Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: «سبحان الله وبحمده» کہا کرو، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الكوفي، حدثنا داود بن الزبرقان، عن مطر الوراق، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم لاصحابه " قولوا سبحان الله وبحمده ماية مرة من قالها مرة كتبت له عشرا ومن قالها عشرا كتبت له ماية ومن قالها ماية كتبت له الفا ومن زاد زاده الله ومن استغفر غفر الله له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سو بار صبح اور سو بار شام تسبیح پڑھی ( یعنی «سبحان الله» کہا ) تو وہ سو حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہو جاتا ہے۔ اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام میں اللہ کی حمد بیان کی ( یعنی «الحمدللہ» کہا ) اس نے تو ان فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے سو گھوڑے فراہم کئے ( راوی کو شک ہو گیا یہ کہا یا یہ کہا ) تو ان اس نے سو جہاد کئے، اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو اللہ کی تہلیل بیان کی ( یعنی «لا إلہ الا اللہ» ) کہا تو وہ ایسا ہو جائے گا تو ان اس نے اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو «اللہ اکبر» کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہو گا، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہو گا یا اس کے برابر کہا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا ابو سفيان الحميري، هو سعيد بن يحيى الواسطي عن الضحاك بن حمرة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سبح الله ماية بالغداة وماية بالعشي كان كمن حج ماية مرة ومن حمد الله ماية بالغداة وماية بالعشي كان كمن حمل على ماية فرس في سبيل الله او قال غزا ماية غزوة ومن هلل الله ماية بالغداة وماية بالعشي كان كمن اعتق ماية رقبة من ولد اسماعيل ومن كبر الله ماية بالغداة وماية بالعشي لم يات في ذلك اليوم احد باكثر مما اتى به الا من قال مثل ما قال او زاد على ما قال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
زہری کہتے ہیں کہ رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حدثنا الحسين بن الاسود العجلي البغدادي، حدثنا يحيى بن ادم، عن الحسن بن صالح، عن ابي بشر، عن الزهري، قال تسبيحة في رمضان افضل من الف تسبيحة في غيره
تمیم الداری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دس مرتبہ ( یہ دعا ) «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له إلها واحدا أحدا صمدا لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ولم يكن له كفوا أحد» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ تنہا اکیلا معبود ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ اپنا کوئی شریک حیات بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے“، پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے چار کروڑ نیکیاں لکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- خلیل بن مرہ محدثین کے یہاں قوی نہیں ہیں اور محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن الخليل بن مرة، عن الازهر بن عبد الله، عن تميم الداري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من قال اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له الها واحدا احدا صمدا لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ولم يكن له كفوا احد عشر مرات كتب الله له اربعين الف الف حسنة " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . والخليل بن مرة ليس بالقوي عند اصحاب الحديث . قال محمد بن اسماعيل هو منكر الحديث
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے ( دو زانوں ) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا علي بن معبد المصري، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن زيد بن ابي انيسة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن ابي ذر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال في دبر صلاة الفجر وهو ثاني رجليه قبل ان يتكلم لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير عشر مرات كتب له عشر حسنات ومحي عنه عشر سييات ورفع له عشر درجات وكان يومه ذلك في حرز من كل مكروه وحرس من الشيطان ولم ينبغ لذنب ان يدركه في ذلك اليوم الا الشرك بالله " . قال هذا حديث حسن غريب صحيح
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا ( معبود ) ہے تو بے نیاز ہے، ( تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں ) ، ( تو ایسا بے نیاز ہے ) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے“، دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے“۔ زید ( راوی ) کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کئی برسوں بعد زہیر بن معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسحاق نے مالک بن مغول کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ زید کہتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث مالک کے واسطے سے بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شریک نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ رضی الله عنہ ) سے روایت کی ہے، حالانکہ ابواسحاق ہمدانی نے یہ حدیث مالک بن مغول سے روایت کی ہے۔
حدثنا جعفر بن محمد بن عمران الثعلبي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، عن مالك بن مغول، عن عبد الله بن بريدة الاسلمي، عن ابيه، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو وهو يقول اللهم اني اسالك باني اشهد انك انت الله لا اله الا انت الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد . قال فقال " والذي نفسي بيده لقد سال الله باسمه الاعظم الذي اذا دعي به اجاب واذا سيل به اعطى " . قال زيد فذكرته لزهير بن معاوية بعد ذلك بسنين فقال حدثني ابو اسحاق عن مالك بن مغول . قال زيد ثم ذكرته لسفيان الثوري فحدثني عن مالك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى شريك هذا الحديث عن ابي اسحاق عن ابن بريدة عن ابيه وانما اخذه ابو اسحاق الهمداني عن مالك بن مغول وانما دلسه . وروى شريك هذا الحديث عن ابي اسحاق
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ ( مسجد میں ) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر“، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا رشدين بن سعد، عن ابي هاني الخولاني، عن ابي علي الجنبي، عن فضالة بن عبيد، قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا اذ دخل رجل فصلى فقال اللهم اغفر لي وارحمني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عجلت ايها المصلي اذا صليت فقعدت فاحمد الله بما هو اهله وصل على ثم ادعه " . قال ثم صلى رجل اخر بعد ذلك فحمد الله وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ايها المصلي ادع تجب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن رواه حيوة بن شريح عن ابي هاني الخولاني وابو هاني اسمه حميد بن هاني وابو علي الجنبي اسمه عمرو بن مالك
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز کے اندر ۱؎ دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے جلدی کی“، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، ”جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ۲؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا حيوة بن شريح، حدثني ابو هاني الخولاني، ان عمرو بن مالك الجنبي، اخبره انه، سمع فضالة بن عبيد، يقول سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو في صلاته فلم يصل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عجل هذا " . ثم دعاه فقال له او لغيره " اذا صلى احدكم فليبدا بتحميد الله والثناء عليه ثم ليصل على النبي صلى الله عليه وسلم ثم ليدع بعد بما شاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ( ایک آیت ) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ”تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے“ ( البقرہ: ۱۶۳ ) ، اور ( دوسری آیت ) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے ” «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے“ ( آل عمران: ۱-۲ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله بن ابي زياد القداح، كذا قال عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسم الله الاعظم في هاتين الايتين : ( والهكم اله واحد لا اله الا هو الرحمن الرحيم ) وفاتحة ال عمران (الم * الله لا اله الا هو الحى القيوم ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہو گی، اور ( اچھی طرح ) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بے توجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، - وهو رجل صالح حدثنا صالح المري، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادعوا الله وانتم موقنون بالاجابة واعلموا ان الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . سمعت عباسا العنبري يقول اكتبوا عن عبد الله بن معاوية الجمحي فانه ثقة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين» ”اے اللہ! تو مجھے میرے جسم میں عافیت عطا کر ( یعنی مجھے صحت دے ) اور مجھے عافیت دے میری نگاہوں میں ( یعنی میری بینائی صحیح سالم رکھ ) اور اسے ( یعنی میری نگاہ کو ) آخری وقت تک ( یعنی بصارت کو باقی و قائم رکھ چاہے اور کسی چیز میں اضم حلال اور زوال آ جائے تو آ جائے ) کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے جو حلیم اور کریم ہے، پاک ہے اللہ عرش عظیم والا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے کچھ بھی نہیں سنا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا معاوية بن هشام، عن حمزة الزيات، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . قال سمعت محمدا يقول حبيب بن ابي ثابت لم يسمع من عروة بن الزبير شييا وحبيب بن ابي ثابت هو حبيب بن قيس بن دينار وقد ادرك عمر وابن عباس والله اعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ ( بنت رسول ) رضی الله عنہا آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوى أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے ( شروع سے ہے ) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( یعنی اوپر ہے ) ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ۲- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال جاءت فاطمة الى النبي صلى الله عليه وسلم تساله خادما فقال لها " قولي اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والانجيل والقران فالق الحب والنوى اعوذ بك من شر كل شيء انت اخذ بناصيته انت الاول فليس قبلك شيء وانت الاخر فليس بعدك شيء وانت الظاهر فليس فوقك شيء وانت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين واغنني من الفقر " . قال هذا حديث حسن غريب وهكذا روى بعض اصحاب الاعمش عن الاعمش نحو هذا . وروى بعضهم عن الاعمش عن ابي صالح مرسل ولم يذكر فيه عن ابي هريرة
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بك من هؤلاء الأربع» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ( یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو ) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے ( یعنی ) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن الحارث، عن زهير بن الاقمر، عن عبد الله بن عمرو، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من قلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع اعوذ بك من هولاء الاربع " . قال وفي الباب عن جابر وابي هريرة وابن مسعود . قال وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث عبد الله بن عمرو
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: ”اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟“ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں ( رہتے ہیں ) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ”ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: ”اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے“، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» ”اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن شبيب بن شيبة، عن الحسن البصري، عن عمران بن حصين، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لابي " يا حصين كم تعبد اليوم الها " . قال ابي سبعة ستا في الارض وواحدا في السماء . قال " فايهم تعد لرغبتك ورهبتك " . قال الذي في السماء . قال " يا حصين اما انك لو اسلمت علمتك كلمتين تنفعانك " . قال فلما اسلم حصين قال يا رسول الله علمني الكلمتين اللتين وعدتني . فقال " قل اللهم الهمني رشدي واعذني من شر نفسي " . قال هذا حديث حسن غريب . وقد روي هذا الحديث عن عمران بن حصين من غير هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا ابو مصعب المدني، عن عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك، رضى الله عنه قال كثيرا ما كنت اسمع النبي صلى الله عليه وسلم يدعو بهولاء الكلمات " اللهم اني اعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث عمرو بن ابي عمرو
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے ( جس میں آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ) بزدلی و بخالت سے اور مسیح ( دجال ) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو يقول " اللهم اني اعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کر لیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی“۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، - بصري - حدثنا عثام بن علي، عن الاعمش، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يعقد التسبيح . وقال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث الاعمش عن عطاء بن السايب . وروى شعبة والثوري هذا الحديث عن عطاء بن السايب بطوله . وفي الباب عن يسيرة بنت ياسر عن النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر النساء اعقدن بالانامل فانهن مسيولات مستنطقات
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حميد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا قد جهد حتى صار مثل الفرخ فقال له " اما كنت تدعو اما كنت تسال ربك العافية " . قال كنت اقول اللهم ما كنت معاقبي به في الاخرة فعجله لي في الدنيا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سبحان الله انك لا تطيقه - او لا تستطيعه افلا كنت تقول اللهم اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي من غير وجه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله البزاز، حدثنا روح بن عبادة، عن هشام بن حسان، عن الحسن، في قوله : ( ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة ) قال في الدنيا العلم والعبادة وفي الاخرة الجنة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت ابا الاحوص، يحدث عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو " اللهم اني اسالك الهدى والتقى والعفاف والغنى " . قال هذا حديث حسن صحيح