Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بےحیائی کی چیزیں حرام کر دی ہیں چاہے وہ کھلے طور پر ہوں یا پوشیدہ طور پر، اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ مدح ( تعریف ) پسند ہو، اسی لیے اللہ نے اپنی ذات کی تعریف خود آپ کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابا وايل، قال سمعت عبد الله بن مسعود، يقول قلت له اانت سمعته من عبد الله، قال نعم . ورفعه انه قال " لا احد اغير من الله ولذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا احد احب اليه المدح من الله ولذلك مدح نفسه " . قال هذا حديث حسن صحيح من هذا الوجه
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، عن ابي بكر الصديق، انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء ادعو به في صلاتي قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب الا انت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني انك انت الغفور الرحيم " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب وهو حديث ليث بن سعد وابو الخير اسمه مرثد بن عبد الله اليزني
عبدالمطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان انہوں نے کوئی بات سنی ( جس کی انہوں نے آپ کو خبر دی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ گئے، اور پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا، پھر اس گروہ میں بھی دو گروہ بنا دیئے اور مجھے ان دونوں گروہوں میں سے بہتر گروہ میں رکھا، پھر ان میں مختلف قبیلے بنا دیئے، تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھروں میں بانٹ دیا تو مجھے اچھے نسب والے بہترین خاندان اور گھر میں پیدا کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان حدثنا ابو احمد حدثنا سفيان عن يزيد بن ابي زياد عن عبد الله بن الحارث عن المطلب بن ابي وداعة قال جاء العباس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فكانه سمع شييا فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال من انا فقالوا انت رسول الله عليك السلام قال انا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب ان الله خلق الخلق فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم فرقتين فجعلني في خيرهم فرقة ثم جعلهم قبايل فجعلني في خيرهم قبيلة ثم جعلهم بيوتا فجعلني في خيرهم بيتا وخيرهم نسبا قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کی پتیاں سوکھ گئی تھیں، آپ نے اس پر اپنی چھڑی ماری تو پتیاں جھڑ پڑیں، آپ نے فرمایا: ” «الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے سے بندے کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کی پتیاں جھڑ گئیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اعمش کا انس سے سماع ہم نہیں جانتے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انہوں نے انس کو دیکھا ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا الفضل بن موسى، عن الاعمش، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بشجرة يابسة الورق فضربها بعصاه فتناثر الورق فقال " ان الحمد لله وسبحان الله ولا اله الا الله والله اكبر لتساقط من ذنوب العبد كما تساقط ورق هذه الشجرة " . قال هذا حديث غريب . ولا نعرف للاعمش سماعا من انس الا انه قد راه ونظر اليه
عمارہ بن شبیب سبائی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد دس بار کہا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» اللہ اس کی صبح تک حفاظت کے لیے مسلح فرشتے بھیجے گا جو اس کی شیطان سے حفاظت کریں گے اور اس کے لیے ان کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی جو اسے اجر و ثواب کا مستحق بنائیں گی اور اس کی مہلک برائیاں اور گناہ مٹا دیں گی اور اسے دس مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور ہم عمارہ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں جانتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن الجلاح ابي كثير، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عمارة بن شبيب السبيي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير . عشر مرات على اثر المغرب بعث الله له مسلحة يحفظونه من الشيطان حتى يصبح وكتب الله له بها عشر حسنات موجبات ومحا عنه عشر سييات موبقات وكانت له بعدل عشر رقاب مومنات " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ليث بن سعد . ولا نعرف لعمارة بن شبيب سماعا عن النبي صلى الله عليه وسلم
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھنے آیا، انہوں نے ( مجھ سے ) پوچھا اے زر کون سا جذبہ تمہیں لے کر یہاں آیا ہے، میں نے کہا: علم کی تلاش و طلب مجھے یہاں لے کر آئی ہے، انہوں نے کہا: فرشتے علم کی طلب و تلاش سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، میں نے ان سے کہا: پیشاب پاخانے سے فراغت کے بعد موزوں پر مسح کی بات میرے دل میں کھٹکی ( کہ مسح کریں یا نہ کریں ) میں خود بھی صحابی رسول ہوں، میں آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنی ہے؟ کہا: جی ہاں ( سنی ہے ) جب ہم سفر پر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ”ہم سفر کے دوران تین دن و رات اپنے موزے نہ نکالیں، مگر غسل جنابت کے لیے، پاخانہ پیشاب کر کے اور سو کر اٹھنے پر موزے نہ نکالیں“، ( پہنے رہیں، مسح کا وقت آئے ان پر مسح کر لیں ) میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انسان کی خواہش و تمنا کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ایک اعرابی نے آپ کو یا محمد! کہہ کر بلند آواز سے پکارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کی آواز میں جواب دیا، ”آ جاؤ ( میں یہاں ہوں ) “ ہم نے اس سے کہا: تمہارا ناس ہو، اپنی آواز دھیمی کر لو، کیونکہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہو، اور تمہیں اس سے منع کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلند آواز سے بولا جائے، اعرابی نے کہا: ( نہ ) قسم اللہ کی میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا، اس نے «المرء يحب القوم ولما يلحق بهم» ۱؎ کہہ کر آپ سے اپنی انتہائی محبت و تعلق کا اظہار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «المرء مع من أحب يوم القيامة» ”جو شخص جس شخص سے زیادہ محبت کرتا ہے قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ رہے گا“۔ وہ ہم سے ( یعنی زر کہتے ہیں ہم سے صفوان بن عسال ) حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے پچھمی سمت ( مغرب کی طرف ) میں ایک ایسے دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے ( راوی کو شک ہو گیا ہے یہ کہا یا یہ کہا ) کہ دروازے کی چوڑائی اتنی ہو گی ؛ سوار اس میں چلے گا تو چالیس سال یا ستر سال میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے گا، سفیان ( راوی ) کہتے ہیں: یہ دروازہ شام کی جانب پڑے گا، جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تبھی اللہ نے یہ دروازہ بھی بنایا ہے اور یہ دروازہ توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہوا ہے اور ( توبہ کا یہ دروازہ ) اس وقت تک بند نہ ہو گا جب تک کہ سورج اس دروازہ کی طرف سے ( یعنی پچھم سے ) طلوع نہ ہونے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”فرشتے طالب علم کے کام ( و مقصد ) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں ( یا سفر کرنے والے ہوں ) تو ہمیں حکم دیا گیا کہ ”ہم تین دن تک اپنے موزے پیروں سے نہ نکالیں، سوائے جنابت کی صورت میں، پاخانہ کر کے آئے ہوں یا پیشاب کر کے، یا سو کر اٹھے ہوں تو موزے نہ نکالیں“۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو محبت و چاہت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یا دہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو آپ کو ایک آدمی نے جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا اور گنوار، بیوقوف اور سخت مزاج تھا، بلند آواز سے پکارا، کہا: یا محمد! یا محمد! لوگوں نے اس سے کہا: ٹھہر، ٹھہر، اس طرح پکارنے سے تمہیں روکا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کی طرح بھاری اور بلند آواز میں جواب دیا: ”بڑھ آ، بڑھ آ، آ جا آ جا“ ( وہ جب قریب آ گیا ) تو بولا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے درجے تک نہیں پہنچا ہوتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا“۔ زر کہتے ہیں: وہ مجھ سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ”اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج ادھر سے نکلنے لگے ( یعنی قیامت تک ) اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: «يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها» ”جس دن کہ تیرے رب کی بعض آیات کا ظہور ہو گا اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان کام نہ دے گا“ ( الأنعام: ۱۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن زر بن حبيش، قال اتيت صفوان بن عسال المرادي فقال لي ما جاء بك قلت ابتغاء العلم . قال بلغني ان الملايكة تضع اجنحتها لطالب العلم رضا بما يفعل . قال قلت انه حاك او قال حك في نفسي شيء من المسح على الخفين فهل حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه شييا قال نعم كنا اذا كنا سفرا او مسافرين امرنا ان لا نخلع خفافنا ثلاثا الا من جنابة ولكن من غايط وبول ونوم . قال فقلت فهل حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في الهوى شييا قال نعم كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فناداه رجل كان في اخر القوم بصوت جهوري اعرابي جلف جاف فقال يا محمد يا محمد . فقال له القوم مه انك قد نهيت عن هذا . فاجابه رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوا من صوته هاوم فقال الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب " . قال زر فما برح يحدثني حتى حدثني ان الله جعل بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس من قبله وذلك قول الله عز وجل : ( يوم ياتي بعض ايات ربك لا ينفع نفسا ايمانها ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ ( موت کے وقت ) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب، حدثنا علي بن عياش، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، عن عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز ( خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، یعنی ابوالزناد کی روایت سے، ۲- یہ حدیث مکحول سے بھی ان کی اپنی سند سے آئی ہے، انہوں نے ابوذر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن مسعود، نعمان بن بشیر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لله افرح بتوبة احدكم من احدكم بضالته اذا وجدها " . قال وفي الباب عن ابن مسعود والنعمان بن بشير وانس . قال وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث ابي الزناد . وقد روي هذا الحديث�� عن مكحول باسناد له عن ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آ گیا تو انہوں نے کہا: میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے، ( میں اسے اس وقت ظاہر کر دینا چاہتا ہوں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث محمد بن کعب سے آئی ہے اور انہوں نے اسے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن محمد بن قيس، قاص عمر بن عبد العزيز عن ابي صرمة، عن ابي ايوب، انه قال حين حضرته الوفاة قد كتمت عنكم شييا سمعته من رسول الله سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لولا انكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون ويغفر لهم " . قال هذا حديث حسن غريب . وقد روي هذا، عن محمد بن كعب، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا بذلك، قتيبة حدثنا عبد الرحمن بن ابي الرجال، عن عمر، مولى غفرة عن محمد بن كعب، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ( اور تجھے بخش دوں گا ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الجوهري البصري، حدثنا ابو عاصم، حدثنا كثير بن فايد، حدثنا سعيد بن عبيد، قال سمعت بكر بن عبد الله المزني، يقول حدثنا انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله يا ابن ادم انك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان فيك ولا ابالي يا ابن ادم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا ابالي يا ابن ادم انك لو اتيتني بقراب الارض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شييا لاتيتك بقرابها مغفرة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں اور ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان دنیا میں رکھی، جس کی بدولت وہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آتے ہیں، جب کہ اللہ کے پاس ننانوے ( ۹۹ ) رحمتیں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلمان اور جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خلق الله ماية رحمة فوضع رحمة واحدة بين خلقه يتراحمون بها وعند الله تسعة وتسعون رحمة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن سلمان وجندب بن عبد الله بن سفيان البجلي وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف ابو العلاء کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ اپنے والد اور ان کے والد ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو يعلم المومن ما عند الله من العقوبة ما طمع في الجنة احد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من الجنة احد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه الا من حديث العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنے آپ سے اپنی ذات پر لکھ دیا ( یعنی اپنے آپ پر فرض کر لیا ) کہ میری رحمت میرے غضب ( غصہ ) پر غالب رہے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله حين خلق الخلق كتب بيده على نفسه ان رحمتي تغلب غضبي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے ( میری دعا قبول فرما ) “، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے گی اللہ اسے قبول کر لے گا، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی جائے گی اسے عطا فرما دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی انس سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن ابي الثلج، - رجل من اهل بغداد ابو عبد الله صاحب احمد بن حنبل حدثنا يونس بن محمد، حدثنا سعيد بن زربي، عن عاصم الاحول، وثابت، عن انس، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد ورجل قد صلى وهو يدعو ويقول في دعايه اللهم لا اله الا انت المنان بديع السموات والارض ذا الجلال والاكرام . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تدرون بم دعا الله دعا الله باسمه الاعظم الذي اذا دعي به اجاب واذا سيل به اعطى " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث ثابت عن انس . وقد روي من غير هذا الوجه عن انس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں“، عبدالرحمٰن ( راوی ) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا ( اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ربعی بن ابراہیم اسماعیل بن ابراہیم کے بھائی ہیں اور یہ ثقہ ہیں اور یہ ابن علیہ ۱؎ ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجلس میں آدمی ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو درود بھیج دے تو اس مجلس میں چاہے جتنی بار آپ کا نام آئے ایک بار درود بھیج دینا ہر بار کے لیے کافی ہو گا ( یعنی ہر بار درود بھیجنا ضروری نہ ہو گا ) ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، حدثنا ربعي بن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رغم انف رجل ذكرت عنده فلم يصل على ورغم انف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل ان يغفر له ورغم انف رجل ادرك عنده ابواه الكبر فلم يدخلاه الجنة " . قال عبد الرحمن واظنه قال او احدهما . قال وفي الباب عن جابر وانس وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وربعي بن ابراهيم هو اخو اسماعيل بن ابراهيم وهو ثقة وهو ابن علية . ويروى عن بعض اهل العلم قال اذا صلى الرجل على النبي صلى الله عليه وسلم مرة في المجلس اجزا عنه ما كان في ذلك المجلس
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وزياد بن ايوب، قالا حدثنا ابو عامر العقدي، عن سليمان بن بلال، عن عمارة بن غزية، عن عبد الله بن علي بن حسين بن علي بن ابي طالب، عن ابيه، عن حسين بن علي بن ابي طالب، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البخيل الذي من ذكرت عنده فلم يصل على " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ”اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، عن الحسن بن عبيد الله، عن عطاء بن السايب، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے ( گویا ) رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے، اور اللہ سے مانگی جانے والی چیزوں میں سے جسے وہ دے اس سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں کہ اس سے عافیت مانگی جائے“،
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا يزيد بن هارون، عن عبد الرحمن بن ابي بكر القرشي المليكي، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فتح له منكم باب الدعاء فتحت له ابواب الرحمة وما سيل الله شييا يعني احب اليه من ان يسال العافية " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل فعليكم عباد الله بالدعاء " . قال هذا حديث غريب . لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن ابي بكر القرشي وهو المكي المليكي وهو ضعيف في الحديث ضعفه بعض اهل العلم من قبل حفظه . وقد روى اسراييل، هذا الحديث عن عبد الرحمن بن ابي بكر، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما سيل الله شييا احب اليه من العافية
یہ حدیث اسرائیل نے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے“۔
حدثنا بذلك القاسم بن دينار الكوفي حدثنا اسحاق بن منصور الكوفي عن اسراييل بهذا . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو النضر، حدثنا بكر بن خنيس، عن محمد القرشي، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن بلال، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عليكم بقيام الليل فانه داب الصالحين قبلكم وان قيام الليل قربة الى الله ومنهاة عن الاثم وتكفير للسييات ومطردة للداء عن الجسد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث بلال الا من هذا الوجه ولا يصح من قبل اسناده . قال سمعت محمد بن اسماعيل يقول محمد القرشي هو محمد بن سعيد الشامي وهو ابن ابي قيس وهو محمد بن حسان وقد ترك حديثه . وقد روى هذا الحديث معاوية بن صالح عن ربيعة بن يزيد عن ابي ادريس الخولاني عن ابي امامة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " عليكم بقيام الليل فانه داب الصالحين قبلكم وهو قربة الى ربكم ومكفرة للسييات ومنهاة للاثم " . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث ابي ادريس عن بلال
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر بن حبيش، قال اتيت صفوان بن عسال المرادي اساله عن المسح، على الخفين فقال ما جاء بك يا زر فقلت ابتغاء العلم فقال ان الملايكة تضع اجنحتها لطالب العلم رضا بما يطلب . قلت انه حك في صدري المسح على الخفين بعد الغايط والبول وكنت امرا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فجيت اسالك هل سمعته يذكر في ذلك شييا قال نعم كان يامرنا اذا كنا سفرا او مسافرين ان لا ننزع خفافنا ثلاثة ايام ولياليهن الا من جنابة لكن من غايط وبول ونوم . فقلت هل سمعته يذكر في الهوى شييا قال نعم كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فبينا نحن عنده اذ ناداه اعرابي بصوت له جهوري يا محمد . فاجابه رسول الله صلى الله عليه وسلم على نحو من صوته هاوم وقلنا له ويحك اغضض من صوتك فانك عند النبي صلى الله عليه وسلم وقد نهيت عن هذا . فقال والله لا اغضض . قال الاعرابي المرء يحب القوم ولما يلحق بهم . قال النبي صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب يوم القيامة " . فمازال يحدثنا حتى ذكر بابا من قبل المغرب مسيرة عرضه او يسير الراكب في عرضه اربعين او سبعين عاما قال سفيان قبل الشام خلقه الله يوم خلق السموات والارض مفتوحا يعني للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح