احادیث
#3536
سنن ترمذی - Supplication
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی الله عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ ”فرشتے طالب علم کے کام ( و مقصد ) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں ( یا سفر کرنے والے ہوں ) تو ہمیں حکم دیا گیا کہ ”ہم تین دن تک اپنے موزے پیروں سے نہ نکالیں، سوائے جنابت کی صورت میں، پاخانہ کر کے آئے ہوں یا پیشاب کر کے، یا سو کر اٹھے ہوں تو موزے نہ نکالیں“۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو محبت و چاہت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات یا دہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو آپ کو ایک آدمی نے جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا اور گنوار، بیوقوف اور سخت مزاج تھا، بلند آواز سے پکارا، کہا: یا محمد! یا محمد! لوگوں نے اس سے کہا: ٹھہر، ٹھہر، اس طرح پکارنے سے تمہیں روکا گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کی طرح بھاری اور بلند آواز میں جواب دیا: ”بڑھ آ، بڑھ آ، آ جا آ جا“ ( وہ جب قریب آ گیا ) تو بولا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے درجے تک نہیں پہنچا ہوتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا“۔ زر کہتے ہیں: وہ مجھ سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ”اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج ادھر سے نکلنے لگے ( یعنی قیامت تک ) اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: «يوم يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها» ”جس دن کہ تیرے رب کی بعض آیات کا ظہور ہو گا اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان کام نہ دے گا“ ( الأنعام: ۱۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن زر بن حبيش، قال اتيت صفوان بن عسال المرادي فقال لي ما جاء بك قلت ابتغاء العلم . قال بلغني ان الملايكة تضع اجنحتها لطالب العلم رضا بما يفعل . قال قلت انه حاك او قال حك في نفسي شيء من المسح على الخفين فهل حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه شييا قال نعم كنا اذا كنا سفرا او مسافرين امرنا ان لا نخلع خفافنا ثلاثا الا من جنابة ولكن من غايط وبول ونوم . قال فقلت فهل حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في الهوى شييا قال نعم كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فناداه رجل كان في اخر القوم بصوت جهوري اعرابي جلف جاف فقال يا محمد يا محمد . فقال له القوم مه انك قد نهيت عن هذا . فاجابه رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوا من صوته هاوم فقال الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب " . قال زر فما برح يحدثني حتى حدثني ان الله جعل بالمغرب بابا عرضه مسيرة سبعين عاما للتوبة لا يغلق حتى تطلع الشمس من قبله وذلك قول الله عز وجل : ( يوم ياتي بعض ايات ربك لا ينفع نفسا ايمانها ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Supplication
- Hadith Index
- #3536
- Book Index
- 167
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan Isnaad
- Al-AlbaniHasan Isnaad
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
