Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم ( کچھ ) چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثني ابي قال، حدثنا محمد بن ثابت البناني، قال حدثني ابي، عن انس بن مالك، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا " . قال وما رياض الجنة قال " حلق الذكر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ثابت عن انس
ابوسلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ”ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر ( صبر کرنے کا ) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے“، پڑھنا چاہیئے، پھر جب ابوسلمہ رضی الله عنہ کی موت کا وقت آ گیا تو انہوں نے دعا کی: «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» ”اے اللہ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے“، اور جب ان کی موت واقع ہو گئی تو ام سلمہ رضی الله عنہا نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون عند الله احتسبت مصيبتي فأجرني فيها» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ۳- اور ابوسلمہ رضی الله عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن عمرو بن ابي سلمة، عن امه ام سلمة، عن ابي سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اصاب احدكم مصيبة فليقل : ( انا لله وانا اليه راجعون ) اللهم عندك احتسبت مصيبتي فاجرني فيها وابدلني منها خيرا " . فلما احتضر ابو سلمة قال اللهم اخلف في اهلي خيرا مني فلما قبض قالت ام سلمة : ( انا لله وانا اليه راجعون ) عند الله احتسبت مصيبتي فاجرني فيها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وروي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ام سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم وابو سلمة اسمه عبد الله بن عبد الاسد
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا سلمة بن وردان، عن انس بن مالك، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل قال " سل ربك العافية والمعافاة في الدنيا والاخرة " . ثم اتاه في اليوم الثاني فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل فقال له مثل ذلك ثم اتاه في اليوم الثالث فقال له مثل ذلك . قال " فاذا اعطيت العافية في الدنيا واعطيتها في الاخرة فقد افلحت " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه انما نعرفه من حديث سلمة بن وردان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”پڑھو «اللهم إنك عفو كريم تحب العفو فاعف عني» ”اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله ارايت ان علمت اى ليلة ليلة القدر ما اقول فيها قال " قولي اللهم انك عفو كريم تحب العفو فاعف عني " . قال هذا حديث حسن صحيح
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے ( یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے ) ۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبيدة بن حميد، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الله بن الحارث، عن العباس بن عبد المطلب، قال قلت يا رسول الله علمني شييا اساله الله عز وجل . قال " سل الله العافية " . فمكثت اياما ثم جيت فقلت يا رسول الله علمني شييا اساله الله . فقال لي " يا عباس يا عم رسول الله سل الله العافية في الدنيا والاخرة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وعبد الله بن الحارث بن نوفل قد سمع من العباس بن عبد المطلب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت ( دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات ) مانگی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملیکی کی روایت سے جانتے ہیں، ( اور یہ ضعیف ہیں ) ۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا اسحاق بن منصور الكوفي، عن اسراييل، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، وهو المليكي عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما سيل الله شييا احب اليه من ان يسال العافية " . هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن ابي بكر المليكي
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: «اللهم خر لي واختر لي» ”اے اللہ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۲- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے ( کسی اور نے نہیں ) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابراهيم بن عمر بن ابي الوزير، حدثنا زنفل بن عبد الله ابو عبد الله، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، عن ابي بكر الصديق، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد امرا قال " اللهم خر لي واختر لي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث زنفل . وهو ضعيف عند اهل الحديث ويقال له زنفل العرفي وكان سكن عرفات وتفرد بهذا الحديث ولا يتابع عليه
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» ( اللہ کی حمد ) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو ( اجر و ثواب سے ) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے ( ایمان کی ) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چنانچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے ) اس کو ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے، یا ( شیطان کے ہاں فروخت کر کے ) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا ابان، هو ابن يزيد العطار حدثنا يحيى، ان زيد بن سلام، حدثه ان ابا سلام حدثه عن ابي مالك الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوضوء شطر الايمان والحمد لله تملا الميزان وسبحان الله والحمد لله تملان او تملا ما بين السموات والارض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء والقران حجة لك او عليك كل الناس يغدو فبايع نفسه فمعتقها او موبقها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تسبيح» ( سبحان اللہ کہنے سے ) نصف میزان ( آدھا پلڑا ) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان ( پلڑے کے باقی خالی حصے ) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» کے تو اللہ تک پہنچنے میں کوئی حجاب و رکاوٹ ہے ہی نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح نصف الميزان والحمد لله يملوه ولا اله الا الله ليس لها دون الله حجاب حتى تخلص اليه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه وليس اسناده بالقوي . وعبد الرحمن بن زياد بن انعم هو الافريقي وقد ضعفه احمد بن حنبل ويحيى بن معين وعبد الله بن يزيد هو ابو عبد الرحمن الحبلي
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن جرى النهدي، عن رجل، من بني سليم قال عدهن رسول الله صلى الله عليه وسلم في يدي او في يده " التسبيح نصف الميزان والحمد يملوه والتكبير يملا ما بين السماء والارض والصوم نصف الصبر والطهور نصف الايمان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد رواه شعبة وسفيان الثوري عن ابي اسحاق
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی: «اللهم لك الحمد كالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح» ”اے اللہ! تیرے لیے ہی ہیں سب تعریفیں جیسی کہ تو نے ہمیں بتائی ہیں اور اس سے بہتر جیسی کہ ہم تیری تعریف کر سکتے ہیں، اے اللہ! تیرے لیے ہی ہے میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! تیرے لیے ہی ہے میری میراث، اے اللہ میں عذاب قبر سے، سینے کے وسوسہ سے اور متفرق و پراگندہ کام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب، حدثنا علي بن ثابت، حدثني قيس بن الربيع، وكان، من بني اسد عن الاغر بن الصباح، عن خليفة بن حصين، عن علي بن ابي طالب، قال اكثر ما دعا به رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة في الموقف " اللهم لك الحمد كالذي تقول وخيرا مما نقول اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي واليك مابي ولك رب تراثي اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الامر اللهم اني اعوذ بك من شر ما تجيء به الريح " . قال هذا حديث غريب من هذا الوجه وليس اسناده بالقوي
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں ( دعاؤں ) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ”اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی ( خیر ) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر ( برائی ) سے جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے ( خیر و شر کا ) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب، حدثنا عمار بن محمد ابن اخت، سفيان الثوري حدثنا الليث بن ابي سليم، عن عبد الرحمن بن سابط، عن ابي امامة، قال دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بدعاء كثير لم نحفظ منه شييا قلنا يا رسول الله دعوت بدعاء كثير لم نحفظ منه شييا . فقال " الا ادلكم على ما يجمع ذلك كله تقول اللهم انا نسالك من خير ما سالك منه نبيك محمد ونعوذ بك من شر ما استعاذ بك منه نبيك محمد وانت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة الا بالله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے ( دین حق پر ) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر ( راوی حدیث ) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی ( گمراہی ) نہ پیدا کر“ ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو موسى الانصاري، حدثنا معاذ بن معاذ، عن ابي كعب، صاحب الحرير حدثني شهر بن حوشب، قال قلت لام سلمة يا ام المومنين ما كان اكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان عندك قالت كان اكثر دعايه " يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك " . قالت قلت يا رسول الله ما لاكثر دعايك يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك قال " يا ام سلمة انه ليس ادمي الا وقلبه بين اصبعين من اصابع الله فمن شاء اقام ومن شاء ازاغ " . فتلا معاذ : ( ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا ) قال وفي الباب عن عايشة والنواس بن سمعان وانس وجابر وعبد الله بن عمرو ونعيم بن همار . قال وهذا حديث حسن
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خالد بن ولید مخزومی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو: «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارك وجل ثناؤك ولا إله غيرك لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا پڑوسی بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کر سکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیرا پڑوسی باعزت ہو، اور تیری ثنا ( و تعریف ) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود تو بس تو ہی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ۳- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب، حدثنا الحكم بن ظهير، حدثنا علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال شكا خالد بن الوليد المخزومي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما انام الليل من الارق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اويت الى فراشك فقل اللهم رب السموات السبع وما اظلت ورب الارضين وما اقلت ورب الشياطين وما اضلت كن لي جارا من شر خلقك كلهم جميعا ان يفرط على احد منهم او ان يبغي على عز جارك وجل ثناوك ولا اله غيرك ولا اله الا انت " . قال هذا حديث ليس اسناده بالقوي . والحكم بن ظهير قد ترك حديثه بعض اهل الحديث ويروى هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا من غير هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
حدثنا محمد بن حاتم المكتب، حدثنا ابو بدر، شجاع بن الوليد عن الرحيل بن معاوية، اخي زهير بن معاوية عن الرقاشي، عن انس بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا كربه امر قال " يا حى يا قيوم برحمتك استغيث " . وباسناده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الظوا بيا ذا الجلال والاكرام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روي هذا الحديث عن انس من غير هذا الوجه
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإكرام» کو لازم پکڑو ( یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ۲- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چنانچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا المومل، عن حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الظوا بيا ذا الجلال والاكرام " . قال هذا حديث غريب وليس بمحفوظ . وانما يروى هذا عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا اصح ومومل غلط فيه فقال عن حماد عن حميد عن انس ولا يتابع فيه
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين، عن شهر بن حوشب، عن ابي امامة الباهلي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اوى الى فراشه طاهرا يذكر الله حتى يدركه النعاس لم ينقلب ساعة من الليل يسال الله شييا من خير الدنيا والاخرة الا اعطاه الله اياه " . قال هذا حديث حسن غريب . وقد روي هذا ايضا عن شهر بن حوشب عن ابي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألك تمام النعمة» ”اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں“، آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”نعمت تامہ کیا چیز ہے؟“ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہو گی، آپ نے فرمایا: ”بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں“۔ آپ نے ایک اور آدمی کو ( بھی ) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: ” «يا ذا الجلال والإكرام» “، آپ نے فرمایا: ”تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے ( جو تجھے مانگنا ہو ) “، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألك الصبر» ”اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن الجريري، عن ابي الورد، عن اللجلاج، عن معاذ بن جبل، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو يقول اللهم اني اسالك تمام النعمة . فقال " اى شيء تمام النعمة " . قال دعوة دعوت بها ارجو بها الخير . قال " فان من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار " . وسمع رجلا وهو يقول يا ذا الجلال والاكرام فقال " قد استجيب لك فسل " . وسمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا وهو يقول اللهم اني اسالك الصبر . فقال " سالت الله البلاء فسله العافية " . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن الجريري، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں““۔ ( یہ دعا پڑھنے سے ) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ ( تاکہ وہ اسے یاد کر لیں، نہ کہ تعویذ کے طور پر ) عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا فزع احدكم في النوم فليقل اعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وان يحضرون . فانها لن تضره " . قال وكان عبد الله بن عمرو يلقنها من بلغ من ولده ومن لم يبلغ منهم كتبها في صك ثم علقها في عنقه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا: یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کر دیا ہے ۱؎، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! ( یہ دعا ) پڑھا کرو: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب كل شيء ومليكه أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وأن أقترف على نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب ( پالنے والا ) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن زياد، عن ابي راشد الحبراني، قال اتيت عبد الله بن عمرو بن العاصي فقلت له حدثنا مما، سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم . فالقى الى صحيفة فقال هذا ما كتب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فنظرت فيها فاذا فيها ان ابا بكر الصديق رضى الله عنه قال يا رسول الله علمني ما اقول اذا اصبحت واذا امسيت . فقال " يا ابا بكر قل اللهم فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة لا اله الا انت رب كل شيء ومليكه اعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه وان اقترف على نفسي سوءا او اجره الى مسلم " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه