Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ”اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ��تيبة، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن الحجاج بن ارطاة، عن ابي مطر، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سمع صوت الرعد والصواعق قال " اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: «اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» ”اے اللہ! مبارک کر ہمیں یہ چاند، برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، ( اے چاند! ) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا سليمان بن سفيان المدني، حدثني بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن ابيه، عن جده، طلحة بن عبيد الله ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا راى الهلال قال " اللهم اهلله علينا باليمن والايمان والسلامة والاسلام ربي وربك الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہو جائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے، اور یہ حدیث مرسل ( منقطع ) ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا قبيصة، اخبرنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن معاذ بن جبل، رضى الله عنه قال استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم حتى عرف الغضب في وجه احدهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم كلمة لو قالها لذهب غضبه اعوذ بالله من الشيطان الرجيم " . حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، بهذا الاسناد نحوه . قال وفي الباب عن سليمان بن صرد قال وهذا حديث مرسل . عبد الرحمن بن ابي ليلى لم يسمع من معاذ بن جبل مات معاذ في خلافة عمر بن الخطاب وقتل عمر بن الخطاب وعبد الرحمن بن ابي ليلى غلام ابن ست سنين وهكذا روى شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى وقد روى عبد الرحمن بن ابي ليلى عن عمر بن الخطاب وراه وعبد الرحمن بن ابي ليلى يكنى ابا عيسى وابو ليلى اسمه يسار وروي عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال ادركت عشرين وماية من الانصار من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے جب کوئی اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو سمجھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور جو دیکھا ہوا سے لوگوں سے بیان کرے، اور جب خراب اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو یہ چیز اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- ابن الہاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد مدینی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان سے امام مالک اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوقتادہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بكر بن مضر، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا راى احدكم الرويا يحبها فانما هي من الله فليحمد الله عليها وليحدث بما راى واذا راى غير ذلك مما يكره فانما هي من الشيطان فليستعذ بالله من شرها ولا يذكرها لاحد فانها لا تضره " . قال وفي الباب عن ابي قتادة . قال وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وابن الهاد اسمه يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد المدني وهو ثقة روى عنه مالك والناس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( توڑ کر ) لاتے، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیتے تو فرماتے «اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله» ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس کے دوگنا ( برکت دے ) “، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ کو جو کوئی چھوٹا بچہ نظر آتا جاتا آپ اسے بلاتے اور یہ ( پہلا ) پھل اسے دے دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، واخبرنا قتيبة، عن مالك، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال كان الناس اذا راوا اول الثمر جاءوا به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا اخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لنا في ثمارنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا ومدنا اللهم ان ابراهيم عبدك وخليلك ونبيك واني عبدك ونبيك وانه دعاك لمكة وانا ادعوك للمدينة بمثل ما دعاك به لمكة ومثله معه " . ثم يدعو اصغر وليد يراه فيعطيه ذلك الثمر . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید رضی الله عنہ ( دونوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ ایک برتن لے کر ہم لوگوں کے پاس آئیں، اس برتن میں دودھ تھا میں آپ کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا اور خالد آپ کے بائیں طرف تھے، آپ نے دودھ پیا پھر مجھ سے فرمایا: ”پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن تم چاہو تو اپنا حق ( اپنی باری ) خالد بن ولید کو دے دو“، میں نے کہا: آپ کا جوٹھا پینے میں اپنے آپ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ کھانا کھلائے، اسے کھا کر یہ دعا پڑھنی چاہیئے: «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، اور جس کو اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہیئے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ”اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے ( دونوں ) کی جگہ کھانے و پینے کی ضرورت پوری کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ حدیث علی بن زید سے روایت کی ہے، اور انہوں نے عمر بن حرملہ کہا ہے۔ جب کہ بعض نے عمر بن حرملہ کہا ہے اور عمرو بن حرملہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا علي بن زيد، عن عمر، وهو ابن ابي حرملة عن ابن عباس، قال دخلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم انا وخالد بن الوليد على ميمونة فجاءتنا باناء من لبن فشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا على يمينه وخالد على شماله فقال لي " الشربة لك فان شيت اثرت بها خالدا " . فقلت ما كنت اوثر على سورك احدا . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اطعمه الله الطعام فليقل اللهم بارك لنا فيه واطعمنا خيرا منه . ومن سقاه الله لبنا فليقل اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس شيء يجزي مكان الطعام والشراب غير اللبن " . قال هذا حديث حسن . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن علي بن زيد فقال عن عمر بن حرملة . وقال بعضهم عمرو بن حرملة ولا يصح
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ”اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ روزی ہے، بابرکت روزی ہے، یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب ہم اس سے کبھی بے نیاز نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ثور بن يزيد، حدثنا خالد بن معدان، عن ابي امامة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفعت المايدة من بين يديه يقول " الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا پی چکتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا“۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا حفص بن غياث، وابو خالد الاحمر عن حجاج بن ارطاة، عن رياح بن عبيدة، قال حفص عن ابن اخي ابي سعيد، وقال ابو خالد، عن مولى، لابي سعيد عن ابي سعيد، رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اكل او شرب قال " الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ”تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، حدثني ابو مرحوم، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل طعاما فقال الحمد لله الذي اطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة . غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال هذا حديث حسن غريب وابو مرحوم اسمه عبد الرحيم بن ميمون
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم صياح الديكة فاسالوا الله من فضله فانها رات ملكا واذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فانه راى شيطانا " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر جو کوئی بھی بندہ: «لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا ”اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت“، اس کے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بہت زیادہ ) ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد الكوفي، حدثنا عبد الله بن ابي بكر السهمي، عن حاتم بن ابي صغيرة، عن ابي بلج، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما على الارض احد يقول لا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله . الا كفرت عنه خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى شعبة هذا الحديث عن ابي بلج بهذا الاسناد نحوه ولم يرفعه وابو بلج اسمه يحيى بن ابي سليم ويقال ايضا يحيى بن سليم . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن حاتم بن ابي صغيرة، عن ابي بلج، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وحاتم يكنى ابا يونس القشيري . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن ابي بلج، نحوه ولم يرفعه
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار، حدثنا ابو نعامة السعدي، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي موسى الاشعري، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة فلما قفلنا اشرفنا على المدينة فكبر الناس تكبيرة ورفعوا بها اصواتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ربكم ليس باصم ولا غايب هو بينكم وبين رءوس رحالكم " . ثم قال " يا عبد الله بن قيس الا اعلمك كنزا من كنوز الجنة لا حول ولا قوة الا بالله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو عثمان النهدي اسمه عبد الرحمن بن مل وابو نعامة اسمه عمرو بن عيسى . ومعنى قوله بينكم وبين رءوس رحالكم يعني علمه وقدرته
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ”اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ( زرخیز ) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے ۱؎ اور اس کی باغبانی: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» سے ہوتی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا سيار، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقيت ابراهيم ليلة اسري بي فقال يا محمد اقري امتك مني السلام واخبرهم ان الجنة طيبة التربة عذبة الماء وانها قيعان وان غراسها سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر " . قال وفي الباب عن ابي ايوب . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابن مسعود
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے؟“ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا ( یعنی سبحان اللہ ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا موسى الجهني، حدثني مصعب بن سعد، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لجلسايه " ايعجز احدكم ان يكسب الف حسنة " . فساله سايل من جلسايه كيف يكسب احدنا الف حسنة قال " يسبح احدكم ماية تسبيحة تكتب له الف حسنة وتحط عنه الف سيية " . قال هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اور ہم اسے صرف ابوالزبیر کی روایت سے جسے وہ جابر کے واسطے سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، وغير، واحد، قالوا حدثنا روح بن عبادة، عن حجاج الصواف، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله العظيم وبحمده . غرست له نخلة في الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث ابي الزبير عن جابر
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا المومل، عن حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله العظيم وبحمده غرست له نخلة في الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو بار: «سبحان الله وبحمده» کہے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، حدثنا المحاربي، عن مالك بن انس، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده ماية مرة غفرت له ذنوبه وان كانت مثل زبد البحر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا محمد بن الفضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان الى الرحمن سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم " . قال هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ۱؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہو گا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير في يوم ماية مرة كانت له عدل عشر رقاب وكتبت له ماية حسنة ومحيت عنه ماية سيية وكان له حرزا من الشيطان يومه ذلك حتى يمسي ولم يات احد بافضل مما جاء به الا احد عمل اكثر من ذلك " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال سبحان الله وبحمده ماية مرة حطت خطاياه وان كانت اكثر من زبد البحر " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح و شام میں سو ( سو ) مرتبہ: «سبحان الله وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح وحين يمسي سبحان الله وبحمده ماية مرة لم يات احد يوم القيامة بافضل مما جاء به الا احد قال مثل ما قال او زاد عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب