر کہے ) ۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ۱؎ ہوئے لیکن یہ ( دس گنا بڑھ کر ) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہو جائیں گے۔ ( یہ ایک خصلت و عادت ہوئی ) اور ( دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، ( اب بتاؤ ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اس وجہ سے ) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کر سکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے ( تھپکیاں دیدے کر ) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( بغیر تسبیحات پڑھے ) سو جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے، ۳- اس باب میں زید بن ثابت، انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلتان لا يحصيهما رجل مسلم الا دخل الجنة الا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا " . قال فانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده قال " فتلك خمسون وماية باللسان والف وخمسماية في الميزان واذا اخذت مضجعك تسبحه وتكبره وتحمده ماية فتلك ماية باللسان والف في الميزان فايكم يعمل في اليوم والليلة الفين وخمسماية سيية " . قالوا وكيف لا يحصيها قال " ياتي احدكم الشيطان وهو في صلاته فيقول اذكر كذا اذكر كذا . حتى ينفتل فلعله ان لا يفعل وياتيه وهو في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة والثوري عن عطاء بن السايب هذا الحديث . وروى الاعمش هذا الحديث عن عطاء بن السايب مختصرا . وفي الباب عن زيد بن ثابت وانس وابن عباس رضى الله عنهم
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح ( سبحان اللہ ) انگلیوں پر گنتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عثام بن علي، عن الاعمش، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقد التسبيح . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث الاعمش
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ چیزیں نماز کے پیچھے ( بعد میں ) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے، ۳۳ بار الحمدللہ کہے، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة الاحمسي الكوفي، حدثنا اسباط بن محمد، حدثنا عمرو بن قيس الملايي، عن الحكم بن عتيبة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " معقبات لا يخيب قايلهن يسبح الله في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين ويحمده ثلاثا وثلاثين ويكبره اربعا وثلاثين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وعمرو بن قيس الملايي ثقة حافظ . وروى شعبة هذا الحديث عن الحكم ولم يرفعه . ورواه منصور بن المعتمر عن الحكم ورفعه
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم ( سلام پھیر کر ) ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہیں، راوی ( زید ) کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے خواب دیکھا، خواب میں نظر آنے والے شخص ( فرشتہ ) نے پوچھا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳ بار الحمدللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو؟ اس نے کہا: ہاں، ( تو سائل ( فرشتے ) نے کہا: ( ۳۳، ۳۳ اور ۳۴ کے بجائے ) ۲۵ کر لو، اور «لا إلہ إلا اللہ» کو بھی انہیں کے ساتھ شامل کر لو، ( اس طرح کل سو ہو جائیں گے ) صبح جب ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”ایسا ہی کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن كثير بن افلح، عن زيد بن ثابت، رضى الله عنه قال امرنا ان نسبح دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين ونحمده ثلاثا وثلاثين ونكبره اربعا وثلاثين . قال فراى رجل من الانصار في المنام فقال امركم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تسبحوا في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتحمدوا الله ثلاثا وثلاثين وتكبروا اربعا وثلاثين قال نعم . قال فاجعلوا خمسا وعشرين واجعلوا التهليل معهن فغدا على النبي صلى الله عليه وسلم فحدثه فقال " افعلوا " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے جاگے پھر کہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» ۱؎، پھر کہے «رب اغفر لي» ”اے میرے رب ہمیں بخش دے“، یا آپ نے کہا: پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر اس نے ہمت کی اور وضو کیا پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني عمير بن هاني، قال حدثني جنادة بن ابي امية، حدثني عبادة بن الصامت، رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من تعار من الليل فقال لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وسبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله ثم قال رب اغفر لي او قال ثم دعا استجيب له فان عزم فتوضا ثم صلى قبلت صلاته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار ( یعنی ایک لاکھ ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔
حدثنا علي بن حجر حدثنا مسلمة بن عمرو قال كان عمير بن هاني يصلي كل يوم الف سجدة ويسبح ماية الف تسبيحة
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس سوتا تھا، اور آپ کو وضو کا پانی دیا کرتا تھا، میں آپ کو «سمع الله لمن حمده» کہتے ہوئے سنتا تھا، نیز میں آپ کو «الحمد لله رب العالمين» پڑھتے ہوئے سنتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا النضر بن شميل، ووهب بن جرير، وابو عامر العقدي وعبد الصمد بن عبد الوارث قالوا حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، حدثني ربيعة بن كعب الاسلمي، قال كنت ابيت عند باب النبي صلى الله عليه وسلم فاعطيه وضوءه فاسمعه الهوي من الليل يقول " سمع الله لمن حمده " . واسمعه الهوي من الليل يقول " الحمد لله رب العالمين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا» ۱؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عمر بن اسماعيل بن مجالد بن سعيد، حدثنا ابي، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي، عن حذيفة بن اليمان، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينام قال " اللهم باسمك اموت واحيا " . واذا استيقظ قال " الحمد لله الذي احيا نفسي بعد ما اماتها واليه النشور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن أنت الحق ووعدك الحق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، ( اور آسمان و زمین کے درمیان روشنی پیدا کرنے والا ) تیرے ہی لیے سب تعریف ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم کرنے والا ہے، تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، تو حق ہے تیرا وعدہ حق ( سچا ) ہے تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیرے ہی خاطر میں لڑا اور تیرے ہی پاس فیصلہ کے لیے گیا۔ اے اللہ! میں پہلے جو کچھ کر چکا ہوں اور جو کچھ بعد میں کروں گا اور جو پوشیدہ کروں اور جو کھلے عام کروں میرے سارے گناہ اور لغزشیں معاف کر دے، تو ہی میرا معبود ہے، اور تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن عبد الله بن عباس، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام الى الصلاة من جوف الليل يقول " اللهم لك الحمد انت نور السموات والارض ولك الحمد انت قيام السموات والارض ولك الحمد انت رب السموات والارض ومن فيهن انت الحق ووعدك الحق ولقاوك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق اللهم لك اسلمت وبك امنت وعليك توكلت واليك انبت وبك خاصمت واليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت الهي لا اله الا انت " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز ( تہجد ) سے فارغ ہو کر پڑھتے ہوئے سنا ( آپ پڑھ رہے تھے ) : «اللهم إني أسألك رحمة من عندك تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي وترفع بها شاهدي وتزكي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها ألفتي وتعصمني بها من كل سوء اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده كفر ورحمة أنال بها شرف كرامتك في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك الفوز في العطاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الأعداء اللهم إني أنزل بك حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتك فأسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور كما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقك أو خير أنت معطيه أحدا من عبادك فإني أرغب إليك فيه وأسألكه برحمتك رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد أسألك الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الركع السجو د الموفين بالعهود إنك رحيم ودود وأنت تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبك من أحبك ونعادي بعداوتك من خالفك اللهم هذا الدعا وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التكلان اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري ونورا من بين يدي ونورا من خلفي ونورا عن يميني ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف العز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتكرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والكرم سبحان ذي الجلال والإكرام» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ اور سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے کریب سے، اور کریب نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے، انہوں نے یہ پوری لمبی حدیث ذکر نہیں کی ہے۔ فائدہ ۱؎: ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسی رحمت کا طالب ہوں، جس کے ذریعہ تو میرے دل کو ہدایت عطا کر دے، اور جس کے ذریعہ میرے معاملے کو مجتمع و مستحکم کر دے، میرے پراگندہ امور کر درست فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے باطن کی اصلاح فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے ظاہر کو بلند کر دے، اور اس کے ذریعہ میرے عمل کو صاف ستھرا بنا دے، اس کے ذریعہ سیدھی راہ کی طرف میری رہنمائی فرما، اس کے ذریعہ ہماری باہمی الفت و چاہت کو لوٹا دے، اور اس کے ذریعہ ہر برائی سے مجھے بچا لے، اے اللہ! تو ہمیں ایسا ایمان و یقین دے کہ پھر اس کے بعد کفر کی طرف جانا نہ ہو، اے اللہ! تو ہمیں ایسی رحمت عطا کر جس کے ذریعہ میں دنیا و آخرت میں تیری کرامت کا شرف حاصل کر سکوں، اے اللہ! میں تجھ سے «عطاء» ( بخشش ) اور «قضاء» ( فیصلے ) میں کامیابی مانگتا ہوں، میں تجھ سے شہدا کی سی مہمان نوازی، نیک بختوں کی سی خوش گوار زندگی اور دشمنوں کے خلاف تیری مدد کا خواستگار ہوں، اور میں اگرچہ کم سمجھ اور کمزور عمل کا آدمی ہوں مگر میں اپنی ضروریات کو لے کر تیرے ہی پاس پہنچتا ہوں، میں تیری رحمت کا محتاج ہوں، اے معاملات کے نمٹانے و فیصلہ کرنے والے! اے سینوں کی بیماریوں سے شفاء دینے والے تو مجھے بچا لے جہنم کی آگ سے، تباہی و بربادی کی پکار ( نوحہ و ماتم ) سے، اور قبروں کے فتنوں عذاب اور منکر نکیر کے سوالات سے اسی طرح بچا لے جس طرح کہ تو سمندروں میں ( گھرے اور طوفانوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو ) بچاتا ہے، اے اللہ! جس چیز تک پہنچنے سے میری رائے عقل قاصر رہی، جس چیز تک میری نیت و ارادے کی بھی رسائی نہ ہو سکی، جس بھلائی کا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی سے وعدہ کیا اور میں اسے تجھ سے مانگ نہ سکا، یا جو بھلائی تو از خود اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دینے والا ہے میں بھی اسے تجھ سے مانگنے اور پانے کی خواہش اور آرزو کرتا ہوں، اور اے رب العالمین! سارے جہاں کے پالنہار، تیری رحمت کے سہارے تجھ سے اس چیز کا سوالی ہوں، اے اللہ بڑی قوت والے اور اچھے کاموں والے، میں تجھ سے وعید کے دن یعنی قیامت کے دن امن و چین چاہتا ہوں، میں تجھ سے ہمیشہ کے لیے تیرے مقرب بندوں، تیرے کلمہ گو بندوں، تیرے آگے جھکنے والے بندوں، تیرے سامنے سجدہ ریز ہونے والے بندوں، تیرے وعدہ و اقرار کے پابند بندوں کے ساتھ جنت میں جانے کی دعا مانگتا ہوں، ( اے رب! ) تو رحیم ہے ( بندوں پر رحم کرنے والا ) تو ودود ہے ( اپنے بندوں سے محبت فرمانے والا ) تو ( بااختیار ہے ) جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہمیں ہدایت دینے والا بنا مگر ایسا جو خود بھی ہدایت یافتہ ہو جو نہ خود گمراہ ہو، نہ دوسروں کو گمراہ بنانے والا ہو، تیرے دوستوں کے لیے صلح جو ہو، اور تیرے دشمنوں کے لیے دشمن، جو شخص تجھ سے محبت رکھتا ہو ہم اس شخص سے تجھ سے محبت رکھنے کے سبب محبت رکھیں، اور جو شخص تیرے خلاف کرے ہم اس شخص سے تجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب دشمنی رکھیں، اے اللہ یہ ہماری دعا و درخواست ہے، اور اس دعا کو قبول کرنا بس تیرے ہی ہاتھ میں ہے، یہ ہماری کوشش ہے اور بھروسہ بس تیری ہی ذات پر ہے، اے اللہ! تو میری قبر میں نور ( روشنی ) کر دے، اے اللہ! تو میرے قلب میں نور بھر دے، اے اللہ! تو میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، نور میرے داہنے بھی نور میرے بائیں بھی، نور میرے اوپر بھی اور نور میرے نیچے بھی، نور میرے کانوں میں بھی نور میری آنکھوں میں بھی، نور میرے بالوں میں بھی نور میری کھال میں بھی نور، میرے گوشت میں بھی، نور میرے خون میں بھی اور نور میں اضافہ فرما دے، میرے لیے نور بنا دے، پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کو اپنا اوڑھنا بنایا، اور عزت ہی کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا، پاک ہے وہ ذات جس نے مجد و شرف کو اپنا لباس بنایا اور جس کے سبب سے وہ مکرم و مشرف ہوا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی اور کے لیے تسبیح سزاوار نہیں، پاک ہے فضل اور نعمتوں والا، پاک ہے مجد و کرم والا، پاک ہے عظمت و بزرگی والا“۔
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! جس چیز میں بھی اختلاف ہوا ہے اس میں حق کو اپنانے، حق کو قبول کرنے کی اپنے اذن و حکم سے مجھے ہدایت فرما، ( توفیق دے ) کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وغير، واحد، قالوا اخبرنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثنا ابو سلمة، قال سالت عايشة رضى الله عنها باى شيء كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح صلاته اذا قام من الليل قالت كان اذا قام من الليل افتتح صلاته فقال " اللهم رب جبريل وميكاييل واسرافيل فاطر السموات والارض وعالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق باذنك انك تهدي من تشاء الى صراط مستقيم " . قال هذا حديث حسن غريب
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں کھڑے ہوتے تو پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها إنه لا يصرف عني سيئها إلا أنت آمنت بك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي» پھر آپ جب سر اٹھاتے تو کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرضين وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد»، پھر جب آپ سجدہ فرماتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين» پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان جو دعا پڑھتے تھے، وہ دعا یہ تھی: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يوسف بن الماجشون، حدثني ابي، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام الى الصلاة قال " وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم انت الملك لا اله الا انت انت ربي وانا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا انه لا يغفر الذنوب الا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت واصرف عني سييها انه لا يصرف عني سييها الا انت امنت بك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب اليك " . فاذا ركع قال " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظامي وعصبي " . فاذا رفع راسه قال " اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والارضين وملء ما بينهما وملء ما شيت من شيء بعد " . فاذا سجد قال " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله احسن الخالقين " . ثم يكون اخر ما يقول بين التشهد والسلام " اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما انت اعلم به مني انت المقدم وانت الموخر لا اله الا انت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ( تکبیر تحریمہ کے بعد ) کہتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك»، پھر جب آپ رکوع کرتے تو پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري وعظامي وعصبي»، پھر جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کہتے: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء»، پھر جب سجدہ میں جاتے تو کہتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله أحسن الخالقين»، پھر آپ سب سے آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، ويوسف بن الماجشون، قال عبد العزيز حدثني عمي، وقال، يوسف اخبرني ابي، حدثني الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قام الى الصلاة قال " وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم انت الملك لا اله الا انت انت ربي وانا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا انه لا يغفر الذنوب الا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت واصرف عني سييها لا يصرف عني سييها الا انت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس اليك انا بك واليك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب اليك " . فاذا ركع قال " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت خشع لك سمعي وبصري وعظامي وعصبي " . فاذا رفع قال " اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء وملء الارض وملء ما بينهما وملء ما شيت من شيء بعد " . فاذا سجد قال " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت سجد وجهي للذي خلقه فصوره وشق سمعه وبصره فتبارك الله احسن الخالقين " . ثم يقول من اخر ما يقول بين التشهد والتسليم " اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم به مني انت المقدم وانت الموخر لا اله الا انت " . قال هذا حديث حسن صحيح
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کر لیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے ۱؎، بیٹھے ہونے کی حالت میں اپنی نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہ کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر ( اللہ اکبر ) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر ( تحریمہ ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرك وأتوب إليك» ( یہ دعا پڑھنے کے بعد ) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع الله لمن حمده»، «سمع الله لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو ( سلام پھیرنے سے پہلے ) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ۳- امام احمد بن حنبل ایسا خیال نہیں رکھتے، ۴- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں ۲؎ ۳- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا سليمان بن داود الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان اذا قام الى الصلاة المكتوبة رفع يديه حذو منكبيه ويصنع ذلك ايضا اذا قضى قراءته واراد ان يركع ويصنعها اذا رفع راسه من الركوع ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد واذا قام من سجدتين رفع يديه كذلك فكبر ويقول حين يفتتح الصلاة بعد التكبير " وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم انت الملك لا اله الا انت سبحانك انت ربي وانا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا انه لا يغفر الذنوب الا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها الا انت واصرف عني سييها لا يصرف عني سييها الا انت لبيك وسعديك وانا بك واليك ولا منجا منك ولا ملجا الا اليك استغفرك واتوب اليك " . ثم يقرا فاذا ركع كان كلامه في ركوعه ان يقول " اللهم لك ركعت وبك امنت ولك اسلمت وانت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين " . فاذا رفع راسه من الركوع قال " سمع الله لمن حمده " . ثم يتبعها " اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والارض وملء ما شيت من شيء بعد " . واذا سجد قال في سجوده " اللهم لك سجدت وبك امنت ولك اسلمت وانت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين " . ويقول عند انصرافه من الصلاة " اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت الهي لا اله الا انت " . قال هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند الشافعي وبعض اصحابنا . قال ابو عيسى واحمد لا يراه وقال بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم يقول هذا في صلاة التطوع ولا يقوله في المكتوبة . سمعت ابا اسماعيل الترمذي محمد بن اسماعيل بن يوسف يقول سمعت سليمان بن داود الهاشمي يقول وذكر هذا الحديث فقال هذا عندنا مثل حديث الزهري عن سالم عن ابيه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے ( گناہوں کا ) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس ( میرے لیے آخرت کا ) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا“۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھ سے تمہارے ( یعنی حسن بن عبیداللہ کے ) دادا ( عبیداللہ ) نے کہا کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) سجدہ کی ایک آیت پڑھی، پھر سجدہ کیا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے آپ کو ( سجدہ میں ) پڑھتے ہوئے سنا آپ وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو ( خواب والے ) آدمی نے آپ کو درخت کی دعا سنائی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس، حدثنا الحسن بن محمد بن عبيد الله بن ابي يزيد، قال قال لي ابن جريج اخبرني عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله رايتني الليلة وانا نايم كاني اصلي خلف شجرة فسجدت الشجرة لسجودي وسمعتها وهي تقول اللهم اكتب لي بها عندك اجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود . قال ابن جريج قال لي جدك قال ابن عباس فقرا النبي صلى الله عليه وسلم سجدة ثم سجد . قال ابن عباس فسمعته وهو يقول مثل ما اخبر الرجل عن قول الشجرة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وفي الباب عن ابي سعيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سجدہ تلاوت میں پڑھتے تھے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» ”میرا چہرہ اس کے آگے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے اپنی قدرت و قوت سے پیدا کیا، جس نے اسے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي العالية، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في سجود القران بالليل " سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گھر سے نکلتے وقت: «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» ”میں نے اللہ کے نام سے شروع کیا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہوں سے بچنے اور کسی نیکی کے بجا لانے کی قدرت و قوت نہیں ہے سوائے سہارے اللہ کے“ کہے، اس سے کہا جائے گا: تمہاری کفایت کر دی گئی، اور تم ( دشمن کے شر سے ) بچا لیے گئے، اور شیطان تم سے دور ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا ابي، حدثنا ابن جريج، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال - يعني اذا خرج من بيته - بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة الا بالله . يقال له كفيت ووقيت . وتنحى عنه الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «بسم الله توكلت على الله اللهم إنا نعوذ بك من أن نزل أو نضل أو نظلم أو نظلم أو نجهل أو يجهل علينا» ۱؎ ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، بھروسہ کرتا ہوں اللہ پر، اے اللہ تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ حق و صواب سے کہیں پھر نہ جاؤں، یا راہ حق سے بھٹکا نہ دیا جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں کسی کے ساتھ جاہلانہ برتاؤ کروں یا کوئی میرے ساتھ جاہلانہ انداز سے پیش آئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن منصور، عن عامر الشعبي، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج من بيته قال " بسم الله توكلت على الله اللهم انا نعوذ بك من ان نزل او نضل او نظلم او نظلم او نجهل او يجهل علينا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» ”نہیں کوئی معبود برحق ہے مگر اللہ اکیلا، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کے لیے ملک ( بادشاہت ) ہے اور اسی کے لیے حمد و ثناء ہے وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں، اسی کے ہاتھ میں ساری بھلائیاں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند فرماتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن دینار زبیر رضی الله عنہ کے گھر والوں کے آمد و خرچ کے منتظم تھے، انہوں نے یہ حدیث سالم بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ازهر بن سنان، حدثنا محمد بن واسع، قال قدمت مكة فلقيني اخي سالم بن عبد الله بن عمر فحدثني عن ابيه عن جده ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من دخل السوق فقال لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حى لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له الف الف حسنة ومحا عنه الف الف سيية ورفع له الف الف درجة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد رواه عمرو بن دينار - وهو قهرمان ال الزبير عن سالم بن عبد الله، هذا الحديث نحوه
عمرو بن دینار زبیر رضی الله عنہ کے گھر کے منتظم کار، سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے، اور وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا عمر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بازار جاتے ہوئے یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير» ۱؎ تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا اور دس لاکھ اس کے گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے لیے ایک گھر بنائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ عمرو بن دینار بصریٰ شیخ ہیں، اور بعض اصحاب حدیث نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے ۲- یحییٰ بن سلیم طائفی نے یہ حدیث عمران بن مسلم سے، عمران نے عبداللہ بن دینار سے، اور عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اس میں انہوں نے عمر رضی الله عنہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا بذلك، احمد بن عبدة الضبي حدثنا حماد بن زيد، والمعتمر بن سليمان، قالا حدثنا عمرو بن دينار، وهو قهرمان ال الزبير عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال في السوق لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حى لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير كتب الله له الف الف حسنة ومحا عنه الف الف سيية وبنى له بيتا في الجنة " . قال ابو عيسى وعمرو بن دينار هذا هو شيخ بصري وقد تكلم فيه بعض اصحاب الحديث وقد روى عن سالم بن عبد الله بن عمر احاديث لا يتابع عليها وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه . ورواه يحيى بن سليم الطايفي عن عمران بن مسلم عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه عن عمر رضى الله عنه
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن عمران بن ابي ليلى، حدثني ابي، حدثني ابن ابي ليلى، عن داود بن علي، هو ابن عبد الله بن عباس عن ابيه، عن جده ابن عباس، قال سمعت نبي الله صلى الله عليه وسلم يقول ليلة حين فرغ من صلاته " اللهم اني اسالك رحمة من عندك تهدي بها قلبي وتجمع بها امري وتلم بها شعثي وتصلح بها غايبي وترفع بها شاهدي وتزكي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها الفتي وتعصمني بها من كل سوء اللهم اعطني ايمانا ويقينا ليس بعده كفر ورحمة انال بها شرف كرامتك في الدنيا والاخرة اللهم اني اسالك الفوز في العطاء ويروى في القضاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الاعداء اللهم اني انزل بك حاجتي وان قصر رايي وضعف عملي افتقرت الى رحمتك فاسالك يا قاضي الامور ويا شافي الصدور كما تجير بين البحور ان تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رايي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسالتي من خير وعدته احدا من خلقك او خير انت معطيه احدا من عبادك فاني ارغب اليك فيه واسالكه برحمتك رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والامر الرشيد اسالك الامن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الركع السجود الموفين بالعهود انك رحيم ودود وانت تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لاوليايك وعدوا لاعدايك نحب بحبك من احبك ونعادي بعداوتك من خالفك اللهم هذا الدعاء وعليك الاستجابة وهذا الجهد وعليك التكلان اللهم اجعل لي نورا في قبري ونورا في قلبي ونورا من بين يدى ونورا من خلفي ونورا عن يميني ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم اعظم لي نورا واعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف العز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتكرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح الا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والكرم سبحان ذي الجلال والاكرام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ابي ليلى من هذا الوجه . وقد روى شعبة وسفيان الثوري عن سلمة بن كهيل عن كريب عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم بعض هذا الحديث ولم يذكره بطوله