احادیث
#3487
سنن ترمذی - Supplication
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے“ ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حميد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا قد جهد حتى صار مثل الفرخ فقال له " اما كنت تدعو اما كنت تسال ربك العافية " . قال كنت اقول اللهم ما كنت معاقبي به في الاخرة فعجله لي في الدنيا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سبحان الله انك لا تطيقه - او لا تستطيعه افلا كنت تقول اللهم اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي من غير وجه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3487
- Book Index
- 118
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
