Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: «سوف أستغفر لكم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے ( پہر ) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک ( مفصل ) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں صلاۃ پر ( درود ) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو: «اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني أن أتلوه على النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تنور بكتابك بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تغسل به بدني فإنه لا يعينني على الحق غيرك ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر ( اچھی نظر ) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال ( رعب و داب والے ) اکرام ( عزت و بزرگی والے ) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور چہرے کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب ( قرآن پاک ) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ( جاہ ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ ( تمنا اور خواہش ) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے ( مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہو جائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے ( میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں ) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے ( میں پاک و صاف رہنے لگوں ) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی“۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کر لی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا، عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! علی رضی الله عنہ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے ( اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں ) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن جريج، عن عطاء بن ابي رباح، وعكرمة، مولى ابن عباس عن ابن عباس، انه قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه علي بن ابي طالب فقال بابي انت وامي تفلت هذا القران من صدري فما اجدني اقدر عليه . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا الحسن افلا اعلمك كلمات ينفعك الله بهن وينفع بهن من علمته ويثبت ما تعلمت في صدرك " . قال اجل يا رسول الله فعلمني . قال " اذا كان ليلة الجمعة فان استطعت ان تقوم في ثلث الليل الاخر فانها ساعة مشهودة والدعاء فيها مستجاب وقد قال اخي يعقوب لبنيه : (سوف استغفر لكم ربي ) يقول حتى تاتي ليلة الجمعة فان لم تستطع فقم في وسطها فان لم تستطع فقم في اولها فصل اربع ركعات تقرا في الركعة الاولى بفاتحة الكتاب وسورة يس وفي الركعة الثانية بفاتحة الكتاب و( حم ) الدخان وفي الركعة الثالثة بفاتحة الكتاب والم تنزيل السجدة وفي الركعة الرابعة بفاتحة الكتاب وتبارك المفصل فاذا فرغت من التشهد فاحمد الله واحسن الثناء على الله وصل على واحسن وعلى ساير النبيين واستغفر للمومنين والمومنات ولاخوانك الذين سبقوك بالايمان ثم قل في اخر ذلك اللهم ارحمني بترك المعاصي ابدا ما ابقيتني وارحمني ان اتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والارض ذا الجلال والاكرام والعزة التي لا ترام اسالك يا الله يا رحمن بجلالك ونور وجهك ان تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني ان اتلوه على النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والارض ذا الجلال والاكرام والعزة التي لا ترام اسالك يا الله يا رحمن بجلالك ونور وجهك ان تنور بكتابك بصري وان تطلق به لساني وان تفرج به عن قلبي وان تشرح به صدري وان تغسل به بدني لانه لا يعينني على الحق غيرك ولا يوتيه الا انت ولا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم يا ابا الحسن تفعل ذلك ثلاث جمع او خمس او سبع تجاب باذن الله والذي بعثني بالحق ما اخطا مومنا قط " . قال عبد الله بن عباس فوالله ما لبث علي الا خمسا او سبعا حتى جاء علي رسول الله صلى الله عليه وسلم في مثل ذلك المجلس فقال يا رسول الله اني كنت فيما خلا لا اخذ الا اربع ايات او نحوهن واذا قراتهن على نفسي تفلتن وانا اتعلم اليوم اربعين اية او نحوها واذا قراتها على نفسي فكانما كتاب الله بين عينى ولقد كنت اسمع الحديث فاذا رددته تفلت وانا اليوم اسمع الاحاديث فاذا تحدثت بها لم اخرم منها حرفا . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " مومن ورب الكعبة يا ابا الحسن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الوليد بن مسلم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے ( کہ اس دعا کے اثر سے ) کشادگی ( اور خوش حالی ) کا انتظار کیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے، ۲- حماد بن واقد یہ صفار ہیں، حافظ نہیں ہیں، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں، ۳- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي البصري، حدثنا حماد بن واقد، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سلوا الله من فضله فان الله عز وجل يحب ان يسال وافضل العبادة انتظار الفرج " . قال ابو عيسى هكذا روى حماد بن واقد هذا الحديث وقد خولف في روايته . وحماد بن واقد هذا هو الصفار ليس بالحافظ وهو عندنا شيخ بصري . وروى ابو نعيم هذا الحديث عن اسراييل عن حكيم بن جبير عن رجل عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل وحديث ابي نعيم اشبه ان يكون اصح
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے“، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن زيد بن ارقم، رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من الكسل والعجز والبخل " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يتعوذ من الهرم وعذاب القبر . قال هذا حديث حسن صحيح
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو گناہ اور قطع رحمی کی دعا کو چھوڑ کر کوئی بھی دعا کرتا ہو اور اللہ اسے وہ چیز نہ دیتا ہو، یا اس کے بدلے اس کے برابر کی اس کی کوئی برائی ( کوئی مصیبت ) دور نہ کر دیتا ہو“، اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب ( بہت ) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، اخبرنا محمد بن يوسف، عن ابن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، ان عبادة بن الصامت، حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما على الارض مسلم يدعو الله بدعوة الا اتاه الله اياها او صرف عنه من السوء مثلها ما لم يدع بماثم او قطيعة رحم " . فقال رجل من القوم اذا نكثر . قال " الله اكثر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وابن ثوبان هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان العابد الشامي
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر ( یہ ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا جرير، عن منصور، عن سعد بن عبيدة، حدثني البراء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اخذت مضجعك فتوضا وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الايمن ثم قل اللهم اسلمت وجهي اليك وفوضت امري اليك والجات ظهري اليك رهبة ورغبة اليك لا ملجا ولا منجا منك الا اليك امنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت . فان مت في ليلتك مت على الفطرة " . قال فرددتهن لاستذكره فقلت امنت برسولك الذي ارسلت فقال " قل امنت بنبيك الذي ارسلت " . قال وهذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن البراء ولا نعلم في شيء من الروايات ذكر الوضوء الا في هذا الحديث
عبداللہ بن خبیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چنانچہ میں آپ کو پا گیا، آپ نے فرمایا: ”کہو ( پڑھو ) “، تو میں نے کچھ نہ کہا: ”کہو“ آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، ( کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟ ) آپ نے پھر فرمایا: ”کہو“، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ ( سورتیں ) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوسعید براد: یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن اسماعيل بن ابي فديك، حدثنا ابن ابي ذيب، عن ابي سعيد البراد، عن معاذ بن عبد الله بن خبيب، عن ابيه، قال خرجنا في ليلة مطيرة وظلمة شديدة نطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي لنا - قال - فادركته فقال " قل " . فلم اقل شييا ثم قال " قل " . فلم اقل شييا . قال " قل " . قلت ما اقول قال " قل : ( هو الله احد ) والمعوذتين حين تمسي وتصبح ثلاث مرات تكفيك من كل شيء " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وابو سعيد البراد هو اسيد بن ابي اسيد مدني
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے باپ کے پاس آئے، ہم نے آپ کے کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کھایا، پھر آپ کے لیے کچھ کھجوریں لائی گئیں، تو آپ کھجوریں کھانے اور گھٹلی اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی ( شہادت اور بیچ کی انگلی سے ( دونوں کو ملا کر ) پھینکتے جاتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: جو میں کہہ رہا ہوں وہ میرا گمان و خیال ہے، اللہ نے چاہا تو صحیح ہو گا، آپ دونوں انگلیوں کے بیچ میں گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے تھے، پھر آپ کے سامنے پینے کی کوئی چیز لائی گئی تو آپ نے پی اور اپنے دائیں جانب ہاتھ والے کو تھما دیا ( جب آپ چلنے لگے تو ) آپ کی سواری کی لگام تھامے تھامے میرے باپ نے آپ سے عرض کیا، آپ ہمارے لیے دعا فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں بخش دے اور ان پر رحمت نازل فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی یہ حدیث عبداللہ بن بسر سے آئی ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير الشامي، عن عبد الله بن بسر، قال نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابي فقربنا اليه طعاما فاكل منه ثم اتي بتمر فكان ياكل ويلقي النوى باصبعيه جمع السبابة والوسطى قال شعبة وهو ظني فيه ان شاء الله فالقى النوى بين اصبعين ثم اتي بشراب فشربه ثم ناوله الذي عن يمينه قال فقال ابي واخذ بلجام دابته ادع لنا . فقال " اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم " . قال هذا حديث حسن صحيح . وقد روي ايضا من غير هذا الوجه عن عبد الله بن بسر
زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص کہے: «أستغفر الله العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» ”میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اگرچہ وہ لشکر ( و فوج ) سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حفص بن عمر الشني، حدثني ابي عمر بن مرة، قال سمعت بلال بن يسار بن زيد، مولى النبي صلى الله عليه وسلم حدثني ابي عن جدي سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من قال استغفر الله العظيم الذي لا اله الا هو الحى القيوم واتوب اليه . غفر له وان كان فر من الزحف " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند ) ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ۲- اور ابوجعفر خطمی ہیں ۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي جعفر، عن عمارة بن خزيمة بن ثابت، عن عثمان بن حنيف، ان رجلا، ضرير البصر اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ادع الله ان يعافيني . قال " ان شيت دعوت وان شيت صبرت فهو خير لك " . قال فادعه . قال فامره ان يتوضا فيحسن وضوءه ويدعو بهذا الدعاء " اللهم اني اسالك واتوجه اليك بنبيك محمد نبي الرحمة اني توجهت بك الى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه في " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث ابي جعفر وهو غير الخطمي وعثمان بن حنيف هو اخو سهل بن حنيف
عمرو بن عنبسہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رب تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتا ہے، تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہو کر ان لوگوں میں سے ہو جاؤ ( یعنی تہجد پڑھو ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا اسحاق بن عيسى، حدثني معن، حدثني معاوية بن صالح، عن ضمرة بن حبيب، قال سمعت ابا امامة، رضي الله عنه يقول حدثني عمرو بن عبسة، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اقرب ما يكون الرب من العبد في جوف الليل الاخر فان استطعت ان تكون ممن يذكر الله في تلك الساعة فكن " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
عمارہ بن زعکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل ( دشمن ) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور روایت نہیں جانتے، ۲- اللہ کے قول «وهو ملاق قرنه» کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور ایسی گھڑی میں بھی وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔
حدثنا ابو الوليد الدمشقي، احمد بن عبد الرحمن بن بكار حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عفير بن معدان، انه سمع ابا دوس اليحصبي، يحدث عن ابن عايذ اليحصبي، عن عمارة بن زعكرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله عز وجل يقول ان عبدي كل عبدي الذي يذكرني وهو ملاق قرنه " . يعني عند القتال . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه ليس اسناده بالقوي . - ولا نعرف لعمارة بن زعكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الا هذا الحديث الواحد . ومعنى قوله وهو ملاق قرنه . انما يعني عند القتال يعني ان يذكر الله في تلك الساعة
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ ( سعد بن عبادہ ) نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کر دیا، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے ( مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتا دوں“، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت منصور بن زاذان، يحدث عن ميمون بن ابي شبيب، عن قيس بن سعد بن عبادة، ان اباه، دفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم يخدمه . قال فمر بي النبي صلى الله عليه وسلم وقد صليت فضربني برجله وقال " الا ادلك على باب من ابواب الجنة " . قلت بلى . قال " لا حول ولا قوة الا بالله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
صفوان بن سلیم کہتے ہیں کہ کوئی بھی فرشتہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے بغیر زمین سے نہیں اٹھتا ( نہیں اڑتا ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن صفوان بن سليم، قال ما نهض ملك من الارض حتى قال لا حول ولا قوة الا بالله
حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی یسیرہ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو ۱؎ اور انگلیوں پر ( تسبیحات وغیرہ کو ) گنا کرو، کیونکہ ان سے ( قیامت میں ) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کر دی جائے گی، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ ( اللہ کی ) رحمت کو بھول بیٹھو“۔ امام ترمذی کہتے: ہم اس حدیث کو صرف ہانی بن عثمان کی روایت سے جانتے ہیں اور محمد بن ربیعہ نے بھی ہانی بن عثمان سے روایت کی ہے۔
حدثنا موسى بن حزام، وعبد بن حميد، وغير، واحد، قالوا حدثنا محمد بن بشر، فقال سمعت هاني بن عثمان، عن امه، حميضة بنت ياسر عن جدتها، يسيرة وكانت من المهاجرات قالت قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس واعقدن بالانامل فانهن مسيولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسين الرحمة " . قال هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث هاني بن عثمان وقد روى محمد بن ربيعة عن هاني بن عثمان
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کرتے ( لڑتے ) تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت عضدي وأنت نصيري وبك أقاتل» ”اے اللہ! تو میرا بازو ہے، تو ہی میرا مددگار ہے اور تیرے ہی سہارے میں لڑتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور «عضدی» کے معنی ہیں تو میرا مددگار ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، اخبرني ابي، عن المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا غزا قال " اللهم انت عضدي وانت نصيري وبك اقاتل " . قال هذا حديث حسن غريب ومعنى قوله عضدي . يعني عوني
عبداللہ عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک جو کچھ ( بطور ذکر ) کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ( ساری کائنات کی ) بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- حماد بن ابی حمیدیہ محمد بن ابی حمید ہیں اور ان کی کنیت ابوابراہیم انصاری مدنی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
حدثنا ابو عمرو، مسلم بن عمرو الحذاء المديني حدثني عبد الله بن نافع، عن حماد بن ابي حميد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الدعاء دعاء يوم عرفة وخير ما قلت انا والنبيون من قبلي لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وحماد بن ابي حميد هو محمد بن ابي حميد وهو ابو ابراهيم الانصاري المدني وليس هو بالقوي عند اهل الحديث
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» ”اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا علي بن ابي بكر، عن الجراح بن الضحاك الكندي، عن ابي شيبة، عن عبد الله بن عكيم، عن عمر بن الخطاب، قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قل اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم اني اسالك من صالح ما توتي الناس من المال والاهل والولد غير الضال ولا المضل " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وليس اسناده بالقوي
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا سعيد بن سفيان الجحدري، حدثنا عبد الله بن معدان، اخبرني عاصم بن كليب الجرمي، عن ابيه، عن جده، قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي وقد وضع يده اليسرى على فخذه اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى وقبض اصابعه وبسط السبابة وهو يقول " يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه
ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو: «بسم الله أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» ”اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں“۔، پھر ( درد کی جگہ سے ) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق ( تین یا پانچ یا سات ) بار کرو، کیونکہ انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایسا ہی بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد، حدثني ابي، حدثنا محمد بن سالم، حدثنا ثابت البناني، قال قال لي يا محمد اذا اشتكيت فضع يدك حيث تشتكي وقل بسم الله اعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما اجد من وجعي هذا ثم ارفع يدك ثم اعد ذلك وترا فان انس بن مالك حدثني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثه بذلك . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه ومحمد بن سالم هذا شيخ بصري
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی: «اللهم هذا استقبال ليلك واستدبار نهارك وأصوات دعاتك وحضور صلواتك أسألك أن تغفر لي» ”اے اللہ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں ( ایسے وقت میں ) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں۔
حدثنا حسين بن علي بن الاسود البغدادي، حدثنا محمد بن فضيل، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن حفصة بنت ابي كثير، عن ابيها ابي كثير، عن ام سلمة، قالت علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قولي اللهم هذا استقبال ليلك وادبار نهارك واصوات دعاتك وحضور صلواتك اسالك ان تغفر لي " . قال هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه . وحفصة بنت ابي كثير لا نعرفها ولا اباها