Loading...

Loading...
کتب
۲۳۵ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی بندہ خلوص دل سے «لا إله إلا الله» کہے گا اور کبائر سے بچتا رہے گا تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، اور یہ کلمہ «لا إله إلا الله» عرش تک جا پہنچے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا الحسين بن علي بن يزيد الصدايي البغدادي، حدثنا الوليد بن القاسم بن الوليد الهمداني، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما قال عبد لا اله الا الله قط مخلصا الا فتحت له ابواب السماء حتى تفضي الى العرش ما اجتنب الكباير " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من منكرات الأخلاق والأعمال والأهواء» ”اے اللہ! میں تجھ سے بری عادتوں، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- اور زیاد بن علاقہ کے چچا کا نام قطبہ بن مالک ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا احمد بن بشير، وابو اسامة عن مسعر، عن زياد بن علاقة، عن عمه، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من منكرات الاخلاق والاعمال والاهواء " . قال هذا حديث حسن غريب . وعم زياد بن علاقة هو قطبة بن مالك صاحب النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ”اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سنا تو ) پوچھا: ”ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے“۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ فائدہ ۱؎: ”نماز پڑھ رہے تھے“ سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعا ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تقریر ( تصدیق ) کر دی، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا بھی ایک ثناء ہے، امام نسائی دعا ثناء کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ «سبحانک اللہم …» کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن و نوافل سے تعلق رکھتی ہیں، صحیح نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا الحجاج بن ابي عثمان، عن ابي الزبير، عن عون بن عبد الله، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال بينما نحن نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ قال رجل من القوم الله اكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة واصيلا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من القايل كذا وكذا " . فقال رجل من القوم انا يا رسول الله . قال " عجبت لها فتحت لها ابواب السماء " . قال ابن عمر ما تركتهن منذ سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وحجاج بن ابي عثمان هو حجاج بن ميسرة الصواف ويكنى ابا الصلت وهو ثقة عند اهل الحديث
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت کی ( یہاں راوی کو شبہ ہو گیا ) یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے ( اور وہ یہ ہے ) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» ”میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا الجريري، عن ابي عبد الله الجسري، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عاده او ان ابا ذر عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بابي انت يا رسول الله اى الكلام احب الى الله عز وجل قال " ما اصطفى الله لملايكته سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی“، ( یعنی قبول ہو جاتی ہے ) لوگوں نے پوچھا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”دنیا اور آخرت ( دونوں ) میں عافیت مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں عافیت ( یعنی امن و سکون ) مانگو“۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، محمد بن يزيد الكوفي حدثنا يحيى بن اليمان، حدثنا سفيان، عن زيد العمي، عن ابي اياس، معاوية بن قرة عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة " . قالوا فماذا نقول يا رسول الله قال " سلوا الله العافية في الدنيا والاخرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد زاد يحيى بن اليمان في هذا الحديث هذا الحرف قالوا فماذا نقول قال " سلوا الله العافية في الدنيا والاخرة
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے“، ( یعنی ضرور قبول ہوتی ہے۔ ) امام ترمذی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی نے برید بن ابی مریم کوفی سے اور برید کوفی نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، وعبد الرزاق، وابو احمد وابو نعيم عن سفيان، عن زيد العمي، عن معاوية بن قرة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة " . قال ابو عيسى وهكذا روى ابو اسحاق الهمداني هذا الحديث عن بريد بن ابي مريم الكوفي عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا وهذا اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وحدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء اخبرنا ابو معاوية، عن عمر بن راشد، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سبق المفردون " . قالوا وما المفردون يا رسول الله قال " المستهترون في ذكر الله يضع الذكر عنهم اثقالهم فياتون يوم القيامة خفافا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» ”اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے“، کہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان اقول سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر احب الى مما طلعت عليه الشمس " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی: ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، ( دوسرے ) امام عادل، ( تیسرے ) مظلوم، اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور رب کہتا ہے: میری عزت ( قدرت ) کی قسم! میں تیری مدد کروں گا، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- سعدان قمی یہ سعدان بن بشر ہیں، ان سے عیسیٰ بن یونس، ابوعاصم اور کئی بڑے محدثین نے روایت کی ہے ۳- اور ابومجاہد سے مراد سعد طائی ہیں ۴- اور ابومدلہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں ہم انہیں صرف اسی حدیث کے ذریعہ سے جانتے ہیں اور یہی حدیث ان سے اس حدیث سے زیادہ مکمل اور لمبی روایت کی گئی ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن نمير، عن سعدان القبي، عن ابي مجاهد، عن ابي مدلة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا ترد دعوتهم الصايم حتى يفطر والامام العادل ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام ويفتح لها ابواب السماء ويقول الرب وعزتي لانصرنك ولو بعد حين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وسعدان القبي هو سعدان بن بشر . وقد روى عنه عيسى بن يونس وابو عاصم وغير واحد من كبار اهل الحديث وابو مجاهد هو سعد الطايي وابو مدلة هو مولى ام المومنين عايشة وانما نعرفه بهذا الحديث ويروى عنه هذا الحديث اتم من هذا واطول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» ”اے اللہ! مجھے اس علم سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے فائدہ دے اور میرا علم زیادہ کر، ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تعریف ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن نمير، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن ثابت، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله على كل حال واعوذ بالله من حال اهل النار " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: آؤ آؤ یہاں ہے تمہارے مطلب و مقصد کی بات، تو وہ لوگ آ جاتے ہیں، اور انہیں قریبی آسمان تک گھیر لیتے ہیں، اللہ ان سے پوچھتا ہے: ”میرے بندوں کو کیا کام کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: ہم انہیں تیری تعریف کرتے ہوئے تیری بزرگی بیان کرتے ہوئے اور تیرا ذکر کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں، وہ کہتا ہے: ”کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ( یا بن دیکھے ہوئے ہی میری عبادت و ذکر کئے جا رہے ہیں ) “ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، اللہ کہتا ہے: ”اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو کیا صورت و کیفیت ہو گی؟“ وہ جواب دیتے ہیں، وہ لوگ اگر تجھے دیکھ لیں تو وہ لوگ اور بھی تیری تعریف کرنے لگیں، تیری بزرگی بیان کریں گے اور تیرا ذکر بڑھا دیں گے، وہ پوچھتا ہے: ”وہ لوگ کیا چاہتے اور مانگتے ہیں؟“ فرشتے کہتے ہیں: وہ لوگ جنت مانگتے ہیں، اللہ پوچھتا ہے ”کیا ان لوگوں نے جنت دیکھی ہے؟“ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: ”اگر یہ دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی؟“ وہ کہتے ہیں: ان کی طلب اور ان کی حرص اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی، وہ پھر پوچھتا ہے: ”وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں“، وہ کہتے ہیں: جہنم سے، وہ پوچھتا ہے: ”کیا ان لوگوں نے جہنم دیکھ رکھی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: ”اگر یہ لوگ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو گی؟“ وہ کہتے ہیں: اگر یہ جہنم دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ دور بھاگیں گے، زیادہ خوف کھائیں گے اور بہت زیادہ اس سے پناہ مانگیں گے، پھر اللہ کہے گا ”میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کی مغفرت کر دی ہے“، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں خطاکار شخص بھی ہے، ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے نہیں بلکہ کسی ضرورت سے آیا تھا، ( اور بیٹھ گیا تھا ) اللہ فرماتا ہے، ”یہ ایسے ( معزز و مکرم ) لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشیں بھی محروم نہیں رہ سکتا ( ہم نے اسے بھی بخش دیا ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، او عن ابي سعيد الخدري، قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله ملايكة سياحين في الارض فضلا عن كتاب الناس فاذا وجدوا اقواما يذكرون الله تنادوا هلموا الى بغيتكم فيجييون فيحفون بهم الى سماء الدنيا فيقول الله على اى شيء تركتم عبادي يصنعون فيقولون تركناهم يحمدونك ويمجدونك ويذكرونك . قال فيقول فهل راوني فيقولون لا . قال فيقول فكيف لو راوني قال فيقولون لو راوك لكانوا اشد تحميدا واشد تمجيدا واشد لك ذكرا . قال فيقول واى شيء يطلبون قال فيقولون يطلبون الجنة . قال فيقول وهل راوها قال فيقولون لا . قال فيقول فكيف لو راوها قال فيقولون لو راوها كانوا لها اشد طلبا واشد عليها حرصا . قال فيقول من اى شيء يتعوذون قالوا يتعوذون من النار . قال فيقول وهل راوها فيقولون لا . فيقول فكيف لو راوها فيقولون لو راوها كانوا منها اشد هربا واشد منها خوفا واشد منها تعوذا . قال فيقول فاني اشهدكم اني قد غفرت لهم . فيقولون ان فيهم فلانا الخطاء لم يردهم انما جاءهم لحاجة . فيقول هم القوم لا يشقى لهم جليس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي عن ابي هريرة من غير هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے“۔ مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من الله إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کر دیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر ( و محتاجی ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن هشام بن الغاز، عن مكحول، عن ابي هريرة، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثر من قول لا حول ولا قوة الا بالله فانها كنز من كنوز الجنة " . قال مكحول فمن قال لا حول ولا قوة الا بالله ولا منجا من الله الا اليه . كشف عنه سبعين بابا من الضر ادناهن الفقر " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بمتصل . مكحول لم يسمع من ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاءاللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہو گا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكل نبي دعوة مستجابة واني اختبات دعوتي شفاعة لامتي وهي نايلة ان شاء الله من مات منهم لا يشرك بالله شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ۱؎، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت ( لوگوں ) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں ( یعنی فرشتوں میں ) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں، اگر کوئی میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کی تفسیر میں اعمش سے مروی ہے کہ اللہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ ”جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں“، اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہوں، ۳- اور اسی طرح بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد جب بندہ میری اطاعت اور میرے مامورات پر عمل کر کے میری قربت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اپنی رحمت و مغفرت لے کر اس کی طرف تیزی سے لپکتا ہوں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابن نمير، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله عز وجل انا عند ظن عبدي بي وانا معه حين يذكرني فان ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي وان ذكرني في ملا ذكرته في ملا خير منهم وان اقترب الى شبرا اقتربت منه ذراعا وان اقترب الى ذراعا اقتربت اليه باعا وان اتاني يمشي اتيته هرولة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى عن الاعمش في تفسير هذا الحديث من تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعا يعني بالمغفرة والرحمة وهكذا فسر بعض اهل العلم هذا الحديث . قالوا انما معناه يقول اذا تقرب الى العبد بطاعتي وما امرت اسرع اليه بمغفرتي ورحمتي . وروي عن سعيد بن جبير، انه قال في هذه الاية : ( فاذكروني اذكركم ) قال اذكروني بطاعتي اذكركم بمغفرتي . حدثنا عبد بن حميد قال حدثنا الحسن بن موسى وعمرو بن هاشم الرملي عن ابن لهيعة عن عطاء بن يسار عن سعيد بن جبير بهذا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استعيذوا بالله من عذاب جهنم واستعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال واستعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات» ”اللہ سے پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو مسیح دجال کے فتنے سے اور اللہ سے پناہ مانگو زندگی اور موت کے فتنے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استعيذوا بالله من عذاب جهنم استعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال واستعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا صالح بن عبد الله، اخبرنا جعفر بن سليمان، عن ثابت البناني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليسال احدكم ربه حاجته حتى يساله الملح وحتى يساله شسع نعله اذا انقطع " . وهذا اصح من حديث قطن عن جعفر بن سليمان
حدثنا يحيى بن موسى، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام بن حسان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يمسي ثلاث مرات اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره حمة تلك الليلة " . قال سهيل فكان اهلنا تعلموها فكانوا يقولونها كل ليلة فلدغت جارية منهم فلم تجد لها وجعا . هذا حديث حسن . وروى مالك بن انس هذا الحديث عن سهيل بن ابي صالح عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وروى عبيد الله بن عمر وغير واحد هذا الحديث عن سهيل ولم يذكروا فيه عن ابي هريرة
حدثنا يحيى بن موسى، اخبرنا وكيع، اخبرنا ابو فضالة الفرج بن فضالة، عن ابي سعيد المقبري، ان ابا هريرة، قال دعاء حفظته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ادعه " اللهم اجعلني اعظم شكرك واكثر ذكرك واتبع نصيحتك واحفظ وصيتك " . هذا حديث غريب
حدثنا يحيى بن موسى، اخبرنا ابو معاوية، اخبرنا الليث، وهو ابن ابي سليم عن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل يدعو الله بدعاء الا استجيب له فاما ان يعجل له في الدنيا واما ان يدخر له في الاخرة واما ان يكفر عنه من ذنوبه بقدر ما دعا ما لم يدع باثم او قطيعة رحم او يستعجل " . قالوا يا رسول الله وكيف يستعجل قال " يقول دعوت ربي فما استجاب لي " . هذا حديث غريب من هذا الوجه
حدثنا يحيى، اخبرنا يعلى بن عبيد، قال اخبرنا يحيى بن عبيد الله، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من عبد يرفع يديه حتى يبدو ابطه يسال الله مسالة الا اتاها اياه ما لم يعجل " . قالوا يا رسول الله وكيف عجلته قال " يقول قد سالت وسالت ولم اعط شييا " . وروى هذا الحديث الزهري عن ابي عبيد مولى ابن ازهر عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يستجاب لاحدكم ما لم يعجل يقول دعوت فلم يستجب لي