Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز ( عبادت ) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم العنبري، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن سعيد بن ابي الحسن، عن ابي هريرة، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس شيء اكرم على الله تعالى من الدعاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث عمران القطان وعمران القطان هو ابن داور ويكنى ابا العوام . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن عمران القطان، بهذا الاسناد نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا عبادت کا مغز ( حاصل و نچوڑ ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا الوليد بن مسلم، عن ابن لهيعة، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن ابان بن صالح، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الدعاء مخ العبادة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه لا نعرفه الا من حديث ابن لهيعة
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ نے آیت: «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين» ”تمہارا رب فرماتا ہے، تم مجھے پکارو، میں تمہاری پکار ( دعا ) کو قبول کروں گا، جو لوگ مجھ سے مانگنے سے گھمنڈ کرتے ہیں، وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے“ ( المومن: ۶ ) پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- منصور نے یہ حدیث اعمش سے اور اعمش نے ذر سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف ذر کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ذر بن عبداللہ ہمدانی ہیں ثقہ ہیں، عمر بن ذر کے والد ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن معاوية، عن الاعمش، عن ذر، عن يسيع، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الدعاء هو العبادة " . ثم قرا : (وقال ربكم ادعوني استجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين ) . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه منصور والاعمش عن ذر ولا نعرفه الا من حديث ذر . هو ذر بن عبد الله الهمداني ثقة والد عمر بن ذر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے سوال نہیں کرتا ۱؎ اللہ اس سے ناراض اور ناخوش ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع اور کئی راویوں نے یہ حدیث ابوالملیح سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ابوالملیح کا نام صبیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ایسا ہی کہتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں فارسی بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن ابي المليح، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يسال الله يغضب عليه " . قال وروى وكيع وغير واحد عن ابي المليح هذا الحديث ولا نعرفه الا من هذا الوجه وابو المليح اسمه صبيح سمعت محمدا يقوله وقال يقال له الفارسي
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان ( یعنی بہت قریب ) ہے پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ( جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے اور ابونعامہ سعدی کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے۔
حدثنا محمد بن بشار حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار حدثنا ابو نعامة السعدي عن ابي عثمان النهدي عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة فلما قفلنا اشرفنا على المدينة فكبر الناس تكبيرة ورفعوا بها اصواتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ربكم ليس باصم ولا غايب هو بينكم وبين رءوس رحالكم ثم قال يا عبد الله بن قيس الا اعلمك كنزا من كنوز الجنة لا حول ولا قوة الا بالله قال ابو عيسى هذا حديث حسن وابو عثمان النهدي اسمه عبد الرحمن بن مل وابو نعامة السعدي اسمه عمرو بن عيسى. حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابو عاصم، عن حميد ابي المليح، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں ( مضبوطی ) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا زيد بن حباب، عن معاوية بن صالح، عن عمرو بن قيس، عن عبد الله بن بسر، رضى الله عنه ان رجلا، قال يا رسول الله ان شرايع الاسلام قد كثرت على فاخبرني بشيء اتشبث به . قال " لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے ( غازی ) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف دراج کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل اى العباد افضل درجة عند الله يوم القيامة قال " الذاكرون الله كثيرا والذاكرات " . قلت يا رسول الله ومن الغازي في سبيل الله قال " لو ضرب بسيفه في الكفار والمشركين حتى ينكسر ويختضب دما لكان الذاكرون الله كثيرا افضل منه درجة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث دراج
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض نے یہ حدیث عبداللہ بن سعید اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے، اور بعضوں نے اسے ان سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن سعيد، هو ابن ابي هند عن زياد، مولى ابن عياش عن ابي بحرية، عن ابي الدرداء، رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الا انبيكم بخير اعمالكم وازكاها عند مليككم وارفعها في درجاتكم وخير لكم من انفاق الذهب والورق وخير لكم من ان تلقوا عدوكم فتضربوا اعناقهم ويضربوا اعناقكم " . قالوا بلى . قال " ذكر الله تعالى " . فقال معاذ بن جبل رضى الله عنه ما شيء انجى من عذاب الله من ذكر الله . قال ابو عيسى وقد روى بعضهم هذا الحديث عن عبد الله بن سعيد مثل هذا بهذا الاسناد وروى بعضهم عنه فارسله
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے روایت ہے: انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الاغر ابي مسلم، انه شهد على ابي هريرة وابي سعيد الخدري انهما شهدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ما من قوم يذكرون الله الا حفت بهم الملايكة وغشيتهم الرحمة ونزلت عليهم السكينة وذكرهم الله فيمن عنده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا يوسف بن يعقوب، حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت الاغر ابا مسلم، قال اشهد على ابي سعيد وابي هريرة رضى الله عنهما انهما شهدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر مثله
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے ( وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم ( ادب و احتیاط کے سبب ) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی؟ ! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار، حدثنا ابو نعامة، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي سعيد الخدري، قال خرج معاوية الى المسجد فقال ما يجلسكم قالوا جلسنا نذكر الله قال الله ما اجلسكم الا ذاك قالوا والله ما اجلسنا الا ذاك . قال اما اني ما استحلفكم تهمة لكم وما كان احد بمنزلتي من رسول الله صلى الله عليه وسلم اقل حديثا عنه مني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على حلقة من اصحابه فقال " ما يجلسكم " . قالوا جلسنا نذكر الله ونحمده لما هدانا للاسلام ومن علينا به . فقال " الله ما اجلسكم الا ذاك " . قالوا الله ما اجلسنا الا ذاك . قال " اما اني لم استحلفكم لتهمة لكم انه اتاني جبريل فاخبرني ان الله يباهي بكم الملايكة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وابو نعامة السعدي اسمه عمرو بن عيسى وابو عثمان النهدي اسمه عبد الرحمن بن مل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کی یاد نہ کریں، اور نہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ( درود ) بھیجیں تو یہ چیز ان کے لیے حسرت و ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔ اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے، اور چاہے تو انہیں بخش دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۳- اور آپ کے قول «ترة» کے معنی ہیں حسرت و ندامت کے، بعض عربی داں حضرات کہتے ہیں: «ترة» کے معنی بدلہ کے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن صالح، مولى التوامة عن ابي هريرة، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله فيه ولم يصلوا على نبيهم الا كان عليهم ترة فان شاء عذبهم وان شاء غفر لهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ومعنى قوله ترة يعني حسرة وندامة . وقال بعض اهل المعرفة بالعربية: الترة هو الثار
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی بندہ اللہ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اس کی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے، یا اس دعا کے نتیجہ میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کر دیتا ہے، جب تک اس نے کسی گناہ یا قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) کی دعا نہ کی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابو سعید خدری اور عبادہ بن صامت سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من احد يدعو بدعاء الا اتاه الله ما سال او كف عنه من السوء مثله ما لم يدع باثم او قطيعة رحم " . وفي الباب عن ابي سعيد وعبادة بن الصامت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اچھا لگے ( اور پسند آئے ) کہ مصائب و مشکلات ( اور تکلیف دہ حالات ) میں اللہ اس کی دعائیں قبول کرے، تو اسے کشادگی و فراخی کی حالت میں کثرت سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا محمد بن مرزوق، حدثنا عبيد الله بن واقد، حدثنا سعيد بن عطية الليثي، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سره ان يستجيب الله له عند الشدايد والكرب فليكثر الدعاء في الرخاء " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- علی بن مدینی اور کئی نے یہ حدیث موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کی ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا موسى بن ابراهيم بن كثير الانصاري، قال سمعت طلحة بن خراش، قال سمعت جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " افضل الذكر لا اله الا الله وافضل الدعاء الحمد لله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث موسى بن ابراهيم . وقد روى علي بن المديني وغير واحد عن موسى بن ابراهيم هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، ومحمد بن عبيد المحاربي، قالا حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن ابيه، عن خالد بن سلمة، عن البهي، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل احيانه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث يحيى بن زكريا بن ابي زايدة والبهي اسمه عبد الله
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو یاد کر کے اس کے لیے دعا کرتے، تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے پھر اس کے لیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، حدثنا ابو قطن، عن حمزة الزيات، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا ذكر احدا فدعا له بدا بنفسه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح وابو قطن اسمه عمرو بن الهيثم
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو جب تک اپنے دونوں ہاتھ منہ مبارک پر پھیر نہ لیتے انہیں نیچے نہ گراتے تھے، محمد بن مثنیٰ اپنی روایت میں کہتے ہیں: آپ دونوں ہاتھ جب دعا کے لیے اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک واپس نہ لاتے جب تک کہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے مبارک پر پھیر نہ لیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن عیسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حماد بن عیسیٰ نے اسے تنہا روایت کیا ہے، اور یہ بہت کم حدیثیں بیان کرتے ہیں، ان سے کئی لوگوں نے روایت لی ہے، ۳- حنظلہ ابن ابی سفیان جمحی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید قطان نے ثقہ کہا ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى وابراهيم بن يعقوب وغير واحد قالوا حدثنا حماد بن عيسى الجهني، عن حنظلة بن ابي سفيان الجمحي، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، رضي الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه . قال محمد بن المثنى في حديثه لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث حماد بن عيسى . وقد تفرد به وهو قليل الحديث وقد حدث عنه الناس حنظلة بن ابي سفيان ثقة وثقه يحيى بن سعيد القطان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول کی جاتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ مچائے ( جلدی یہ ہے کہ ) وہ کہنے لگتا ہے: میں نے دعا کی مگر وہ قبول نہ ہوئی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي عبيد، مولى ابن ازهر عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يستجاب لاحدكم ما لم يعجل يقول دعوت فلم يستجب لي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو عبيد اسمه سعد وهو مولى عبد الرحمن بن ازهر ويقال مولى عبد الرحمن بن عوف وعبد الرحمن بن ازهر هو ابن عم عبد الرحمن بن عوف . قال وفي الباب عن انس رضى الله عنه
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» “ ”میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے“، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا، ( حدیث سن کر ) حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: میاں کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، - وهو الطيالسي حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن ابان بن عثمان، قال سمعت عثمان بن عفان، رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات فيضره شيء " . وكان ابان قد اصابه طرف فالج فجعل الرجل ينظر اليه فقال له ابان ما تنظر اما ان الحديث كما حدثتك ولكني لم اقله يوميذ ليمضي الله على قدره . قال هذا حديث حسن صحيح غريب
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شام کے وقت کہا کرے «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ( و خوش ) ہوں“، تو اللہ پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس بندے کو بھی اپنی طرف سے راضی و خوش کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عقبة بن خالد، عن ابي سعد، سعيد بن المرزبان عن ابي سلمة، عن ثوبان، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يمسي رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا كان حقا على الله ان يرضيه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه