Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر ( سال ) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے یعنی محمد بن عمرو کی روایت سے جسے وہ ابی سلمہ سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۲- ہم ( ابوسلمہ کی ) اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثني عبد الرحمن بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعمار امتي ما بين ستين الى سبعين واقلهم من يجوز ذلك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد روي عن ابي هريرة من غير هذا الوجه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» ”اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اے اللہ! تو میری تائید و نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی تائید و نصرت نہ فرما، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ فرما، اور اے اللہ! تو مجھے ہدایت بخش اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما، اور اے اللہ! میری مدد فرما اس شخص کے مقابل میں جو میرے خلاف بغاوت و سرکشی کرے، اے میرے رب! تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار بندہ بنا لے، اپنا بہت زیادہ یاد و ذکر کرنے والا بنا لے، اپنے سے بہت ڈرنے والا بنا دے، اپنی بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بنا دے، اور اپنے سامنے عاجزی و فروتنی کرنے والا بنا دے، اور اپنے سے درد و اندوہ بیان کرنے اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہ دھو دے، اور میری دعا قبول فرما، اور میری حجت ( میری دلیل ) کو ثابت و ٹھوس بنا دے، اور میری زبان کو ٹھیک بات کہنے والی بنا دے، میرے دل کو ہدایت فرما، اور میرے سینے سے کھوٹ کینہ حسد نکال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان الثوري، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن الحارث، عن طليق بن قيس، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو يقول " رب اعني ولا تعن على وانصرني ولا تنصر على وامكر لي ولا تمكر على واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى على رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطواعا لك مخبتا اليك اواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي واجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال محمود بن غيلان وحدثنا محمد بن بشر العبدي، عن سفيان الثوري، بهذا الاسناد نحوه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کے خلاف بد دعا کی تو اس نے اس سے بدلہ لے لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے حمزہ کی روایت سے جانتے ہیں اور حمزہ کے بارے میں بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، اور یہ میمون الاعور ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي حمزة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دعا على من ظلمه فقد انتصر " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابي حمزة . وقد تكلم بعض اهل العلم في ابي حمزة من قبل حفظه وهو ميمون الاعور . حدثنا قتيبة، حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي، عن ابي الاحوص، عن ابي حمزة، بهذا الاسناد نحوه
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دس بار: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں اسی کے لیے ہے ملک ( بادشاہت ) اسی کے لیے ہے ساری تعریفیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“، کہا تو یہ ( اس کا اجر ) اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا“ ۱؎۔ یہ حدیث ابوایوب رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی روایت ہوئی ہے۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، قال واخبرني سفيان الثوري، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن الشعبي، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال عشر مرات لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير . كانت له عدل اربع رقاب من ولد اسماعيل " . قال وقد روي هذا الحديث عن ابي ايوب موقوفا
کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں کہ میں نے صفیہ رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیوں کی ڈھیر تھی، میں ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، میں نے کہا: میں نے ان کے ذریعہ تسبیح پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تسبیح کا طریقہ بتا دوں جتنی تو نے پڑھی ہیں؟“ میں نے کہا: ( ضرور ) مجھے بتائیے، تو آپ نے فرمایا: «سبحان الله عدد خلقه» ”میں تیری مخلوقات کی تعداد کے برابر تیری تسبیح بیان کرتی ہوں“، پڑھ لیا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صفیہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ہاشم بن سعید کوفی کی روایت سے اور اس کی سند معروف نہیں ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا هاشم، وهو ابن سعيد الكوفي حدثني كنانة، مولى صفية قال سمعت صفية، تقول دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين يدى اربعة الاف نواة اسبح بها فقلت لقد سبحت بهذه . فقال " الا اعلمك باكثر مما سبحت به " . فقلت بلى علمني . فقال " قولي سبحان الله عدد خلقه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث صفية الا من هذا الوجه من حديث هاشم بن سعيد الكوفي وليس اسناده بمعروف . وفي الباب عن ابن عباس
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ ( اس وقت ) اپنی مسجد میں تھیں ( جہاں وہ باقاعدہ گھر میں نماز پڑھتی تھیں ) ، دوپہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے پھر گزر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تب سے تم اسی حال میں ہو؟ ( یعنی اسی وقت سے اس وقت تک تم ذکرو تسبیح ہی میں بیٹھی ہو ) انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں چند کلمے ایسے نہ سکھا دوں جنہیں تم کہہ لیا کرو۔ ( اور پھر پورا ثواب پاؤ ) وہ کلمے یہ ہیں: «سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله عدد خلقه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله رضا نفسه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله زنة عرشه، سبحان الله مداد كلماته، سبحان الله مداد كلماته، سبحان الله مداد كلماته» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ مدینہ کے رہنے والے شیخ ہیں اور ثقہ ہیں، یہ حدیث مسعودی اور ثوری نے بھی ان سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن محمد بن عبد الرحمن، قال سمعت كريبا، يحدث عن ابن عباس، عن جويرية بنت الحارث، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر عليها وهي في مسجد ثم مر النبي صلى الله عليه وسلم بها قريبا من نصف النهار فقال لها " ما زلت على حالك " . فقالت نعم . قال " الا اعلمك كلمات تقولينها سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومحمد بن عبد الرحمن هو مولى ال طلحة وهو شيخ مدني ثقة وقد روى عنه المسعودي وسفيان الثوري هذا الحديث
سلمان فارسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ «حيي كريم» ہے یعنی زندہ و موجود ہے اور شریف ہے اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ جب کوئی آدمی اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض دوسروں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، قال انبانا جعفر بن ميمون، صاحب الانماط عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان الفارسي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله حيي كريم يستحي اذا رفع الرجل اليه يديه ان يردهما صفرا خايبتين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ورواه بعضهم ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ”ایک سے ایک سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا محمد بن عجلان، عن القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رجلا، كان يدعو باصبعيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احد احد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ومعنى هذا الحديث اذا اشار الرجل باصبعيه في الدعاء عند الشهادة لا يشير الا باصبع واحدة
رفاعہ بن رافع انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ منبر پر چڑھے، اور روئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال منبر پر چڑھے، روئے، پھر کہا: اللہ سے ( گناہوں سے ) عفو و درگزر اور مصیبتوں اور گمراہیوں سے عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کی سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا زهير، وهو ابن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل، ان معاذ بن رفاعة، اخبره عن ابيه، قال قام ابو بكر الصديق على المنبر ثم بكى فقال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الاول على المنبر ثم بكى فقال " سلوا الله العفو والعافية فان احدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه عن ابي بكر رضى الله عنه
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گناہ کر کے توبہ کر لے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مُصر اور بضد نہیں مانا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابونصیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ۳- اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حدثنا حسين بن يزيد الكوفي، حدثنا ابو يحيى الحماني، حدثنا عثمان بن واقد، عن ابي نصيرة، عن مولى، لابي بكر عن ابي بكر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اصر من استغفر ولو فعله في اليوم سبعين مرة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث ابي نصيرة وليس اسناده بالقوي
ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں“، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا ( اتارا ہوا ) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وسفيان بن وكيع، - المعنى واحد قالا حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا الاصبغ بن زيد، حدثنا ابو العلاء، عن ابي امامة، قال لبس عمر بن الخطاب رضى الله عنه ثوبا جديدا فقال الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي واتجمل به في حياتي . ثم عمد الى الثوب الذي اخلق فتصدق به ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من لبس ثوبا جديدا فقال الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي واتجمل به في حياتي ثم عمد الى الثوب الذي اخلق فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا " . قال هذا حديث غريب . وقد رواه يحيى بن ايوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن ابي امامة
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوج بھیجی تو اس نے بہت ساری غنیمت حاصل کیا اور جلد ہی لوٹ آئی، ( جنگ میں ) نہ جانے والوں میں سے ایک نے کہا: میں نے اس فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں دیکھی جو اس فوج سے زیادہ جلد لوٹ آنے والی اور زیادہ مال غنیمت لے کر آنے والی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے لوگوں کی ایک جماعت نہ بتاؤں جو زیادہ غنیمت والی اور جلد واپس آ جانے والی ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز فجر میں حاضر ہوتے ہیں پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے یہ لوگ ( ان سے ) جلد لوٹ آنے والے اور ( ان سے ) زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حماد بن ابی حمید یہ محمد بن ابی حمید ہیں، اور یہ ابوابراہیم انصاری مدنی ہیں ۱؎۔ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ، قراءة عليه عن حماد بن ابي حميد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعثا قبل نجد فغنموا غنايم كثيرة واسرعوا الرجعة فقال رجل ممن لم يخرج ما راينا بعثا اسرع رجعة ولا افضل غنيمة من هذا البعث . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا ادلكم على قوم افضل غنيمة واسرع رجعة قوم شهدوا صلاة الصبح ثم جلسوا يذكرون الله حتى طلعت عليهم الشمس فاوليك اسرع رجعة وافضل غنيمة " . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وحماد بن ابي حميد هو ابو ابراهيم الانصاري المزني وهو محمد بن ابي حميد المدني وهو ضعيف في الحديث
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے ( اجازت دیتے ہوئے ) کہا: ”اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن سالم، عن ابن عمر، عن عمر، انه استاذن النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فقال " اى اخى اشركنا في دعايك ولا تنسنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب غلام نے ۱؎ ان کے پاس آ کر کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا نہیں کر پا رہا ہوں، آپ ہماری کچھ مدد فرما دیجئیے تو انہوں نے کہا: کیا میں تم کو کچھ ایسے کلمے نہ سکھا دوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے تھے؟ اگر تیرے پاس «صیر» پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو تیری جانب سے اللہ اسے ادا فرما دے گا، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك» ”اے اللہ! تو ہمیں حلال دے کر حرام سے کفایت کر دے، اور اپنے فضل ( رزق، مال و دولت ) سے نواز کر اپنے سوا کسی اور سے مانگنے سے بے نیاز کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يحيى بن حسان، حدثنا ابو معاوية، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن سيار، عن ابي وايل، عن علي، رضى الله عنه ان مكاتبا، جاءه فقال اني قد عجزت عن كتابتي فاعني . قال الا اعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كان عليك مثل جبل صير دينا اداه الله عنك قال " قل اللهم اكفني بحلالك عن حرامك واغنني بفضلك عمن سواك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے رب! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے کہا“ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا: «اللهم عافه أو اشفه» ”اے اللہ! انہیں عافیت دے، یا شفاء دے“، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن علي، قال كنت شاكيا فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اقول اللهم ان كان اجلي قد حضر فارحني وان كان متاخرا فارفغني وان كان بلاء فصبرني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف قلت " . قال فاعاد عليه ما قال قال فضربه برجله فقال " اللهم عافه او اشفه " . شعبة الشاك . فما اشتكيت وجعي بعد . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا عاد مريضا قال " اللهم اذهب الباس رب الناس واشف فانت الشافي لا شفاء الا شفاوك شفاء لا يغادر سقما " . قال هذا حديث حسن
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ( نماز ) وتر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث علی کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، یعنی حماد ابن سلمہ کی روایت سے۔ فائدہ ۱؎: ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری ثناء ( تعریف ) کا احاطہٰ و شمار نہیں کر سکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن هشام بن عمرو الفزاري، عن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في وتره " اللهم اني اعوذ برضاك من سخطك واعوذ بمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك " . قال هذا حديث حسن غريب من حديث علي لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث حماد بن سلمة
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ ( وہ کلمے یہ تھے ) : «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ذلیل ترین عمر سے ( یعنی اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوس کچھ نہ رہ جائے ) اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی اس حدیث میں اضطرب کا شکار تھے، کبھی کہتے تھے: روایت ہے عمرو بن میمون سے اور وہ روایت کرتے ہیں عمر سے، اور کبھی کسی اور سے کہتے اور اس روایت میں اضطراب کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا زكريا بن عدي، حدثنا عبيد الله، هو ابن عمرو الرقي عن عبد الملك بن عمير، عن مصعب بن سعد، وعمرو بن ميمون، قال كان سعد يعلم بنيه هولاء الكلمات كما يعلم المكتب الغلمان ويقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ بهن دبر الصلاة " اللهم اني اعوذ بك من الجبن واعوذ بك من البخل واعوذ بك من ارذل العمر واعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر " . قال عبد الله بن عبد الرحمن ابو اسحاق الهمداني مضطرب في هذا الحديث يقول عن عمرو بن ميمون عن عمر ويقول عن غيره ويضطرب فيه قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح من هذا الوجه
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، ان کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے آسان طریقہ نہ بتا دوں؟ یا اس سے افضل و بہتر طریقہ نہ بتا دوں؟ ( کہ ثواب میں بھی زیادہ رہے اور لمبی چوڑی گنتی کرنے سے بھی بچا رہے ) وہ یہ ہے: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء، وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض، وسبحان الله عدد ما بين ذلك، وسبحان الله عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ”پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے آسمان میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے زمین میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ ان دونوں کے درمیان چیزیں ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ وہ ( آئندہ ) پیدا کرنے والا ہے، اور ایسے ہی اللہ کی بڑائی ہے اور ایسے ہی اللہ کے لیے حمد ہے اور ایسے ہی لا حول ولا قوۃ ہے، ( یعنی اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سعد کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا اصبغ بن الفرج، اخبرني عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، انه اخبره عن سعيد بن ابي هلال، عن خزيمة، عن عايشة بنت سعد بن ابي وقاص، عن ابيها، انه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على امراة وبين يديها نوى او قال حصى تسبح به فقال " الا اخبرك بما هو ايسر عليك من هذا او افضل سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الارض وسبحان الله عدد ما بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله اكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك ولا حول ولا قوة الا بالله مثل ذلك " . قال وهذا حديث حسن غريب من حديث سعد
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملك القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الله بن نمير، وزيد بن حباب، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن ثابت، عن ابي حكيم، خطمي مولى الزبير عن الزبير بن العوام، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من صباح يصبح العباد فيه الا ومناد ينادي سبحوا الملك القدوس " . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب