Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: «اللهم إني أسألك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے“، ( راوی ) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا محمد بن فضيل، عن محمد بن سعد الانصاري، عن عبد الله بن ربيعة الدمشقي، حدثنا عايذ الله ابو ادريس الخولاني، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كان من دعاء داود يقول اللهم اني اسالك حبك وحب من يحبك والعمل الذي يبلغني حبك اللهم اجعل حبك احب الى من نفسي واهلي ومن الماء البارد " . قال وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذكر داود يحدث عنه قال " كان اعبد البشر " . قال هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» ”اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابن ابي عدي، عن حماد بن سلمة، عن ابي جعفر الخطمي، عن محمد بن كعب القرظي، عن عبد الله بن يزيد الخطمي الانصاري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يقول في دعايه " اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما احب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما احب فاجعله لي فراغا فيما تحب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وابو جعفر الخطمي اسمه عمير بن يزيد بن خماشة
شکل بن حمید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ ( پناہ لینے کی دعا ) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کر لیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو ( پڑھو ) : «اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے“ ( منی سے مراد شرمگاہ ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی «سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سعد بن اوس، عن بلال بن يحيى العبسي، عن شتير بن شكل، عن ابيه، شكل بن حميد قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله علمني تعوذا اتعوذ به . قال فاخذ بكتفي فقال " قل اللهم اني اعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي " . يعني فرجه . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث سعد بن اوس عن بلال بن يحيى
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ رضی الله عنہا سے آئی ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، ان عايشة، قالت كنت نايمة الى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم ففقدته من الليل فلمسته فوقعت يدي على قدميه وهو ساجد وهو يقول " اعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك " . قال هذا حديث حسن قد روي من غير وجه عن عايشة . حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، بهذا الاسناد نحوه . وزاد فيه " واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ( صحابہ کو ) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے ( کشمکش ) سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي الزبير المكي، عن طاوس اليماني، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القران " اللهم اني اعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح [غريب]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، ( جہنم میں لے جانے والے اعمال سے ) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، ( منکر نکیر کے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے ) مالداری کے فتنے کے شر سے ( تکبر اور کسب حرام سے ) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، ( حسد اور طمع سے ) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو بهولاء الكلمات " اللهم اني اعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وعذاب القبر وفتنة القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد وانق قلبي من الخطايا كما انقيت الثوب الابيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم اني اعوذ بك من الكسل والهرم والماثم والمغرم " . قال هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات کے وقت ( یہ دعا ) پڑھتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ ( انبیاء و ملائکہ ) سے ملا دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عند وفاته " اللهم اغفر لي وارحمني والحقني بالرفيق الاعلى " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( کوئی شخص دعا مانگے تو ) اس طرح نہ کہے: ”اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما“ ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں ( کہ کہا جائے: اگر تو چاہے ) ، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقول احدكم اللهم اغفر لي ان شيت اللهم ارحمني ان شيت ليعزم المسالة فانه لا مكره له " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے: ”کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابوسعید، جبیر بن مطعم، رفاعہ جہنی، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي عبد الله الاغر، وعن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ربنا كل ليلة الى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الاخر فيقول من يدعوني فاستجيب له ومن يسالني فاعطيه ومن يستغفرني فاغفر له " . قال هذا حديث حسن صحيح . وابو عبد الله الاغر اسمه سلمان . قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وابي سعيد وجبير بن مطعم ورفاعة الجهني وابي الدرداء وعثمان بن ابي العاصي
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آدھی رات کے آخر کی دعا ( یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا ) اور فرض نمازوں کے اخیر میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی“۔
حدثنا محمد بن يحيى الثقفي المروزي، حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عبد الرحمن بن سابط، عن ابي امامة، قال قيل يا رسول الله اى الدعاء اسمع قال " جوف الليل الاخر ودبر الصلوات المكتوبات " . قال هذا حديث حسن . وقد روي عن ابي ذر وابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " جوف الليل الاخر الدعاء فيه افضل او ارجى " . او نحو هذا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے“، آپ نے فرمایا: ”کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا عبد الحميد بن عمر الهلالي، عن سعيد بن اياس الجريري، عن ابي السليل، عن ابي هريرة، ان رجلا، قال يا رسول الله سمعت دعاءك الليلة فكان الذي وصل الى منه انك تقول " اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في رزقي وبارك لي فيما رزقتني " . قال " فهل تراهن تركن شييا " . قال هذا حديث غريب . وابو السليل اسمه ضريب بن نفير ويقال ابن نقير
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا حيوة بن شريح، وهو ابن يزيد الحمصي عن بقية بن الوليد، عن مسلم بن زياد، قال سمعت انسا، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح اللهم اصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملايكتك وجميع خلقك بانك الله لا اله الا انت وحدك لا شريك لك وان محمدا عبدك ورسولك . الا غفر الله له ما اصاب في يومه ذلك وان قالها حين يمسي غفر الله له ما اصاب في تلك الليلة من ذنب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو ( ہماری موت تک ) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو ) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن زحر، عن خالد بن ابي عمران، ان ابن عمر، قال قلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم من مجلس حتى يدعو بهولاء الكلمات لاصحابه " اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا باسماعنا وابصارنا وقوتنا ما احييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثارنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا اكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن خالد بن ابي عمران عن نافع عن ابن عمر
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عثمان الشحام، حدثني مسلم بن ابي بكرة، قال سمعني ابي، وانا اقول اللهم، اني اعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر . قال يا بنى ممن سمعت هذا قال قلت سمعتك تقولهن . قال الزمهن فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولهن . قال هذا حديث حسن [صحيح][غريب]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم» ”اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم ( بردبار مہربان ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے“۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، رضى الله عنه قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اعلمك كلمات اذا قلتهن غفر الله لك وان كنت مغفورا لك " . قال " قل لا اله الا الله العلي العظيم لا اله الا الله الحليم الكريم لا اله الا الله سبحان الله رب العرش العظيم " . قال علي بن خشرم واخبرنا علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، بمثل ذلك الا انه قال في اخرها " الحمد لله رب العالمين " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث ابي اسحاق عن الحارث عن علي
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون ( یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم ( خطاکار ) ہوں“، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ۲- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابراهيم بن محمد بن سعد، عن ابيه، عن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوة ذي النون اذ دعا وهو في بطن الحوت لا اله الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين . فانه لم يدع بها رجل مسلم في شيء قط الا استجاب الله له " . قال محمد بن يحيى قال محمد بن يوسف مرة عن ابراهيم بن محمد بن سعد، عن سعد، . قال ابو عيسى وقد روى غير، واحد، هذا الحديث عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابراهيم بن محمد بن سعد، عن سعد، ولم يذكروا فيه عن ابيه، . وروى بعضهم، عن يونس بن ابي اسحاق، فقالوا عن ابراهيم بن محمد بن سعد، عن ابيه، عن سعد، وكان، يونس بن ابي اسحاق ربما ذكر في هذا الحديث عن ابيه، وربما، لم يذكره
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ۱؎ نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۲؎۔
حدثنا يوسف بن حماد البصري، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان لله تسعة وتسعين اسما ماية غير واحد من احصاها دخل الجنة " . قال يوسف وحدثنا عبد الاعلى، عن هشام بن حسان، عن محمد، عن ابي هريرة، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم . هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جو انہیں شمار کرے ( گنے ) گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف و اعلی، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «الملك» ”بادشاہ“، «القدوس» ”نہایت پاک“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”پیدا کرنے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الغفار» ”بہت بخشنے والا ‘، «القهار» ”قہر والا“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «الفتاح» ”فیصلہ چکانے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”بلند کرنے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «الحكم» ”فیصلہ کرنے والا“، «العدل» ”انصاف والا“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «العلي» ”اونچا“، «الكبير» ”بڑا“، «الحفيظ» ”نگہبان“، «المقيت» ”طاقت و قوت والا“، «الحسيب» ”حساب لینے والا“، «الجليل» ”بزرگ“، «الكريم» ”کرم والا“، «الرقيب» ”مطلع رہنے والا“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الواسع» ”کشادگی اور وسعت والا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الشهيد» ”نگراں، حاضر“، «الحق» ”سچا“، «الوكيل» ”کار ساز“، «القوي» ”طاقتور“، «المتين» ”مضبوط“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے و قائم رکھنے والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «القادر» ”قدرت والا“، «المقتدر» ”طاقتور پکڑنے والا“، «المقدم» ”پہلا“، «المؤخر» ”پچھلا“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”پوشیدہ، مخفی“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «المتعالي» ”برتر“، «البر» ”بھلائی والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «المنتقم» ”انتقام لینے والا“، «العفو» ”درگذر کرنے والا“، «الرءوف» ”شفقت والا، مہربان“، «مالك الملك» ”تمام جہاں کا مالک“، «ذو الجلال والإكرام» ”عزت و جلال والا“، «المقسط» ”انصاف کرنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الغني» ”تونگر و بے نیاز“، «المغني» ”بے نیاز“، «المانع» ”روکنے والا“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع پہنچانے والا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «الهادي» ”ہدایت بخشنے والا“، «البديع» ”از سر نو پیدا کرنے والا“، «الباقي» ”قائم رہنے والا“، «الوارث» ”وارث“، «الرشيد» ”خیر و بھلائی والا“، «الصبور» ”بردبار“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم سے کئی راویوں نے یہ حدیث صفوان بن ابوصالح کے واسطے سے بیان کی ہے، اور یہ حدیث ہم صرف صفوان بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں اور صفوان بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ہم اکثر و بیشتر روایات کو جن میں اسماء الٰہی کا ذکر ہے، اس حدیث کے سوا کسی حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں پاتے، ۴- آدم ابن ابی ایاس نے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دو سری سند سے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا ( یاد رکھا ) وہ جنت میں جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر نہیں ہے، ۳- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان لله تسعة وتسعين اسما من احصاها دخل الجنة " . قال وليس في هذا الحديث ذكر الاسماء . قال وهذا حديث حسن صحيح . رواه ابو اليمان عن شعيب بن ابي حمزة عن ابي الزناد ولم يذكر فيه الاسماء
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو“، میں پوچھا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «رياض الجنة» مساجد ہیں“، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، حدثنا زيد بن حباب، ان حميدا المكي، مولى ابن علقمة حدثه ان عطاء بن ابي رباح حدثه عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا " . قلت يا رسول الله وما رياض الجنة قال " المساجد " . قلت وما الرتع يا رسول الله قال " سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
حدثنا ابراهيم بن يعقوب الجوزجاني، حدثني صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله تعالى تسعة وتسعين اسما ماية غير واحدة من احصاها دخل الجنة هو الله الذي لا اله الا هو الرحمن الرحيم الملك القدوس السلام المومن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الخالق الباري المصور الغفار القهار الوهاب الرزاق الفتاح العليم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السميع البصير الحكم العدل اللطيف الخبير الحليم العظيم الغفور الشكور العلي الكبير الحفيظ المقيت الحسيب الجليل الكريم الرقيب المجيب الواسع الحكيم الودود المجيد الباعث الشهيد الحق الوكيل القوي المتين الولي الحميد المحصي المبدي المعيد المحيي المميت الحى القيوم الواجد الماجد الواحد الصمد القادر المقتدر المقدم الموخر الاول الاخر الظاهر الباطن الوالي المتعالي البر التواب المنتقم العفو الرءوف مالك الملك ذو الجلال والاكرام المقسط الجامع الغني المغني المانع الضار النافع النور الهادي البديع الباقي الوارث الرشيد الصبور " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حدثنا به غير واحد عن صفوان بن صالح . ولا نعرفه الا من حديث صفوان بن صالح وهو ثقة عند اهل الحديث . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا نعلم - في كبير شيء من الروايات له اسناد صحيح ذكر الاسماء الا في هذا الحديث . وقد روى ادم بن ابي اياس هذا الحديث باسناد غير هذا عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وذكر فيه الاسماء وليس له اسناد صحيح