Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما نے گواہی دی کہ ان دونوں کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «لا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے: ( ہاں ) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب: «لا إله إلا الله وحده» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے“، کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کہتا ہے ( ہاں ) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں“، تو اللہ کہتا ہے، ( ہاں ) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله له الملك» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے“، تو اللہ کہتا ہے: کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے، اور جب کہتا ہے: «لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے“، تو اللہ کہتا ہے: ( ہاں ) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے: جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے، اور مر جائے تو آگ اسے نہ کھائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا اسماعيل بن محمد بن جحادة، حدثنا عبد الجبار بن عباس، عن ابي اسحاق، عن الاغر ابي مسلم، قال اشهد على ابي سعيد وابي هريرة انهما شهدا على النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال لا اله الا الله والله اكبر . صدقه ربه فقال لا اله الا انا وانا اكبر . واذا قال لا اله الا الله وحده . قال يقول الله لا اله الا انا وانا وحدي . واذا قال لا اله الا الله وحده لا شريك له . قال الله لا اله الا انا وحدي لا شريك لي . واذا قال لا اله الا الله له الملك وله الحمد . قال الله لا اله الا انا لي الملك ولي الحمد . واذا قال لا اله الا الله ولا حول ولا قوة الا بالله . قال الله لا اله الا انا ولا حول ولا قوة الا بي . وكان يقول من قالها في مرضه ثم مات لم تطعمه النار " . قال هذا حديث حسن غريب . وقد رواه شعبة عن ابي اسحاق، عن الاغر ابي مسلم، عن ابي هريرة، وابي، سعيد بنحو هذا الحديث بمعناه ولم يرفعه شعبة . حدثنا بذلك، بندار حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مصیبت میں گرفتار کسی شخص کو دیکھے اور کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے فضیلت دی، اپنی بہت سی مخلوقات پر“، تو وہ زندگی بھر ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ وہ کیسی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور عمرو بن دینار آل زبیر کے خزانچی ہیں اور بصریٰ شیخ ہیں اور حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں، اور یہ سالم بن عبداللہ بن عمر سے کئی احادیث کی روایت میں منفرد ہیں، ۳- ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب آدمی کسی کو مصیبت میں گرفتار دیکھے تو اس بلا سے آہستہ سے پناہ مانگے مصیبت زدہ شخص کو نہ سنائے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عمرو بن دينار، مولى ال الزبير عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من راى صاحب بلاء فقال الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا الا عوفي من ذلك البلاء كاينا ما كان ما عاش " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وفي الباب عن ابي هريرة . وعمرو بن دينار قهرمان ال الزبير هو شيخ بصري وليس هو بالقوي في الحديث . وقد تفرد باحاديث عن سالم بن عبد الله بن عمر . وقد روي عن ابي جعفر محمد بن علي انه قال اذا راى صاحب بلاء فتعوذ منه يقول ذلك في نفسه ولا يسمع صاحب البلاء
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو جعفر السمناني، وغير، واحد، قالوا حدثنا مطرف بن عبد الله المدني، حدثنا عبد الله بن عمر العمري، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من راى مبتلى فقال الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا لم يصبه ذلك البلاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر الكوفي، - واسمه احمد بن عبد الله الهمداني حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرني موسى بن عقبة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جلس في مجلس فكثر فيه لغطه فقال قبل ان يقوم من مجلسه ذلك سبحانك اللهم وبحمدك اشهد ان لا اله الا انت استغفرك واتوب اليك . الا غفر له ما كان في مجلسه ذلك " . وفي الباب عن ابي برزة وعايشة . قال هذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه لا نعرفه من حديث سهيل الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو سو مرتبہ: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے“، گنا جاتا تھا۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، حدثنا المحاربي، عن مالك بن مغول، عن محمد بن سوقة، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان يعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس الواحد ماية مرة من قبل ان يقوم " رب اغفر لي وتب على انك انت التواب الغفور " . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن محمد بن سوقة، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . قال هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الحكيم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات والأرض ورب العرش الكريم» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب ( مالک ) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے، اور انہوں نے ہشام سے، ہشام نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، اور ابوالعالیہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو عند الكرب " لا اله الا الله العلي الحليم لا اله الا الله رب العرش العظيم لا اله الا الله رب السموات والارض ورب العرش الكريم " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال وفي الباب عن علي . قال وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مشکل معاملے سے دوچار ہوتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر کہتے: «سبحان الله العظيم» ”اللہ پاک و برتر ہے“ اور جب جی جان لگا کر دعا کرتے تو کہتے: «يا حي يا قيوم» ”اے زندہ ذات! اے کائنات کا نظام چلانے والے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن المغيرة المخزومي المدني وغير واحد قالوا حدثنا ابن ابي فديك، عن ابراهيم بن الفضل، عن المقبري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اهمه الامر رفع راسه الى السماء فقال " سبحان الله العظيم " . واذا اجتهد في الدعاء قال " يا حى يا قيوم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» ”میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے“، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ ( یعنی: مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے ) ۳- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے، ۴- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن الحارث بن يعقوب، عن يعقوب بن عبد الله بن الاشج، عن بسر بن سعيد، عن سعد بن ابي وقاص، عن خولة بنت حكيم السلمية، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من نزل منزلا ثم قال اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرتحل من منزله ذلك " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب . وروى مالك بن انس هذا الحديث انه بلغه عن يعقوب بن عبد الله بن الاشج فذكر نحو هذا الحديث . وروي عن ابن عجلان هذا الحديث عن يعقوب بن عبد الله بن الاشج ويقول عن سعيد بن المسيب عن خولة . قال وحديث الليث اصح من رواية ابن عجلان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا بنصحك واقلبنا بذمة اللهم ازو لنا الأرض وهون علينا السفر اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب» ”اے اللہ! تو ہی رفیق ہے سفر میں، اور تو ہی خلیفہ ہے گھر میں، ( میری عدم موجودگی میں میرے گھر کا دیکھ بھال کرنے والا، نائب ) اپنی ساری خیر خواہیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ میں رہ، اور ہمیں اپنے ٹھکانے پر اپنی پناہ و حفاظت میں لوٹا ( واپس پہنچا ) ، اے اللہ! تو زمین کو ہمارے لیے سمیٹ دے اور سفر کو آسان کر دے، اے اللہ! میں سفر کی مشقتوں اور تکلیف سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں ناکام و نامراد لوٹنے کے رنج و غم سے ( یا لوٹنے پر گھر کے بدلے ہوئے برے حال سے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں اسے نہیں جانتا تھا مگر ابن ابی عدی کی روایت سے یہاں تک کہ سوید نے مجھ سے یہ حدیث ( مندرجہ ذیل سند سے ) سوید بن نصر کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبداللہ بن مبارک نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۱؎، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعبہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن عبد الله بن بشر الخثعمي، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سافر فركب راحلته قال باصبعه ومد شعبة باصبعه قال " اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل اللهم اصحبنا بنصحك واقلبنا بذمة . اللهم ازو لنا الارض وهون علينا السفر اللهم اني اعوذ بك من وعثاء السفر وكابة المنقلب " . قال ابو عيسى كنت لا اعرف هذا الا من حديث ابن ابي عدي حتى حدثني به سويد . حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثنا شعبة، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . قال هذا حديث حسن غريب من حديث ابي هريرة ولا نعرفه الا من حديث ابن ابي عدي عن شعبة
عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب ومن الحور بعد الكون ومن دعوة المظلوم ومن سوء المنظر في الأهل والمال» ”اے اللہ! تو ہمارے سفر کا ساتھی ہے، تو ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نائب و خلیفہ ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ ہمارے اس سفر میں تو ہمارا نائب و خلیفہ بن جا ہمارے گھر والوں میں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی تکلیف و تھکان سے اور ناکام نامراد لوٹنے کے غم سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور مال اور اہل خانہ میں واقع شدہ کسی برے منظر سے ( بری صورت حال سے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «الحور بعد الكون» کی جگہ «الحور بعد الكور» بھی مروی ہے، اور «الحور بعد الكور» یا «الحور بعد الكون» دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، کہتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ایمان سے کفر کی طرف لوٹنے سے یا طاعت سے معصیت کی طرف لوٹنے سے، مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد خیر سے شر کی طرف لوٹنا ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم الاحول، عن عبد الله بن سرجس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا سافر يقول " اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في اهلنا اللهم اني اعوذ بك من وعثاء السفر وكابة المنقلب ومن الحور بعد الكون ومن دعوة المظلوم ومن سوء المنظر في الاهل والمال " . قال هذا حديث حسن صحيح . قال ويروى الحور بعد الكور ايضا قال ومعنى قوله الحور بعد الكون او الكور وكلاهما له وجه يقال انما هو الرجوع من الايمان الى الكفر او من الطاعة الى المعصية انما يعني الرجوع من شيء الى شيء من الشر
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت الربيع بن البراء بن عازب، يحدث عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قدم من سفر قال " ايبون تايبون عابدون لربنا حامدون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى الثوري هذا الحديث عن ابي اسحاق عن البراء ولم يذكر فيه عن الربيع بن البراء ورواية شعبة اصح . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس وجابر بن عبد الله
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی ( سواری ) کو ( اپنے وطن ) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ۱؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قدم من سفر فنظر الى جدرات المدينة اوضع راحلته وان كان على دابة حركها من حبها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ۱؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» ”میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل ( سب ) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
حدثنا احمد بن ابي عبيد الله السليمي البصري، حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة عن ابراهيم بن عبد الرحمن بن يزيد بن امية، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ودع رجلا اخذ بيده فلا يدعها حتى يكون الرجل هو يدع يد النبي صلى الله عليه وسلم ويقول " استودع الله دينك وامانتك واخر عملك " . قال هذا حديث غريب من هذا الوجه . وروي هذا الحديث من غير وجه عن ابن عمر
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے: ”میرے قریب آؤ میں تمہیں اسی طرح سے الوداع کہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کہتے اور رخصت کرتے تھے، آپ ہمیں رخصت کرتے وقت کہتے تھے: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جو سالم بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آئی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا سعيد بن خثيم، عن حنظلة، عن سالم، ان ابن عمر، كان يقول للرجل اذا اراد سفرا ادن مني اودعك كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يودعنا . فيقول " استودع الله دينك وامانتك وخواتيم عملك " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث سالم بن عبد الله
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے“، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے“، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر ( بھلائی کے کام ) آسان کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا سيار، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اريد سفرا فزودني . قال " زودك الله التقوى " . قال زدني . قال " وغفر ذنبك " . قال زدني بابي انت وامي . قال " ويسر لك الخير حيثما كنت " . قال هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو، ( اللہ اکبر کہتے رہو ) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا: «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» ”اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، اخبرني اسامة بن زيد، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رجلا، قال يا رسول الله اني اريد ان اسافر فاوصني . قال " عليك بتقوى الله والتكبير على كل شرف " . فلما ان ولى الرجل قال " اللهم اطو له الارض وهون عليه السفر " . قال هذا حديث حسن
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی الله عنہ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» ”میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں“ اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں“، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، اور تین بار «اللہ اکبر» کہا، پھر یہ دعا پڑھی: «سبحانك إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”پاک ہے تو اے اللہ! بیشک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے“، پھر علی رضی الله عنہ ہنسے، میں نے کہا: امیر المؤمنین کس بات پر آپ ہنسے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا ہے، پھر آپ ہنسے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور ذات نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن علي بن ربيعة، قال شهدت عليا اتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال بسم الله ثلاثا فلما استوى على ظهرها قال الحمد لله ثم قال : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وانا الى ربنا لمنقلبون ) ثم قال الحمد لله ثلاثا والله اكبر ثلاثا سبحانك اني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فانه لا يغفر الذنوب الا انت . ثم ضحك . فقلت من اى شيء ضحكت يا امير المومنين قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع كما صنعت ثم ضحك فقلت من اى شيء ضحكت يا رسول الله قال " ان ربك ليعجب من عبده اذا قال رب اغفر لي ذنوبي انه لا يغفر الذنوب غيرك " . قال وفي الباب عن ابن عمر رضى الله عنهما . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر فرماتے تو اپنی سواری پر چڑھتے اور تین بار «اللہ اکبر» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ۱؎ اس کے بعد آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك في سفري هذا من البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا المسير واطو عنا بعد الأرض اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو، اے اللہ تو اس سفر کو آسان کر دے، زمین کی دوری کو لپیٹ کر ہمارے لیے کم کر دے، اے اللہ تو سفر کا ساتھی ہے، اور گھر میں ( گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے ) میرا نائب و قائم مقام ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ ہمارے سفر میں رہ، اور گھر والوں میں ہماری قائم مقامی فرما“، اور آپ جب گھر کی طرف پلٹتے تو کہتے تھے: «آيبون إن شاء الله تائبون عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں اپنے گھر والوں میں ان شاءاللہ، توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد بیان کرنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن علي بن عبد الله البارقي، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سافر فركب راحلته كبر ثلاثا ويقول : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وانا الى ربنا لمنقلبون ) ثم يقول " اللهم اني اسالك في سفري هذا من البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا المسير واطو عنا بعد الارض اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في اهلنا " . وكان يقول اذا رجع الى اهله " ايبون ان شاء الله تايبون عابدون لربنا حامدون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں“۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا الحجاج الصواف، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي جعفر، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث دعوات مستجابات دعوة المظلوم ودعوة المسافر ودعوة الوالد على ولده " . حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، بهذا الاسناد نحوه . وزاد فيه مستجابات لا شك فيهن . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وابو جعفر الرازي هذا الذي روى عنه يحيى بن ابي كثير يقال له ابو جعفر الموذن وقد روى عنه يحيى بن ابي كثير غير حديث ولا نعرف اسمه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو البصري، حدثنا محمد بن ربيعة، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا راى الريح قال " اللهم اني اسالك من خيرها وخير ما فيها وخير ما ارسلت به واعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما ارسلت به " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابى بن كعب رضى الله عنه وهذا حديث حسن