Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له أراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها وأعوذ بك من الكسل وسوء الكبر وأعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر» ”ہم نے شام کی اور ساری بادشاہی نے شام کی اللہ کے حکم سے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس رات میں جو خیر ہے، اس کا میں طالب ہوں، اور رات کے بعد کی بھی جو بھلائی ہے اس کا بھی میں خواہاں ہوں، اور اس رات کی برائی اور رات کے بعد کی بھی برائی سے میں پناہ مانگتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں میں سستی اور کاہلی سے، اور پناہ مانگتا ہوں بوڑھا پے کی تکلیف سے، اور پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے“، اور جب صبح ہوتی تو اس وقت بھی یہی دعا پڑھتے، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ «أمسينا» کی جگہ «أصبحنا» اور «أمسى» کی جگہ «أصبح» کہتے «وأصبح الملك لله والحمد لله» ”صبح کی ہم نے، اور صبح کی ساری بادشاہی نے، اور ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، شعبہ نے یہ حدیث اسی سند سے ابن مسعود سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا جرير، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم بن سويد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا امسى قال " امسينا وامسى الملك لله والحمد لله ولا اله الا الله وحده لا شريك له اراه قال فيها له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اسالك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها واعوذ بك من شر هذه الليلة وشر ما بعدها واعوذ بك من الكسل وسوء الكبر واعوذ بك من عذاب النار وعذاب القبر " . واذا اصبح قال ذلك ايضا " اصبحنا واصبح الملك لله والحمد لله " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة بهذا الاسناد عن ابن مسعود لم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو سکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ جب تمہاری صبح ہو تو کہو «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير» ”اے اللہ! تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے ہی حکم سے ہم نے شام کی، تیرے حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مریں گے“، اور آپ نے اپنے صحابہ کو سکھایا جب تم میں سے کسی کی شام ہو تو اسے چاہیئے کہ کہے «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”ہم نے تیرے ہی حکم سے شام کی اور تیرے ہی حکم سے صبح کی تھی، تیرے ہی حکم سے ہم زندہ ہیں اور تیرا جب حکم ہو گا، ہم مر جائیں گے اور تیری ہی طرف ہمیں اٹھ کر جانا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا عبد الله بن جعفر، اخبرنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلم اصحابه يقول " اذا اصبح احدكم فليقل اللهم بك اصبحنا وبك امسينا وبك نحيا وبك نموت واليك المصير . واذا امسى فليقل اللهم بك امسينا وبك اصبحنا وبك نحيا وبك نموت واليك النشور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جسے میں صبح و شام میں پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: ”کہہ لیا کرو: «اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! غائب و حاضر، موجود اور غیر موجود کے جاننے والے، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں شیطان کے شر اور اس کی دعوت شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”یہ دعا صبح و شام اور جب اپنی خواب گاہ میں سونے چلو پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن يعلى بن عطاء، قال سمعت عمرو بن عاصم الثقفي، يحدث عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال ابو بكر يا رسول الله مرني بشيء اقوله اذا اصبحت واذا امسيت قال " قل اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السموات والارض رب كل شيء ومليكه اشهد ان لا اله الا انت اعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه قال قله اذا اصبحت واذا امسيت واذا اخذت مضجعك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں «سيد الاستغفار» ( طلب مغفرت کی دعاؤں میں سب سے اہم دعا ) نہ بتاؤں؟ ( وہ یہ ہے ) : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت وأبوء لك بنعمتك علي وأعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں، میں اپنی استطاعت بھر تجھ سے کیے ہوئے وعدہ و اقرار پر قائم ہوں، اور میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے کئے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں تو نے مجھے جو نعمتیں دی ہیں، ان کا اقرار اور اعتراف کرتا ہوں، میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرتا ہوں تو میرے گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ گناہ تو بس تو ہی معاف کر سکتا ہے“، شداد کہتے ہیں: آپ نے فرمایا: ”یہ دعا تم میں سے کوئی بھی شام کو پڑھتا ہے اور صبح ہونے سے پہلے ہی اس پر «قدر» ( موت ) آ جاتی ہے تو جنت اس کے لیے واجب ہو جاتی ہے، اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے اور شام ہونے سے پہلے اسے «قدر» ( موت ) آ جائے مگر یہ کہ جنت اس پر واجب ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے شداد بن اوس رضی الله عنہ کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن مسعود، ابن ابزی اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن كثير بن زيد، عن عثمان بن ربيعة، عن شداد بن اوس، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " الا ادلك على سيد الاستغفار اللهم انت ربي لا اله الا انت خلقتني وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت اعوذ بك من شر ما صنعت وابوء اليك بنعمتك على واعترف بذنوبي فاغفر لي ذنوبي انه لا يغفر الذنوب الا انت . لا يقولها احدكم حين يمسي فياتي عليه قدر قبل ان يصبح الا وجبت له الجنة ولا يقولها حين يصبح فياتي عليه قدر قبل ان يمسي الا وجبت له الجنة " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابن عمر وابن مسعود وابن ابزى وبريدة رضى الله عنهم . قال وهذا حديث حسن غريب . وعبد العزيز بن ابي حازم هو ابن ابي حازم الزاهد . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن شداد بن اوس رضى الله عنه
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کچھ کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جانے لگو تو کہہ لیا کرو، اگر تم اسی رات میں مر جاؤ تو فطرت پر ( یعنی اسلام پر ) مرو گے اور اگر تم نے صبح کی تو صبح کی، خیر ( اجر و ثواب ) حاصل کر کے، تم کہو: «اللهم إني أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك وألجأت ظهري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے حوالے کر دی، میں اپنا رخ تیری طرف کر کے پوری طرح متوجہ ہو گیا، میں نے اپنا معاملہ تیری سپردگی میں دے دیا، تجھ سے امیدیں وابستہ کر کے اور تیرا خوف دل میں بسا کر، میری پیٹھ تیرے حوالے، تیرے سوا نہ میرے لیے کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی تجھ سے بچ کر تیرے سوا کوئی ٹھکانا میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے، میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ براء کہتے ہیں: میں نے «نبيك الذي أرسلت» کی جگہ «برسولك الذي أرسلت» کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے کونچا، پھر فرمایا: «ونبيك الذي أرسلت» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس حدیث کو منصور بن معتمر نے سعد بن عبیدہ سے اور سعد نے براء کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں اتنا فرق ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور تم وضو سے ہو تو یہ دعا پڑھا کرو، ۴- اس باب میں رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق الهمداني، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " الا اعلمك كلمات تقولها اذا اويت الى فراشك فان مت من ليلتك مت على الفطرة وان اصبحت اصبحت وقد اصبت خيرا تقول اللهم اني اسلمت نفسي اليك ووجهت وجهي اليك وفوضت امري اليك رغبة ورهبة اليك والجات ظهري اليك لا ملجا ولا منجا منك الا اليك امنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت " . قال البراء فقلت وبرسولك الذي ارسلت . قال فطعن بيده في صدري ثم قال " وبنبيك الذي ارسلت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب قد روي من غير وجه عن البراء . ورواه منصور بن المعتمر عن سعد بن عبيدة عن البراء عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه الا انه قال اذا اويت الى فراشك وانت على وضوء . قال وفي الباب عن رافع بن خديج رضى الله عنه
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی داہنی کروٹ لیٹے پھر پڑھے: «اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك أومن بكتابك وبرسولك» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، میں نے اپنا منہ ( اوروں کی طرف سے پھیر کر ) تیری طرف کر دیا، میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف ٹیک دی، میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، تجھ سے بچ کر تیرے سوا اور کوئی جائے پناہ و جائے نجات نہیں ہے، میں تیری کتاب اور تیرے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں“، پھر اسی رات میں مر جائے، تو وہ جنت میں جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث رافع بن خدیج رضی الله عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن يحيى بن اسحاق ابن اخي، رافع بن خديج عن رافع بن خديج، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اضطجع احدكم على جنبه الايمن ثم قال اللهم اني اسلمت نفسي اليك ووجهت وجهي اليك والجات ظهري اليك وفوضت امري اليك لا ملجا ولا منجا منك الا اليك اومن بكتابك وبرسلك . فان مات من ليلته دخل الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث رافع بن خديج رضى الله عنه
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور بچایا ہم کو ( مخلوق کے شر سے ) اور ہم کو ( رہنے سہنے کے لیے ) ٹھکانا دیا، جب کہ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کا نہ کوئی حمایتی اور محافظ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانا اور جائے رہائش“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس بن مالك، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه قال " الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وكفانا واوانا وكم ممن لا كافي له ولا مووي " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے ہوئے تین بار کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں اس عظیم ترین اللہ سے استغفار کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ ہمیشہ زندہ اور تا ابد قائم و دائم رہنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں“، اللہ اس کے گناہ بخش دے گا اگرچہ وہ گناہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بےشمار ) ہوں، اگرچہ وہ گناہ درخت کے پتوں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ گناہ اکٹھا ریت کے ذروں کی تعداد میں ہوں، اگرچہ وہ دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اس سند سے عبیداللہ بن ولید وصافی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا ابو معاوية، عن الوصافي، عن عطية، عن ابي سعيد، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين ياوي الى فراشه استغفر الله العظيم الذي لا اله الا هو الحى القيوم واتوب اليه . ثلاث مرات غفر الله ذنوبه وان كانت مثل زبد البحر وان كانت عدد ورق الشجر وان كانت عدد رمل عالج وان كانت عدد ايام الدنيا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث الوصافي عبيد الله بن الوليد
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة بن اليمان، رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينام وضع يده تحت راسه ثم قال " اللهم قني عذابك يوم تجمع عبادك او تبعث عبادك " . قال هذا حديث حسن صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناتے تھے، پھر پڑھتے تھے: «رب قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن کہ تو مردوں کو اٹھا کر زندہ کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ( امام ) ثوری نے ابواسحاق سے روایت کی، اور ابواسحاق نے براء سے، اور امام ثوری نے ان دونوں یعنی ابواسحاق و براء کے بیچ میں کسی اور راوی کا ذکر نہیں کیا، ۳- روایت کی شعبہ نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ سے، اور ایک دوسرے شخص نے براء سے، ۴- اسرائیل نے ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے عبداللہ بن یزید کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق نے ابوعبیدہ اور ابوعبیدہ نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح روایت کی۔
حدثنا ابو كريب، اخبرنا اسحاق بن منصور، - هو السلولي عن ابراهيم بن يوسف بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن البراء بن عازب، رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوسد يمينه عند المنام ثم يقول " رب قني عذابك يوم تبعث عبادك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وروى الثوري هذا الحديث عن ابي اسحاق عن البراء لم يذكر بينهما احدا وروى شعبة عن ابي اسحاق عن ابي عبيدة ورجل اخر عن البراء . وروى اسراييل عن ابي اسحاق عن عبد الله بن يزيد عن البراء وعن ابي اسحاق عن ابي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ( نیچے و پوشیدہ ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد بن عبد الله، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا اذا اخذ احدنا مضجعه ان يقول " اللهم رب السموات ورب الارضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والانجيل والقران اعوذ بك من شر كل ذي شر انت اخذ بناصيته انت الاول فليس قبلك شيء وانت الاخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين واغنني من الفقر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر المكي، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام احدكم عن فراشه ثم رجع اليه فلينفضه بصنفة ازاره ثلاث مرات فانه لا يدري ما خلفه عليه بعده فاذا اضطجع فليقل باسمك ربي وضعت جنبي وبك ارفعه فان امسكت نفسي فارحمها وان ارسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين . فاذا استيقظ فليقل الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد على روحي واذن لي بذكره " . قال وفي الباب عن جابر وعايشة . قال حديث ابي هريرة حديث حسن . وروى بعضهم هذا الحديث وقال فلينفضه بداخلة ازاره
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ۱؎ پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا المفضل بن فضالة، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرا فيهما : ( قل هو الله احد ) و : ( قل اعوذ برب الفلق ) و : ( قل اعوذ برب الناس ) ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدا بهما على راسه ووجهه وما اقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات . قال هذا حديث حسن غريب صحيح
فروہ بن نوفل رضی الله عنہ ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: ( ہمارے استاذ ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال اخبرنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن رجل، عن فروة بن نوفل، رضى الله عنه انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله علمني شييا اقوله اذا اويت الى فراشي قال " اقرا : ( قل يا ايها الكافرون ) فانها براءة من الشرك " . قال شعبة احيانا يقول مرة واحيانا لا يقولها . حدثنا موسى بن حزام، اخبرنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن فروة بن نوفل، عن ابيه، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه بمعناه وهذا اصح . قال ابو عيسى وروى زهير هذا الحديث عن ابي اسحاق عن فروة بن نوفل عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وهذا اشبه واصح من حديث شعبة . وقد اضطرب اصحاب ابي اسحاق في هذا الحديث . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه قد رواه عبد الرحمن بن نوفل عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم وعبد الرحمن هو اخو فروة بن نوفل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سونے سے پہلے آپ سورۃ «سجدہ» اور سورۃ «تبارک الذی» ( یعنی سورۃ الملک ) پڑھ نہ لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ( ثوری ) اور کچھ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث لیث سے، لیث نے ابوالزبیر سے، ابوالزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۲- زہیر نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث جابر سے ( خود ) سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث جابر سے نہیں سنی ہے، میں نے یہ حدیث صفوان یا ابن صفوان سے سنی ہے، ۳- شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے، مغیرہ نے ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر سے لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا هشام بن يونس الكوفي، حدثنا المحاربي، عن ليث، عن ابي الزبير، عن جابر، رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا ينام حتى يقرا بتنزيل السجدة وبتبارك . قال ابو عيسى هكذا روى سفيان وغير واحد هذا الحديث عن ليث عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وروى زهير هذا الحديث عن ابي الزبير قال قلت له سمعته من جابر قال لم اسمعه من جابر انما سمعته من صفوان او ابن صفوان . وروى شبابة عن مغيرة بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر نحو حديث ليث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے اور ان ( ابولبابہ ) سے حماد بن زید نے سنا ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي لبابة، قال قالت عايشة رضى الله عنها كان النبي صلى الله عليه وسلم لا ينام حتى يقرا الزمر وبني اسراييل . اخبرني محمد بن اسماعيل قال ابو لبابة هذا اسمه مروان مولى عبد الرحمن بن زياد وسمع من عايشة سمع منه حماد بن زيد
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «مسبحات» ۱؎ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے ۲؎، آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن ابي بلال، عن العرباض بن سارية، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا ينام حتى يقرا المسبحات ويقول " فيها اية خير من الف اية " . هذا حديث حسن غريب
بنی حنظلہ کے ایک شخص نے کہا کہ میں شداد بن اوس رضی الله عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جسے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے تھے، آپ نے ہمیں سکھایا کہ ہم کہیں: «اللهم إني أسألك الثبات في الأمر وأسألك عزيمة الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك لسانا صادقا وقلبا سليما وأعوذ بك من شر ما تعلم وأسألك من خير ما تعلم وأستغفرك مما تعلم إنك أنت علام الغيوب» ”اے اللہ! میں تجھ سے کام میں ثبات ( جماؤ ٹھہراؤ ) کی توفیق مانگتا ہوں، میں تجھ سے نیکی و بھلائی کی پختگی چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنی نعمت کے شکریہ کی توفیق دے، اپنی اچھی عبادت کرنے کی توفیق دے، میں تجھ سے لسان صادق اور قلب سلیم کا طالب ہوں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جو تیرے علم میں ہے اور اس خیر کا بھی میں تجھ سے طلب گار ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں ان گناہوں کی جنہیں تو جانتا ہے تو بیشک ساری پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن الجريري، عن ابي العلاء بن الشخير، عن رجل، من بني حنظلة قال صحبت شداد بن اوس رضى الله عنه في سفر فقال الا اعلمك ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا ان نقول اللهم اني اسالك الثبات في الامر واسالك عزيمة الرشد واسالك شكر نعمتك وحسن عبادتك واسالك لسانا صادقا وقلبا سليما واعوذ بك من شر ما تعلم واسالك من خير ما تعلم واستغفرك مما تعلم انك انت علام الغيوب . قال وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من مسلم ياخذ مضجعه يقرا سورة من كتاب الله الا وكل الله به ملكا فلا يقربه شيء يوذيه حتى يهب متى هب " . قال ابو عيسى هذا حديث انما نعرفه من هذا الوجه والجريري هو سعيد بن اياس ابو مسعود الجريري وابو العلاء اسمه يزيد بن عبد الله بن الشخير
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، ( وہ گئیں تو ) آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
حدثنا ابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري حدثنا ازهر السمان، عن ابن عون، عن ابن سيرين، عن عبيدة، عن علي، رضى الله عنه قال شكت الى فاطمة مجل يديها من الطحين فقلت لو اتيت اباك فسالتيه خادما فقال " الا ادلكما على ما هو خير لكما من الخادم اذا اخذتما مضجعكما تقولان ثلاثا وثلاثين وثلاثا وثلاثين واربعا وثلاثين من تحميد وتسبيح وتكبير " . وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابن عون وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن علي
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( آپ کی بیٹی ) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح ( سبحان اللہ ) تکبیر ( اللہ اکبر ) اور تحمید ( الحمدللہ ) پڑھنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ازهر السمان، عن ابن عون، عن محمد، عن عبيدة، عن علي، رضى الله عنه قال جاءت فاطمة الى النبي صلى الله عليه وسلم تشكو مجلا بيديها فامرها بالتسبيح والتكبير والتحميد