احادیث
#3410
سنن ترمذی - Supplication
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے ( سبحان اللہ کہے ) دس بار حمد بیان کرے ( الحمدللہ کہے ) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے ( اللہ اکبر کہے ) ۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ۱؎ ہوئے لیکن یہ ( دس گنا بڑھ کر ) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہو جائیں گے۔ ( یہ ایک خصلت و عادت ہوئی ) اور ( دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، ( اب بتاؤ ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اس وجہ سے ) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کر سکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے ( تھپکیاں دیدے کر ) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( بغیر تسبیحات پڑھے ) سو جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے، ۳- اس باب میں زید بن ثابت، انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلتان لا يحصيهما رجل مسلم الا دخل الجنة الا وهما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا " . قال فانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده قال " فتلك خمسون وماية باللسان والف وخمسماية في الميزان واذا اخذت مضجعك تسبحه وتكبره وتحمده ماية فتلك ماية باللسان والف في الميزان فايكم يعمل في اليوم والليلة الفين وخمسماية سيية " . قالوا وكيف لا يحصيها قال " ياتي احدكم الشيطان وهو في صلاته فيقول اذكر كذا اذكر كذا . حتى ينفتل فلعله ان لا يفعل وياتيه وهو في مضجعه فلا يزال ينومه حتى ينام " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة والثوري عن عطاء بن السايب هذا الحديث . وروى الاعمش هذا الحديث عن عطاء بن السايب مختصرا . وفي الباب عن زيد بن ثابت وانس وابن عباس رضى الله عنهم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3410
- Book Index
- 41
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
